settings icon
share icon
سوال

ماضی میں مَیں چرچ کی طرف سے دلبرداشتہ اور رنجیدہ ہو گیا تھا ۔ مَیں اس احساس پر کیسے قابو پا سکتا ہوں اور چرچ کے لئے اپنے اِس جذبے کی اور گرجا گھر جانے کی خواہش کی تجدید نو کیسے کر سکتا ہوں؟

جواب


چرچ کے باعث ملنے والا دُکھ ایک "خاموش قاتل" ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ الفاظ اور واقعات جنہوں نے آپ کو "دلبرداشتہ "کیا اور آپ کے دل کو ٹھیس پہنچاتے ہیں وہ بہت بُرےنہیں اور عام لوگوں کے علم میں بھی نہیں ہیں۔ بلکہ یہ دل و دماغ اور رُوح پرچھوڑنے والے اپنے اثر کی وجہ سے "خاموش قاتل " کہلاتے ہیں۔ اگر اِس صورتحال سے نمٹا نہ جائے تو یہ مستقبل کی خوشی، مسرت اور فلاح و بہبود کو تباہ کر دے گی۔ ملحقہ نقصان چرچ کی خدمت اور دیگر ایمانداروں تک رسائی کے عمل کو بھی منفی طور پر متاثر کرتا ہے اور کچھ کلیسیائیں تو پھر کبھی بحالی کی طرف آ ہی نہیں پاتیں۔ اس بات کو تسلیم کریں کہ وہ رویہ جو آپ کے دل میں ایسی تباہی لاتا ہے وہ اُس دُکھ سے زیادہ مختلف نہیں ہے جس کا سامنا ہم میں سے ہر کسی کو اپنی نوکری کی جگہ پر ، بازار میں یا اپنے ہی گھر کے اندر ہو سکتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم خُدا کے لوگوں کی طرف سے اُن لوگوں جیسے برتاؤ کی توقع نہیں کرتے جن کی زندگی میں مسیح نہیں ہے۔ تقریباً سبھی اس بات پر متفق ہیں چرچ وہ جگہ ہے جسے محفوظ، قابل ِ قبول ، معاف کرنے والا، اور تنازعات اور دُکھ سے پاک ہونا چاہیے۔ اس کے باوجود زیادہ تر چرچوں میں کسی حد تک جھگڑے، تنازعے،اور نفرت کے کچھ عناصر اس مثالی حالت میں سرایت کر جاتے ہیں کہ وہ چرچ کو داغدار کر دیتے ہیں۔

یہ عمل کچھ چرچوں میں دوسرے چرچوں کی نسبت زیادہ نمایاں طور پر رونما ہوتا ہے۔ چرچ میں لوگوں کی رُوحانی صحت اور قائدانہ قوت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ایسے فرقہ وارانہ رویے پر کیسے اور کس حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگرایسا کوئی رویہ قابو سے باہر ہو تو اُس میں دیمک کی دراندازی کا اثر پیدا ہو جاتا ہےجو آہستہ آہستہ اور یقینی طور پر کسی کلیسیائی جماعت کی رُوحانی زندگی کی بنیاد کو کھوکھلاکر دیتا ہے۔

آپ کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی توجہ کو چرچ اورکسی دُکھ دینے والے معاملے میں شامل لوگوں سے ہٹا کر اپنے درد،اضطراب اور مایوسی کی اصل وجہ کو تلاش کریں۔ ایمانداری سے اِس چیز کی نشاندہی کریں کہ آپ کیا محسوس کر رہے ہیں۔ اگر آپ خود بھی دیگر بیشتر لوگوں کی طرح ہی ہیں تو یہاں پر کچھ چیزوں کے ہونے کے امکانات ہیں: غصہ، غم، مایوسی ، تردید ، دُکھ، حسد، کمزوری، خوف، بغاوت، تکبر،ندامت، شرمندگی، یا نقصان۔ اِس کے برعکس کہ کسی نے آپ کو کیا کہا تھا یا آپ کے ساتھ کیا کِیا تھا ، اِس بات کو معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ آپ کے درد کی اصل وجہ کیا ہے ۔ پھر کلامِ مُقدس میں سے ڈھونڈیں کہ خُدا اِس دُکھ کی وجہ بننے والی چیز کے بارے میں کیا فرماتا ہے۔ بائبل کی امدادی کتب کی مدد سے ہر لفظ اور آیت کو پڑھیں ، غورو خوص کریں، دعا کریں اور اُن کا اپنی زندگی پر اطلاق کریں۔ مثال کے طور پر ہو سکتا ہے کہ آپ یہ سوچیں آپ غصے میں ہیں جبکہ حقیقت میں آپ رد کئے جانے کے احساس میں مبتلا ہوں۔خدا رَد کئے جانے کے بارے میں کیا فرماتا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ " مَیں تجھ سے ہرگز دست بردار نہ ہوں گا اور کبھی تجھے نہ چھوڑوں گا"(عبرانیوں 13باب 5آیت)؛ "خُداوند قدِیم سے مجھ پر ظاہر ہُوا اور کہا کہ مَیں نے تجھ سے ابدی مُحبّت رکھّی اِسی لئے مَیں نے اپنی شفقت تجھ پر بڑھائی" (یرمیاہ 31باب 3آیت)؛ اور "دیکھو مَیں دُنیا کے آخِر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہُوں" (متی 28باب 20آیت)۔

جب آپ اپنے دُکھ کی صحیح معنوں میں پہچان کر لیتے ہیں تو خدا کے پاس آپ کے زخموں کو مندمل کرنے کے لیے حکمت، شفقت اور محبت کامرہم موجود ہے۔ اگر آپ اُسے مدد کے لیے پکارتے ہیں، تو آپ کی توجہ دوسرے لوگوں اور اُن کے اعمال سے ہٹ کر اُس کی ذات پر مرکوز ہوجاتی ہے۔ آپ اس واقعے کو یاد کرنا چھوڑ دیں گے جس سے آپ کو ٹھیس پہنچی ہے ۔ آپ کو واقعی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، زخمی کیا جا سکتا ہے یا ناراض کیا جا سکتا ہے۔ آپ یقیناً اسے محسوس کریں گے۔ وہ احساسات گہری، زیادہ اہم حقیقتوں کی ضمنی پیداوار ہیں جنہوں نے خدا،ُ اس کے چرچ، اور آپ کی زندگی میں اُس کے مقصد کے لیے آپ کے جذبے کو پٹڑی سے اتار دیا ہے۔ اگر اُن پر توجہ نہ دی جائے تو وہ احساسات تلخ مزاجی اور کڑواہٹ کی طرف لے جائیں گے جو آپ کی رُوح کے ہر ریشے کو منفی طور پر متاثر کرے گی اور آپ کو مسیح میں کثرت کی زندگی سے محروم کر دے گی۔ (یوحنا10باب 10آیت)۔ آپ یقیناً نہیں چاہتے کہ آپ کی زندگی میں ایسا ہو۔

ہم تکلیف دہ تجربات کو کیونکر روک سکتے ہیں کہ وہ اپنے تباہ کن اثرا ت کو ہماری رُوح میں نہ منتقل کریں؟ بائبل میں امثال کی کتاب بیا ن کرتی ہے کہ"اپنے دِل کی خُوب حِفاظت کر کیونکہ زِندگی کا سرچشمہ وُہی ہے"(امثال 4باب 23آیت)۔ ہم اپنے خیالات، احساسات، رویوں اور اعمال کا احتیاط کے ساتھ انتخاب کر کے اپنے دلوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ جو کچھ ہوا اس پر توجہ نہ دیتے ہوئے۔ ، جو لوگ آپ کو تکلیف پہنچاتے ہیں اُن پر توجہ نہ دیتے ہوئے اور چرچ کی کمزوریوں پر الزام لگانے سے انکار کرتے ہوئے اپنے دل کی حفاظت کریں۔ تلخی کو ترک کرنے کے لیے حلیمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ "خُدا مغروروں کا مقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو تَوفیق بخشتا ہے"(یعقوب 4باب 6آیت؛ امثال 3باب 34آیت) ۔یہ چیز معافی کے حامل رویوں اور عملی کارکردگی کا تقاضا کرتی ہے(متی 18باب 22آیت؛ مرقس 11باب 27آیت ؛ افسیوں 4باب32آیت؛ افسیوں 3باب 13آیت) ایسے رویے اور کارکردگی جن میں انتقام کا کوئی اثر نہ ہو(رومیوں 12باب 19آیت)۔ عام طور پر اِس کے لیے رُوح القدس کی اُس قوت اور قدرت کی ضرورت ہوتی ہے جو آپ کے اندر اور آپ کے وسیلے سے کام کرتا ہے(افسیوں 3باب 16آیت)۔

خدا کے لوگوں کے بُرے برتاؤ کا الزام اُس پر نہ لگائیں۔ چرچ سے بھی علیحدہ نہ ہوں۔ زیادہ تر گرجا گھروں میں بہت زیادہ وقف شُدہ ، فضل سے بھرے ہوئے، محبت کرنے والے، اور معاف کرنے والے لوگ موجود ہیں، اُن کی تلاش کریں۔ اُن کے ساتھ وقت گزاریں۔ اگر آپ انہیں تلاش نہیں کر سکتے ہیں تو کسی اور چرچ کی تلاش کریں (یہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ آپ چرچ کے انتہائی مشکل ماحول میں بھی ایسے لوگوں کو تلاش نہ کر سکیں)۔ کلیسیا کا قیام خُدا کا اپنا نظریہ ہے اور حالانکہ اُسے بھی بعض اوقات اِس کے رویے سے دُکھ پہنچتا ہے لیکن وہ وفاداری کے ساتھ اِس کی حفاظت کرتا ہے (دیکھیں مکاشفہ 2-3ابواب)۔

آپ امید رکھ سکتے ہیں کیونکہ آپ خُداوند سے شفا کے خواہاں ہیں۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ صحیح کام کریں اور اپنی توجہ اس ذات کی طرف موڑ دیں جو واقعی آپ کی زندگی کو اِس میں آنے والی کسی بھی تکلیف سے بہت بڑھکر تبدیل اور بحال کر دے گا۔ یسوع نے وعدہ کیا ہے کہ "اَے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہُوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ مَیں تم کو آرام دُوں گا۔ میرا جُوا اپنے اُوپر اُٹھا لو اور مجھ سے سیکھو۔ کیونکہ مَیں حلیم ہُوں اور دِل کا فروتن۔ تو تمہاری جانیں آرام پائیں گی۔ کیونکہ میرا جُوا مُلائم ہے اور میرا بوجھ ہلکا" (متی 11باب 28-30آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ماضی میں مَیں چرچ کی طرف سے دلبرداشتہ اور رنجیدہ ہو گیا تھا ۔ مَیں اس احساس پر کیسے قابو پا سکتا ہوں اور چرچ کے لئے اپنے اِس جذبے کی اور گرجا گھر جانے کی خواہش کی تجدید نو کیسے کر سکتا ہوں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries