settings icon
share icon
سوال

انسانی کلوننگ کے بارے میں مسیحی نظریہ کیا ہے؟

جواب


اگرچہ بائبل واضح طور پر انسانی کلوننگ کے بارے میں بیان نہیں کرتی،لیکن بائبل میں ایسے اصول موجود ہیں جو اِس طرزِ فکر پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ کلوننگ میں ڈی۔این۔اے اور ایمبریو خلیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب سے پہلے، کسی مخلوق کے خلیے کے مرکزہ (نیوکلیِس) سے ڈی۔این۔اے کونکالا جاتا ہے۔ پھر کوڈ کی گئی جینیاتی معلومات (کوڈِیڈ جنیٹک انفارمیشن) پر مشتمل مواد کو ایمبیرونک خلیے کے نیوکلیِس میں رکھا جاتا ہے۔ نئی جینیاتی معلومات حاصل کرنے والا خلیہ نئے ڈی۔این۔اے کو قبول کرنے کے لئے اپنے ہی ڈی۔این۔اے کو الگ کرتا ہے۔ اگر سیل نئے ڈی۔این۔اے کو قبول کر لے، تو ایک ڈُپلیکیٹ ایمبریو تشکیل پاتا ہے۔ تاہم ایمبریو خلیہ نئے ڈی۔این۔اے کو مسترد کر سکتا ہے یا مر بھی سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ کافی حد تک اِس بات کا بھی امکان ہوتا ہے کہ ایمبریو اصل جینیاتی مواد کو اُس کے نیوکلیِس سے ہٹانے پر زندہ نہ رہ سکے۔ بہت سے معاملات میں، جب کلوننگ کی کوشش کی جاتی ہے تو نئے جینیاتی مواد کی کامیاب تنصیب کے نرالے پن کو بڑھانے کے لئے بہت سے ایمبریو استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگرچہ ڈُپلیکیٹ مخلوق کا اِس طور پہ پیدا کرنا ممکن ہے (مثال کے طور پر، ڈولی نامی بھیڑ) تاہم بغیر تغیر، اور پیچیدگی کے کسی مخلوق کی کامیاب نقل تیار کرنے کے امکان بہت کم ہوتے ہیں۔

انسانی کلوننگ کے عمل کے بارے میں مسیحی نظریہ بائبل کے کئی اصولوں کی روشنی میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے، انسا ن خُدا کی شبیہ پر خلق ہوئے ہیں اِس لئے یہ منفرد ہیں۔ پیدائش1 باب 26- 27آیات بیان کرتی ہے کہ انسان خُدا کی صورت اور شبیہ پر خلق ہوئے ہیں اِس لئے تمام مخلوقات میں سےمنفرد ہیں۔ واضح طور پر دیکھا جاتا ہے کہ انسانی زندگی قابلِ قدر ہے اور اِس کے ساتھ خرید و فروخت ہونے والی اشیاء کی طرح سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ بعض لوگوں نے انسانی کلوننک کوٹرانسپلانٹ کی ضرورت میں اُن لوگوں کے لئے متبادل اعضاء کوتخلیق کرنے کے مقصد کے لئے فروغ دیا ہے جنہیں کوئی اعضاء عطیہ کرنے والا نہیں مل سکتا۔ سوچ یہ ہے کہ کسی کے اپنے ڈی۔این۔اے کو لے کراُس ڈی۔این۔اے کی مدد سے ایک نقل تیار کرنا جسم کی طرف سے عضو کی نامنظوری کے عمل کے امکانات کو کافی حد تک کم کر دے گا۔ اگرچہ یہ سچ ہو سکتا ہےلیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسا کرنا انسانی زندگی کی قیمت کو گھٹاتا ہے۔ کلوننگ کا عمل انسانی ایمبریو کے استعمال کا مطالبہ کرتا ہے۔ اگرچہ نئے عضو پیدا کرنے کے لئے خُلیات پیدا کئے جا سکتے ہیں، لیکن مطلوبہ ڈی۔این۔اے حاصل کرنے کے لئے کئی ایمبریوز کو قتل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اصل میں کلوننگ ایمبریوز کے مکمل پختگی میں بڑھنے کے امکانات کو ختم کرتے ہوئے "ضائع مواد" کے طور پر بہت سے انسانی ایمبریوز کو "ضائع " کر دے گی۔

بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ زندگی حمل ٹھہرنے کے عمل کے دوران ایمبریو کی تشکیل کے ساتھ شروع نہیں ہوتی، اِس لئے ایمبریوز انسان نہیں ہیں۔ بائبل کی تعلیم اِس سے مختلف ہے۔139 زبور13- 16آیات بیان کرتی ہے، "کیونکہ میرے دل کو تُو ہی نے بنایا۔ میری ماں کے پیٹ میں تُو ہی نے مجھے صورت بخشی۔ مَیں تیرا شکر کروں گا کیونکہ مَیں عجیب و غریب طور سے بنا ہوں تیرے کام حیرت انگیز ہیں میرا دِل اُسے خوب جانتا ہے۔ جب مَیں پوشیدگی میں بن رہا تھا اور زمین کے اسفل میں عجیب طور سے مُرتب ہو رہا تھا تو میرا قالب تجھ سے چھپا نہ تھا۔ تیری آنکھوں نے میرے بے ترتیب مادے کو دیکھا اور جو ایام میرے لئے مقرر تھے وہ سب تیری کتاب میں لکھے تھے جب کہ ایک بھی وجود میں نہ آیا تھا۔" زبور نویس داؤد بیان کرتا ہے کہ اُس کی پیدائش سے پیشتر ہی خُدا اُسے ذاتی طور پر جانتا تھا، مطلب یہ کہ حمل ٹھہرتے وقت سے ہی خُدا کے مقرر کردہ مستقبل کے ساتھ وہ ایک انسان تھا۔

اِس کے علاوہ یسعیاہ49 باب1- 5آیات خُدا کے بارے میں بیان کرتی ہیں کہ خُدا نے یسعیاہ کو نبی کی خدمت کے لئے اُس وقت بُلایا جبکہ وہ ابھی اپنی ماں کے پیٹ میں ہی تھا۔ یوحنا بپتسمہ دینے والا بھی جب اپنی ماں کے پیٹ میں ہی تھا تو اُس وقت وہ رُوح القدس سے معمور ہو گیا(لوقا 1 باب 15آیت)۔ بائبل کی تعلیمات کے مطابق یہ سب باتیں حمل سے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ بائبل کی روشنی میں انسانی کلوننگ چونکہ انسانی ایمبریو کی تباہی کا سبب ہوتی ہے اِس لیے یہ بائبل میں بیان کردہ انسانی زندگی کے نقطہ نظر کے مطابق نہیں ہے۔

مزیدبرآں اگر انسانیت پیدا کی جاتی ہے تو پھر اُسکے خالق کے وجود کی بھی ضرورت ہے اور انسانیت لازمی طور پر اُس کے تابع ہو گی اور اپنے خالق کے آگے جوابدہ ہو گی۔ اگرچہ مقبول سوچ اور سیکولر نفسیاتی اور انسانی نظریے کی بنا ءپر کوئی بھی شخص یہ ایمان رکھ سکتا ہے کہ انسان اپنے سوا کسی اور کے آگے جوابدہ نہیں ہے اور انسان خود ہی حتمی اختیار کا مالک ہے، لیکن بائبل کی تعلیم اِس کے برعکس ہے ۔ خُدا نے انسان کو خلق کیا اور زمین پر اُسے ذمہ داری دی(پیدایش 1 باب 28- 29آیات؛ 9 باب 1- 2آیات )۔ اِس ذمہ داری کے ساتھ انسان خُدا کے آگے جوابدہ بھی ہے۔ انسان خود پر حتمی اختیار نہیں رکھتا، اور اِس لئے اُسکے پاس کوئی حق نہیں ہے کہ وہ انسانی زندگی کی قدر و قیمت کے بارے میں فیصلے کر سکے۔ نہ ہی سائنس کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ انسانی کلوننگ، اسقاطِ حمل یا سہل/رحمدلانہ موت (کسی بیمار یا زخمی انسان کو مارنے کا عمل تاکہ وہ زیادہ تکلیف نہ پائے) کے بارے میں فیصلے کرے۔ بائبل کے مطابق صرف خُدا ہی ہے جو انسانی زندگی پر صحیح طور پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔ ایسی چیزوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار صرف خُدا کے پاس ہے۔ پس یہ بات واضح ہے کہ آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

اگر ہم انسان کو صرف ایک اور مخلوق کے طور پر دیکھتے ہیں اور ایک منفرد تخلیق کے طور پر نہیں دیکھتے جیسا کہ وہ ہے، توپھر انسانوں کو محض ایسی مشینوں کے طور پر دیکھنا مشکل نہیں ہے جنہیں بحالی اور مرمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہم صرف مالیکیولز اور کیمیکل کا مجموعہ نہیں ہیں۔ بائبل سکھاتی ہے کہ خُدا نے ہم سب کو تخلیق کیا اور ہم سب کے بارے میں خُدا ایک خاص منصوبہ رکھتا ہے۔ اِس کے علاوہ، وہ ہم سب میں سے ہر ایک کے ساتھ اپنے بیٹے یسوع مسیح کے وسیلہ سے ذاتی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ انسانی کلوننگ کے کچھ ایسے پہلو ہیں جو فائدہ مند لگتے ہیں، لیکن انسان کو اختیار نہیں کہ کلوننگ ٹیکنالوجی کا استعمال کرے۔ یہ فرض کرنا بے وقوفی ہے کہ صرف اچھے اِرادے کلوننگ کے استعمال کو راست ٹھہرا دیں گے۔ انسان اِس ذمہ داری یا فیصلے کا استعمال کرنے کی حثییت نہیں رکھتا جسکی انسان کی کلوننگ کرنے کے عمل کی سرپرستی کرنے کے لیے ضرورت ہے۔

اکثر پوچھے جانے والا سوال یہ ہے کہ اگر کلوننگ کامیاب ہو جائے تو کیا کلون شُدہ انسان میں رُوح ہو گی۔ پیدائش2باب27 آیت بیان کرتی ہے، "اور خُداوند خُدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اُس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا تو انسان جیتی جان ہوا"۔ اِس وضاحت میں یہاں خُدا ایک زندہ انسانی رُوح تخلیق کر رہا ہے۔ رُوحیں ہم ہیں نہ کہ ہمارے پاس ہیں (1کرنتھیوں15باب45آیت)۔ سوال یہ ہے کہ انسانی کلوننگ کے لئے کس قسم کی رُوح تخلیق کی جائے گی؟ یہ ایسا سوال نہیں ہے جس کا جواب مکمل طور پر دیا جائے۔ ایسا لگتا ہے، اگر انسان کو کامیابی سے کلون کر لیا جائے تو کلون شُدہ انسان بھی ایسا ہو گا جیسا کہ عام انسان اور اُس کے پاس بھی ابدی رُوح ہو گی جیسا کہ دوسرے انسان کے پاس ہوتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

انسانی کلوننگ کے بارے میں مسیحی نظریہ کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries