settings icon
share icon
سوال

خدا کی عزت و تعظیم کرنے سے کیا مراد ہے ؟

جواب


مکاشفہ 4باب 10-11آیات آسمان کے ایک منظر کو بیان کرتی ہیں : " چوبیس بزُرگ اُس کے سامنے جو تخت پر بیٹھا ہے گِر پڑیں گے اور اُس کو سجدہ کریں گے جو ابدُالآباد زِندہ رہے گا اور اپنے تاج یہ کہتے ہُوئے اُس تخت کے سامنے ڈال دیں گے کہ اَے ہمارے خُداوند اور خُدا تُو ہی تمجید اور عِزت اور قُدرت کے لائِق ہے "۔ وہ الفاظ جن کا ترجمہ "تمجید/جلال " اور "عزت " کیا گیا ہےباہمی طور پر انتہائی گہرا تعلق رکھتے ہیں اور بائبل میں اکثر اَدل بدل کر استعمال کئے جاتے ہیں۔ لیکن اِن کے درمیان ایک گہرا فرق ہے۔ وہ لفظ جس کا اکثر " تمجید" ترجمہ کیا جاتا ہے اُس سے مراد "کوئی ایسی چیز (ہے) جس کی موروثی، پیدایشی طور پر قدر ہو"، جبکہ وہ لفظ جس کا ترجمہ" عزت" کیا گیا ہے اُسکا مطلب ہے "حواس سے محسوس کردہ اہمیت ؛ عظیم الشان خیال کرنا یا شان دینا۔"

تمجید اُس ذات کی ایک موروثی خوبی ہے جس کی حمد وتعریف کی جاتی ہے۔ تمجید کو ایک آئینہ خیال کیا جا سکتا ہے جو اپنے سامنے موجود ہستی کی درست عکاسی کرتا ہے۔ جب ہم خُدا کے کردار کی درست عکاسی کرتے ہیں تو ہم اُس کی حمد و ستائش کرتے ہیں۔ خدا حقیقت میں کیا ہے اس بات کے لیے اُس کی عزت کرنا خدا کی تمجید کرنا ہے۔ خدا جلال کا حامل ہے کیونکہ وہ بے حد احترام کے لائق ہے۔ انسان بھی کسی طور پر جلال کے حامل ہیں کیونکہ ہم اس کی شبیہ پر بنائے گئے ہیں جو تمام جلال کا منبع ہے (پیدایش 1باب 27آیت)۔جب ہم اپنے قول و فعل کے ذریعے سے اُس کے شاندار کردار یا کام کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ہم خدا کی تمجید کرتے ہیں ۔ یسوع کے کردار کی مثال بنناخدا کی تمجید کرنے کا ایک طریقہ ہے کیونکہ اس طرح ہم اُس کی صفات کو ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم خدا کی تمجید کرتے ہیں تو ہم اُس کے نام کی عزت و تعظیم کرتے ہیں۔

عزت ہمارے دِلوں میں پروان چڑھتی اور اِس اہمیت کی جانب اشارہ کرتی ہے جو ہم ذاتی طور پر کسی چیز یا کسی شخصیت کو دیتے ہیں۔ چیزوں کو جمع کرنے والے لوگ کچھ اشیاء کو اُن لوگوں کے مقابلے میں زیادہ عزت دیتے ہیں جو اُن چیزوں کو جمع نہیں کرتے ۔ دوسرے لوگ جس چیز کو نظرانداز کرتے ہیں وہ کسی اور شخص کے نزدیک بہت زیادہ قابل قدر ہو سکتی ہے اور اس وجہ سےعزت پاتی ہے۔ ہم جس قدردوسروں کے مقام کو سمجھتے اوراُن کی شراکت کو اہم خیال کرتے ہیں ہم اُسی قدر اُن کو عزت دیتے ہیں ۔ ہمیں لوگوں کی کارکردگی کی بجائےاُن کے مقام کی وجہ سے لوگوں کی عزت کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ہمیں اپنے والدین(استثنا 5باب 16آیت؛ مرقس 7باب 10آیت)بڑھے بزرگوں (احبار 19باب 32آیت) اور اُن لوگوں کی عزت کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو ہم پر حکومت کرتے ہیں (1پطرس 2باب 17آیت)۔ جب ہم خُدا کی عزت کرتے ہیں تو ہم اُس کے لیے اس بڑے احترام کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں جو ہم اُس کے لیے رکھتے ہیں۔ ہم حمدو ستائش اور عبادت کے طور پر اُس کے جلال کی عکاسی کر رہے ہیں۔

بائبل خدا کی عزت اور تمجید کرنے کے بہت سے طریقے بتاتی ہے۔ ہم حرام کاری سے بچنے(1کرنتھیوں 6باب 18-20آیات)، اپنے مال میں سے اُس کے لیے دینے (امثال 3باب 9آیت) اور اُس کے واسطے زندگی بسر کرنے(رومیوں 14باب 8آیت)کے ذریعے سے اُسے عزت دیتے اور اس کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔ صرف ظاہری طور پر اُس کی عزت کرنا کافی نہیں ہے۔ خداایسی عزت چاہتا ہے جو ہمارے دلوں سے نکلتی ہے۔" پس خُداوند فرماتا ہے چونکہ یہ لوگ زُبان سے میری نزدِیکی چاہتے ہیں اور ہونٹوں سے میری تعظیم کرتے ہیں لیکن اِن کے دِل مجھ سے دُور ہیں کیونکہ میرا خوف جو اِن کو ہُوا فقط آدمیوں کی تعلیم سُننے سے ہُوا"(یسعیاہ 29باب 13آیت)۔ جب ہم خُداوند میں مسروررہتے (37زبور 4آیت)، ہر کام میں اُس کے طالب ہوتے (1تواریخ 16باب 11آیت؛ یسعیاہ 55باب 6آیت)، اور ایسے فیصلے لیتے ہیں جو ہمارے دِلوں میں اُس کے مقام کی عکاسی کرتے ہیں تو ہم اُسے سب چیزوں سے زیادہ عزت دیتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خدا کی عزت و تعظیم کرنے سے کیا مراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries