settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


پورے گھرانے کی نجات سےمُراد پورے خاندان یا گھرانے کا ایک ہی وقت پر نجات پانا ہے۔ اور اِس تصور کے مطابق گھر کے سربراہ کے ایمان کی بنیاد پر سارے خاندان کو نجات ملتی ہے۔ اگر باپ یا گھر کا سربراہ مسیحی ہونے کا اعلان کرتا ہے تو وہ اصل میں ایک مسیحی گھرانے کی صدارت کرتا ہے –اُس کے گھر کے سبھی افراد خود بخود ہی اُس کی طرف سے کئے گئے فیصلے کی بنیاد پر مسیحی بن جاتے ہیں۔ پورے گھرانے کی نجات کے تصور کے مطابق خُدا مسیحی ایمان کا اقرار کرنے والے اُس فرد ہی کو نجات نہیں دیتا بلکہ اُس کے سارے گھرانے کو نجات دیتا ہے۔

پورے گھرانے کی نجات کے بارے میں بائبل کی تعلیمات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اُس تعلیم کو جاننا ضروری ہے جو بائبل عام طور پر نجات کے بارے میں دیتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ نجات کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ ہے یسوع مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لانا (متی 7باب13-14آیات؛ یوحنا 6باب67-68آیات؛ 14باب6آیت؛ اعمال 4باب12آیت؛ افسیوں 2باب8آیت)۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ فرداً فرداً ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے اور ایمان لانے کا عمل شخصی نوعیت کا ہے۔ پس اِس سب کی روشنی میں نجات ہر اُس فرد کو مل سکتی ہے جو شخصی طور پر یسوع پر ایمان لاتا ہے۔ یسوع پر ایمان لانا ایک ایسا عمل ہے جو کوئی باپ اپنے بیٹے یا بیٹی کی جگہ پر نہیں کر سکتا۔ پس کسی خاندان کا ایک فرد یا سربراہ اگر ایمان لے آئے تو یہ کسی بھی صورت میں اِس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ اُس کا سارا گھرانا بھی ایمان لے آئے گا۔

یسوع خود اِس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انجیل کے پیغام کی وجہ سے کئی خاندان تقسیم ہو جاتے ہیں ۔ متی 10باب34-36آیات کے اندر یسوع کہتا ہے کہ " یہ نہ سمجھو کہ مَیں زمین پر صلح کرانے آیا ہُوں ۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوارچلوا نے آیا ہُوں۔کیونکہ مَیں اِس لئے آیا ہُوں کہ آدمی کو اُس کے باپ سے اور بیٹی کو اُس کی ماں سے اور بہُو کو اُس کی ساس سے جُدا کر دُوں۔اور آدمی کے دُشمن اُس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔ " یسوع کے یہ الفاظ مکمل طور پر پورے گھرانے کے ایک ہی فرد کے ایمان لانے کی بدولت نجات کے نظریے کو سبوتاژ کرتے ہیں۔

اگر لوگ شخصی طور پر نجات پاتے ہیں تو پھر ہمیں بائبل کے اندر موجود اُن حوالہ جات کی تفسیر کس طرح سے کرنی چاہیے جو پورے گھرانے کی نجات کا وعدہ کرتے ہیں؟پھر ہم اعمال 11باب14آیت جیسے حوالوں اور نجات پانے کے لیے شخصی طور پر ایمان لانے کی تعلیمات کے درمیان کس طرح سے مطابقت پیدا کر سکتے ہیں؟اِس حوالے میں کرنیلیس کے ساتھ یہ وعدہ کیا جاتا ہے کہ وہ اور اُس کا گھرانا نجات پائے گا۔ سب سے پہلے تو جیسا کہ بائبل کے کسی بھی اور حوالے کے ساتھ کیا جاتا ہے بائبل کے اُس حصے اور اُس کی ادبی صنف کا تعین کرنے کی ضرورت ہے جس میں یہ حوالہ ہمیں ملتا ہے۔ یہ حوالہ اعمال کی کتاب کے اندر ہے جو اپنی ادبی صنف کے لحاظ سے حقیقی واقعات کا تاریخی بیان ہے۔ بائبلی تاریخ کے حوالے سے اِس اصول کو ہمیشہ مدِنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی ایک اصول کا اطلاق ہر طرح کے حالات و معاملات پر نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر سمسون نے غزہ شہر کے پھاٹک کو اُکھاڑا اور وہ اُسے اُٹھا کر پہاڑی پر چڑھ گیا (قضاۃ 16باب3آیت)، لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر ہم اپنے بالوں کو لمبا کر لیں تو ہم بھی سمسون کی طرح ایسی طاقت کا مظاہر ہ کرنے کے قابل ہونگے۔ اعمال 11باب میں جب خُدا کرنیلیس کے ساتھ یہ وعدہ کرتا ہے کہ اُس کا گھرانا نجات پائے گا تو اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اِس کا اطلاق عالمگیر سطح پر ہر ایک دور میں ہر ایک گھرانے پر ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں اعمال 11 باب14آیت میں بیان کردہ وعدہ ایک خاص فرد کے ساتھ ایک خاص وقت پر کیا گیا تھا۔ ہمیں ایسے وعدوں کی تفسیر اور اطلاق عالمگیر سطح پر کرنے کے حوالے سے ہمیشہ ہی محتاط ہونا چاہیے؛ ایسے وعدوں کو اُن کے تاریخی پسِ منظر سے کبھی بھی جُدا نہیں کیا جانا چاہیے۔

دوسرے نمبر پر یہ بات اہم ہے کہ خُدا نے کرنیلیس کے ساتھ اُس وعدے کو کس طرح سے پورا کیا۔ اعمال 10باب میں کرنیلیس نے پطرس کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہا اور اُس کے سامنے بیان کیا کہ "اب ہم سب خُدا کے حضُور حاضِر ہیں ۔" دوسرے الفاظ میں کرنیلیس کا سارا گھرانا وہاں پر جمع تھا تاکہ جو کچھ پطرس اُنہیں سکھائے وہ اُسے پوری طرح سے سُن سکیں۔ اُن سب نے انجیل کے پیغام کو سُنا اور اُن سب نے اُس کے جواب میں مثبت رَدعمل ظاہر کیا۔ کرنیلیس کے گھرانے میں ہر ایک ایمان لایا اور سب نے بپتسمہ لیا (اعمال 11باب15-18آیات)۔ یہ بالکل وہی بات تھی جس کا خُدا نے وعدہ کیا تھا۔ کرنیلیس کے سارے گھرانے نےکرنیلیس کے ایمان لانے سے نجات نہیں پائی تھی بلکہ سارے گھرانے کے ایمان لانے کی وجہ سے سبھوں نے نجات پائی تھی۔

ایک اور حوالہ اعمال 16باب31آیت ہے جس میں پورے گھرانے کی نجات کا وعدہ پایا جاتا ہے۔ یہاں پر فلپی کے قید خانے کا دروغہ پولس اور سیلاس سے پوچھتا ہے کہ " اَے صاحِبو! مَیں کیا کروں کہ نجات پاؤں؟ " اِس پر اُن مشنریوں کی طرف سے اُسے جواب دیا جاتا ہے کہ " خُداوند یِسوع پر اِیمان لا تو تُو اور تیرا گھرانا نجات پائے گا۔ " ایک بار پھر یہ وعدہ ایک مخصوص شخص کے ساتھ ایک مخصوص پسِ منظر میں کیا گیا ہے، بہرحال اِس بیان میں ایک اضافی وعدہ بھی پایا جاتا ہے جو ہر دور اور ہر طرح کے سیاق و سباق کا عالمگیر سطح پر احاطہ کرتا ہے۔ یہ وعدہ گھرانے کی نجات کا نہیں بلکہ یہ وعدہ بائبل کی ہر اُس آیت کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو نجات کے بارے میں بات کرتی ہے۔ وعدہ یہ ہے کہ اگر تم خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لاؤ گے تو "نجات پاؤ گے۔" اُس دورغہ کے خاندان میں بھی نجات اُسی وقت آئی جب اُس سارے گھرانے کے سبھی افراد نے شخصی طور پر خُدا کے پیغام کو سُنا اور ایمان لانے کی صورت میں اپنا رَد عمل ظاہر کیا۔ کلام میں لکھا ہے کہ پولس اور سیلاس نے " اُس کو اور اُس کے سب گھر والوں کو خُداوند کا کلام سُنایا" (اعمال 16باب 32آیت)۔ اُس سارے گھرانےنے انجیل کے پیغام کو سُنا۔ اُن سب لوگوں نے نجات پائی، جیسا کہ خُدا نے وعدہ کیا تھا، لیکن اُن کی نجات اُس دروغہ کے خاندان کے افراد ہونے کی وجہ سے نہیں آئی تھی، اُن سب نے اِس لیے نجات پائی تھی کیونکہ اُنہوں نے انجیل کے پیغام کو سُنا اور پھر اُس پر ایمان لائے تھے۔

نئے عہد نامے کے اندر وہ تیسری آیت جسے کچھ لوگ پورے گھرانے کی نجات کا پیغام دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں 1 کرنتھیوں 7باب14آیت ہے: " کیونکہ جو شوہر بااِیمان نہیں وہ بیوی کے سبب سے پاک ٹھہرتا ہے اور جو بیوی بااِیمان نہیں وہ مسیحی شوہر کے باعث پاک ٹھہرتی ہے ورنہ تمہارے فرزند ناپاک ہوتے مگر اب پاک ہیں۔ " ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ آیت تعلیم دے رہی ہو کہ ایک غیر ایماندار جیون ساتھ مسیح پر ایمان رکھنے والے اپنے دوسرےجیون ساتھی کے ایمان کی وجہ سے نجات پا سکتا ہے۔ ایسا بھی محسوس ہوتا ہے جیسے یہ آیت سکھا رہی ہو کہ ماں باپ میں سے ایک کے ایماندار ہونے کی وجہ سے اُن کی اولاد بھی خُداوند کے سامنے پاک ٹھہرے گی۔ لیکن یہ نتیجہ اخذ کرنا کلامِ مُقدس کی باقی ساری تعلیمات سےمتصادم ہوگا۔ یہاں پر استعمال ہونے والے الفاظ "پاک ٹھہرنا" نجات کی طرف اشارہ نہیں کر رہے، یا یہ نہیں کہہ رہے کہ ایسا شخص خُدا کی حضوری میں راستباز ٹھہرے گا۔ اِس کے برعکس یہ شادی کے بندھن کے پاک ٹھہرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پولس نے یہ تعلیم دی تھی کہ مسیحیوں کو بے ایمانوں کے ساتھ "ناہموار جوئے " میں نہیں جُتنا چاہیے (2 کرنتھیوں 6باب14آیت)۔ اِس کی وجہ سے کلیسیا کے کچھ اراکین میں اِس بات کا خوف پیدا ہو گیا کہ چونکہ وہ اِس حکم سے پہلے ہی غیر ایماندارجیون ساتھی کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں لہذا وہ گناہ میں زندگی گزار رہے ہیں ، اِس لیے اُن کی شادی بھی "ناپاک" ہے اور اُن کے بچّے بھی حرامکاری کا پھل ہیں۔ پولس اُن کے اِس خوف کو دور کرتا ہے اور تعلیم دیتا ہے کہ جو پہلے سے ہی کسی بے ایمان شخص کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں اُنہیں اُس وقت تک اپنے اُس بندھن میں قائم رہنا چاہیے جب تک اُن کا جیون ساتھ اُن کے ساتھ وفادار ہے۔ اُنہوں طلاق لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے؛ اُن میں سے جو فرد ایماندار ہے اُس کی وجہ سے خُدا کے نزدیک اُن کا شادی کا بندھن پاک ٹھہرتا ہے۔ اِسی طرح اُس شادی کی صورت میں پیدا ہونے والے بچّے بھی خُدا کی نظر میں حرامکاری کی اولاد نہیں ہیں۔

یہ حقیقت کہ 1 کرنتھیوں 7باب 14 آیت پورے گھرانےکی نجات کی بات نہیں کر رہی اُس سوال سے واضح ہوتی ہے جو پولس 1 کرنتھیوں 7 باب 16آیت کے اندر پوچھتا ہے" کیونکہ اَے عورت! تجھے کیا خبر ہے کہ شاید تُو اپنے شوہر کو بچا لے؟ اور اَے مَرد! تجھ کو کیا خبر ہے کہ شاید تُو اپنی بیوی کو بچا لے؟ " اگر پورے گھرانے کی نجات کا یہ نظریہ سچا تھا تو (شوہر کے ایمان کی بنیاد پر )بیوی پہلے سے ہی نجات یافتہ ہونی تھی؛ پولس کو بیوی کی مستقبل میں نجات پانے کی بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

بائبل کسی ایک فرد کے ایمان کی بنیاد پر سارے گھرانے کی نجات کا وعدہ نہیں کرتی۔ لیکن اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ خُدا پرست باپ یا ماں کا اپنے خاندان کے اندر اپنے بچّوں پر گہرا رُوحانی اثر نہیں پڑتا۔ گھر کا سربراہ اپنے خاندان کے لیے کئی ایک طریقوں سے مختلف راستوں کا تعین کرتا ہے جس میں رُوحانی راستے بھی شامل ہیں۔ ہمیں بڑی جانفشانی کے ساتھ اپنے گھرانوں کی نجات کے لیے اُمید، دُعا اور کام کرنا چاہیے۔ ایسے بہت سارے مواقع آتے ہیں جب ابرہام کا خُدا سارہ کا خُدا بنتا ہے اور پھر اضحاق اور پھر یعقوب کا خُدا بھی بنتا ہے۔ جیسا کہ سپرجن نے بڑے واضح طور پر کہا ہے کہ "اگرچہ فضل خون میں نہیں چلتا اور نئی پیدایش خون اور نسل کی وجہ سے نہیں ہوتی۔۔۔لیکن پھر بھی خُدا بہت دفعہ ایسا کرتا ہے کہ گھر کے ایک فرد کے وسیلے سے وہ باقی سب کو بھی اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ وہ ایک فرد کو بلاتا ہےا ور پھر اُسے ایک رُوحانی ذریعہ بنا کر باقی کے خاندان کو بھی انجیل کے وسیلے نجات کے احاطہ میں لے آتا ہے۔"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries