1تھِمُتھِیُس2:3میں "ایک بیوی کا شوہر" جملے کا کیا مطلب ہے؟ کیا طلاق یافتہ شخص پاسٹر، ایلڈر، ڈیکن کی خدمات کر سکتا ہے؟


سوال: 1تھِمُتھِیُس2:3میں "ایک بیوی کا شوہر" جملے کا کیا مطلب ہے؟ کیا طلاق یافتہ شخص پاسٹر، ایلڈر، ڈیکن کی خدمات کر سکتا ہے؟

جواب:
1تھِمُتھِیُس2:3میں "ایک بیوی کا شوہر" جملہ کی کم از کم تین ممکنہ تشریحات ہیں۔ (1 اِس سے صرف یہ مراد ہو سکتا ہے کہ ایک کثیر زواجی شخص ایلڈر، ڈیکن، یا پاسٹر بننے کا اہل نہیں ہے۔یہ انگلش میں پیش کردہ اِس جملے کی سب سے زیادہ معقول تشریح ہے، لیکن یہ سمجھتے ہوئے کسی حد تک ناممکن لگتی ہے کہ جب پولُس لکھ رہا تھا تو کثرتِ ازواجی واقعی عام تھی۔ (2 یونانی میں "ایک بیوی کا شوہر" جملے کا لفظی طور پر ترجمہ ہو سکتا ہے، دوسرے الفاظ میں ایک بشپ کو پوری طرح اُس عورت سے وفادار ہونا چاہیے جس سے وہ شادی کرتا ہے۔ یہ تفسیر تسلیم کرتی ہے کہ اصل متن ازواجی حثییت پر توجہ نہیں دیتا بلکہ اخلاقی پاکیزگی پر توجہ دیتا ہے۔ (3 اِس جملے سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ایلڈر، ڈیکن، پاسڑ بننے کے لئے کسی شخص کو صرف ایک بار شادی کرنی چاہیے، دوسرے الفاظ میں، رنڈوے کے دوبارہ شادی شُدہ ہونے کے معاملے کے علاوہ ایک پاسٹر طلاق یافتہ نہیں ہو سکتا۔

دوسری اور تیسری تشریحات آج کے دور میں بہت مقبول ہیں۔ لگتا ہے دوسری تشریح سب سے زیادہ مضبوط، اور بنیادی ہے کیونکہ بائبل کچھ غیر معمولی حالات میں طلاق کی اجازت دیتی ہے (متی1 ;9:19 کرنتھیوں16-12:7)۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ مسیحی بننے سے پہلے طلاق یافتہ ہو کر دوبارہ شادی کرنے والے شخص میں اور مسیحی بننے کے بعد طلاق یافتہ ہو کر دوبارہ شادی کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ ایک قابل شخص خداوند یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ جاننے سے پہلے کے اعمال کی بنا پر چرچ کی قیادت سے خارج نہیں ہونا چاہیے ۔ اگرچہ 1تھِمُتھِیُس2:3 ایک طلاق یافتہ یا دوبارہ شادی شُدہ شخص کو ایلڈر، ڈیکن، پاسٹر کے طور پر خدمت کرنے سے نہیں روکتی ، لیکن غور کرنے کے لئے دیگر مسائل موجود ہیں۔

ایلڈر/ڈیکن/پاسٹر کی پہلی اہلیت "بے الزام" ہونا ہے (1تھِمُتھِیُس 2:3)۔ اگر طلاق یافتہ /دوبارہ شادی شُدہ بائبلی بنیاد نہیں رکھتے، تو پھر اُس شخص نے چرچ اور معاشرے میں اپنی گواہی کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے، "بے الزام" ہونے کی اہلیت "ایک بیوی کا شوہر" ہونے کے مطالبہ کے باوجود اُسے پاسٹرانہ خدمت سے خارج کرے گی۔ ایک ایلڈر/ڈیکن/پاسٹر کو ایسا شخص ہونا چاہیے جسے معاشرہ مسیح کی مانند شخصیت اور خُدا پرست رہنما کی مثال کے طور پر دیکھ سکے۔ اگر طلاق یافتہ یا دوبارہ شادی شُدہ ہونا اِس مثال کے معیار کو کم کر دے، تو اُسے ایلڈر/ڈیکن/پاسٹر کی حثییت سے خدمت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ اگرچہ ایک شخص ایلڈر/ڈیکن/پاسٹر کی خدمت سے نااہل ہو جائے، تو ابھی بھی مسیح کے بدن کا ایک قیمتی رُکن ہے۔ ہر مسیحی روحانی نعمتیں رکھتا ہے (1کرنتھیوں7-4:12) اور اِن نعمتوں کے ساتھ دوسروں کی روحانی ترقی میں حصہ دار بننے کے لئے بُلایا گیا ہے (1کرنتھیوں7:12)۔ ایک شخص جِسے ایلڈر/ڈیکن/پاسٹر کی خدمت سے نااہل کر دیا گیا ہو ، ابھی بھی سکھا سکتا ہے، منادی کر سکتا ہے، پرستش کر سکتا ہے، اور کلیسیا میں اپنا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
1تھِمُتھِیُس2:3میں "ایک بیوی کا شوہر" جملے کا کیا مطلب ہے؟ کیا طلاق یافتہ شخص پاسٹر، ایلڈر، ڈیکن کی خدمات کر سکتا ہے؟