settings icon
share icon
سوال

بائبل ہم جنس پرستی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ کیا ہم جنس پرستی ایک گناہ؟

جواب


کچھ لوگوں کے خیال میں ہم جنس پرست ہونا کسی شخص کے بس سے ایسے ہی باہر ہے جیسے آپ کی جلد کی رنگت اور قد کاٹھ پر آپ کا اختیار آپ کے بس سے باہر ہے۔ دوسری جانب بائبل بڑے واضح طور پر بارہا اعلان کرتی ہے کہ ہم جنس پرستی جیسی سرگرمی ایک گناہ ہے ( پیدایش 19باب 1-13آیات؛ احبار 18باب 22آیت ؛ 20باب 13آیت؛ رومیوں 1باب 26-27آیات؛1کرنتھیوں 6باب 9آیت)۔ پس اِن دونوں بیانات میں یہ لا تعلقی بہت زیادہ اختلاف، بحث اور تصادم کا باعث بنتی ہے ۔

جب ہم اِس بات کا تجزیہ کرتے ہیں کہ بائبل ہم جنس پرستی کے بارے میں کیا کہتی ہےتو ہمارے لیے ہم جنسی پرستانہ رویے اور ہم جنسی پرستی کی جانب رجحان ، میلان یا کشش کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے ۔عملی طور پر گناہ میں ملوث ہونے اور گناہ کی طرف غیر فعال رغبت محسوس کرنے میں فرق ہے۔ ہم جنسی پرستانہ رویہ گناہ ہے مگر بائبل کبھی یہ نہیں کہتی کہ ہم جنس پرستی کی طرف رغبت کی آزمائش کو محسوس کرنا بھی ایک گناہ ہے۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو آزمائش کے دوران جدوجہد کسی شخص کو گناہ کی طرف راغب ضرور کر سکتی ہےلیکن وہ جدوجہد اپنے آپ میں گناہ نہیں ہے۔

رومیوں 1باب 26-27آیات سکھاتی ہیں کہ ہم جنس پرستی خداوند کے انکار اور نافرمانی کا نتیجہ ہے ۔ جب لوگ گناہ اور بے اعتقادی میں بڑھتے جاتے ہیں تو خدا کے بغیر زندگی کی بے وقوفی اور نااُمید ی کو اُن پر ظاہر کرنے کےلیے خدا بھی اُن کو اور زیادہ فاسق اور فرسودہ گناہ کے "حوالے کر دیتا "ہے ۔ خدا کے خلاف بغاوت کا ایک پھل ہم جنس پرستی بھی ہے۔ 1کرنتھیوں 6باب 9آیت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ لوگ جو ہم جنس پرستی میں مبتلا ہونے کے باعث خدا کے تخلیق کردہ دستور کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ نجات سے محروم ہیں ۔

یہ عین ممکن ہے کہ کوئی شخص پیدایشی طور پر ہم جنس پرستی کی گہری اثر پذیری یا حساسیت رکھتا ہو، بالکل اُسی طرح جیسے کچھ لوگ تشدد اور دوسرے گناہوں کے رجحان کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں ۔ مگر یہ بات گناہ آلودہ خواہشات کے ہاتھوں مجبور اُس شخص کے گناہ کے انتخاب کو قطعی طور پر درست قرار نہیں دیتی۔ اگر کوئی شخص غصے کےلیے بہت زیادہ اثر پذیری یا حساسیت کے ساتھ پیدا ہو تو یہ بات اُس شخص کو غضب انگیز خواہشات کے آگے سر تسلیم ِ خم کرنے اور ہر جھگڑے پر شدید غصے کا اظہار کرنے کا حق نہیں دیتی ۔یہی بات ہم جنس پرستی کے لیے اثر پذیری کیساتھ پیدا ہونے والے لوگوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

ہمارے رجحانات اور رغبتیں جیسی بھی کیوں نہ ہوں ہم ایک ہی وقت میں ایسانہیں کر سکتے کہ خود کو ایسے گناہوں میں ملوث رکھیں جن کی وجہ سے خُداوند یسوع مصلوب ہوا – اور ساتھ ہی یہ بھی خیال کریں کہ ہمارے اور خُدا کے بیچ میں سب کچھ بالکل درست ہے۔ پولس رسول بہت سے گناہ کی فہرست پیش کرتا ہے جن میں کرنتھس کے لوگوں پہلے ملوث تھے (ہم جنس پرستی بھی اُس فہر ست میں موجود ہے )۔ مگر 1کرنتھیوں 6باب 11 آیت میں وہ اُن کو یاد دلاتا ہے " اور بعض تم میں ایسے ہی تھے بھی مگر تم خداوند یسوع مسیح کے نام سے اور ہمارے خدا کے رُوح سے دُھل گئے اور پاک ہوئے اور راست باز بھی ٹھہرے۔"دوسرے الفاظ میں کرنتھس کے کچھ لوگ نجات پانے سے پہلے ہم جنس پرستی کی زندگی گز ارتے تھے مگر کوئی بھی گناہ یسوع کے کفارے کی قوت سے زیادہ بڑا نہیں ہے ۔ مسیح کے وسیلے ایک بار راستباز ٹھہرائے جانے کے بعد ہم پھر سے گناہگاروں کی فہرست میں نہیں شمار کئے جاتے۔

ہم جنس پرستی کے لیے کشش محسوس کرنے کے حوالے سے مسئلہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسی چیز کےلیے کشش ہے جسے خدا نے منع کیا ہے اور کسی بھی آلودہ چیز کےلیے خواہش کی جڑ یں بھی گناہ میں ہوتی ہیں ۔ گناہ کی سرایت کرنے اور غلبہ پا لینے والی فطرت ہمیں اپنے ہی اعمال اور اِس دُنیا کی حقیقت کو توڑ مروڑ کر دکھاتی ہے۔ اِس سے ہماری ہر طرح کی سوچ، خواہشات اور رجحانات متاثر ہوتے ہیں ۔ لہذا ہم جنس پرستی کی کشش کا نتیجہ ہمیشہ ہی عملی اور اپنی رضا مندی سے کئے گئے گناہ تو نہیں ہوتا –ہو سکتا ہے کہ ہم جنس پرستی کی کشش محسوس کرنے میں گناہ کے لیے ایک شعوری انتخاب نہ ہو – مگر یہ کشش، میلان یا رجحان گناہ آلودہ فطرت سے ہی پیدا ہوتا ہے ۔ پس بنیادی طور پر ہم جنس پرستی کی کشش ہمیشہ ہی گناہ آلودہ فطرت کا اظہار ہوتی ہے ۔

جیسےکہ اِس گناہ آلود دُنیا کے اندر گناہگار انسان رہ رہے ہیں (رومیوں 3باب 23آیت) تو ایسے میں ہم بھی گناہ کی جانب کمزوریوں ، ترغیبوں اور تحریکوں سے گھیرے ہوئے ہیں ۔ ہماری دنیا ہم جنس پرستی جیسے گناہ کی آزمائش میں پڑنے کے لالچ کے ساتھ ساتھ بہکانے والے پھندوں سے بھر ی پڑی ہے ۔

بہت سے لوگوں کےلیے ہم جنس پرست رویے میں ملوث ہونے کی آزمایش بڑی حقیقی ہوتی ہے ۔وہ لوگ جو ہم جنس پرستی کی کشش کے ساتھ مسلسل جدوجہد کر رہے ہوتے اکثر بتاتے ہیں کہ اُنہوں نے کئی سالوں تک اِس وجہ سے دُکھ اُٹھایا ہے اور مسلسل خواہش کی ہے کہ کاش یہ چیزیں اور حالات اِس سے مختلف ہوتے ۔ لوگوں کو اکثر اِس بات پر اختیار حاصل نہیں ہوتا کہ وہ کیسا اور کیا محسوس کرتے ہیں، مگر یہ بات اُن کے اختیار میں ہوتی ہے کہ وہ اُن جذبات کے ردِعمل میں کیا کریں(1پطرس 1باب 5-8آیات)۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم آزمایش کا مقابلہ کریں (افسیوں 6باب 13آیت)۔ ہم سب کو چاہیے کہ عقل نئی ہوجانے کے ساتھ صورت بدلتے جائیں ۔ ہم سب کو چاہیے کہ "رُوح کے موافق چلیں" تاکہ " جسم کی خواہشات کو پورا نہ کر پائیں " (گلتیوں 5باب 16آیت)۔

آخر ی بات، بائبل ہم جنس پرستی کو دوسرے گناہوں کی نسبت " زیادہ بڑا" گناہ قرار نہیں دیتی۔ خداکےلیے ہر طرح کا گناہ ہی نفرت انگیز ہے ۔ چاہے کسی بھی طرح کے گناہ نے ہم کو جکڑا ہوا ہے مسیح کے بغیر ہم نجات سے محروم ہیں ۔ بائبل کے مطابق ہم جنس پرستوں کو بھی خدا کی معافی اُسی طرح میسر ہے جیسے زناکار، بُت پرست ،قاتل اور چور کو ۔ خدا اُن سب سےلوگوں سےجواپنی نجات کےلیےیسوع مسیح پر ایمان لائیں گے ہرطرح کے گناہ ،بشمول ہم جنس پرستی پر فتح اور غلبہ پانے کے حوالے سے قوت کا وعدہ کرتا ہے ( 1کرنتھیوں 6باب 11آیت؛ 2کرنتھیوں 5باب 17آیت؛ فلپیوں 4باب 13آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل ہم جنس پرستی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ کیا ہم جنس پرستی ایک گناہ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries