کیا انسانی روح فانی ہے یا غیر فانی؟



سوال: کیا انسانی روح فانی ہے یا غیر فانی؟

جواب:
انسانی روح بغیر کسی شک کے غیر فانی ہے۔ اِس بات کی تصدیق پرانے عہد نامہ اور نئے عہد نامہ کے بہت سے حوالہ جات سے واضح طور پر ہوتی ہے۔ زبور 22:26؛ 23:6؛ 49:7-9؛ واعظ 12:7؛ دانی ایل 12:2-3؛ متی 25:46؛ اور 1کرنتھیوں 15:12-19۔ دانی ایل 12:2 بیان کرتی ہے، "اور جو خاک میں سو رہے ہیں اُن میں سے بُہتیرے جاگ اُٹھیں گے۔ بعض حیاتِ ابدی کے لئے اور بعض رُسوائی اور ذلتِ ابدی کے لئے"۔ اِسی طرح، خود یسوع نے کہا کہ بدکار "ہمیشہ کی سزا پائیں گے مگر راست باز ہمیشہ کی زندگی" (متی 25:46)۔ "سزا" اور "زندگی" دونوں کو پیش کرنے کے لئے ایک ہی یونانی لفظ استعمال کیا گیا ہے، جو واضح کرتا ہے کہ راستباز اور شریر دونوں ابدی/غیر فانی روح رکھتے ہیں۔

بائبل کی لاخطا تعلیم یہ ہے کہ تمام لوگ خواہ نجات یافتہ ہوں یا گنہگار ابد تک یا تو فردوس میں یا جہنم میں موجود رہیں گے۔جب ہمارے جسمانی بدن موت میں سے گزرتے ہیں تو حقیقی زندگی یا روحانی زندگی ختم نہیں ہوتی۔ اگر ہم نجات یافتہ ہیں تو ہماری روحیں فردوس میں خُدا کی حضوری میں ابد تک رہیں گی، اور اگر ہم خُدا کی پیش کردہ نجات کی نعمت کو ردّ کرتے ہیں تو ابد تک جہنم میں سزا اُٹھائیں گے۔ درحقیقت، بائبل کا وعدہ یہی ہے کہ ہماری روحیں نہ صرف ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں گی، بلکہ ہمارے جسم بھی زندہ کئے جائیں گے۔ جسم کی قیامت کی اُمید ہر مسیحی ایماندار کے دلوں میں زندہ ہے (1کرنتھیوں 15:12-19)۔

اگرچہ تمام روحیں غیر فانی ہیں، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہم اُس طور پر ابدی نہیں ہیں جس طور پر خُدا ہے۔ صرف خُدا ہی حقیقی طور پر ازلی ابدی ہستی ہے کیونکہ نہ اُسکا شروع ہے اور نہ آخر۔ خُدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ باقی تمام باشعور مخلوقات، چاہے وہ انسان ہیں یا فرشتگان، محدود ہیں کیونکہ اِن سب کا شروع ہے۔ اگرچہ ایک دفعہ وجود میں آنے کے بعد ہم ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں گے، بائبل اِس تصور کی حمایت نہیں کرتی ہے کہ ہم ہمیشہ سے ہیں۔ ہماری روحیں غیر فانی ہیں، جیسا کہ خدا نے اِن کو پیدا کیا، لیکن اِن کا شروع ہے، ایسا وقت بھی تھا جب اِن کا وجود نہیں تھا۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا انسانی روح فانی ہے یا غیر فانی؟