settings icon
share icon
سوال

مقدس قہقہے کیا ہیں؟

جواب


"مُقدس قہقہے"کی اصلاح ایک ایسے مظہر یا واقعے کو بیان کرنے کے لیے وضع کی گئی تھی جس کے دوران کوئی بھی شخص بے اختیار ہنسنا شروع کر دیتا ہے،اور اِس حالت کے بارے میں یہ قیاس آرائی کی جاتی ہے کہ یہ بے اختیار ہنسی رُوح القدس کے مسّح کی بدولت خوشی سے بھر جانے کا نتیجہ ہے۔ مُقدس ہنسی یا قہقہوں کی شناخت بے اختیار زور زور سے ہنسے اور خاصے شورو غل کے طور پر کی جاتی ہے، بعض اوقات اِس دوران لوگ بے ہوش بھی ہو جاتے ہیں اور نیچے فرش پر گر جاتے ہیں۔ جن لوگوں کو ایسا تجربہ ہوا ہوتا ہے اگر اُن سے اِس کے بارے میں کچھ دریافت کیا جائے تو اکثر اُن کے بیانات میں تضاد دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن سب ہی اِسے رُوح القدس کی "نعمت" یا "مسّح" کی علامت سمجھتے ہیں۔‏

مُقدس قہقہوں کے تجربے کی نوعیت داخلی یا نسبتی ہوتی ہے۔ اِس لیے اِس معاملے کی سچائی کو جاننے کے لیے ہمیں خارجی یا عالمگیر انہ اطلاق کی ضرورت ہے۔ جب ہماری طرف سے سچائی کی تعریف کا انحصار ہمارے اِس دُنیا کے ذاتی تجربے پر ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ ہم اپنی سوچ میں نسبتیت پسندی سے زیادہ دور نہیں ہیں۔ مختصراً یہ کہ ہمارے احساسات یہ نہیں بتاتے کہ سچائی کیا ہے۔ احساسات بُرے نہیں ہوتے اور بہت دفعہ ہمارے احساسات کلام کی سچائیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ بہرحال زیادہ دفعہ یہ ہماری گناہ آلود فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ ہمارے دِل کی غیر مستحکم اور نا پائدار حالت اِسے سچائی کو جاننے کا بالکل ناقابلِ اعتبار قطب نما بناتی ہے۔ "دِل سب چیزوں سے زِیادہ حیلہ باز اور لاعلاج ہے ۔ اُس کو کَون دریافت کر سکتا ہے؟ " (یرمیاہ 17باب9آیت)۔ دل کی اِس حیلہ بازی یا دھوکا دہی کے اِسی اصول کا اطلاق "مُقدس قہقہوں" جیسے مظہر پر بھی ہوتا ہے۔ اِس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ بہت سارے رُوحانی بیداری کے اجتماعات پر لوگ بے اختیار ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ لیکن اِس چیز کا مطلب کیا ہے؟

بائبل کے اندر ہنسی یا قہقہے کے بارے میں کئی ایک بار بات کی گئی ہے۔ بہت دفعہ تو اِسے کسی کو ٹھٹھوں میں اُڑانے یا متکبرانہ /ذلت آمیز تاثر دینے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے، کبھی اِسے کسی چیز کو مذاق سمجھنے یا کسی چیز کا مذاق اُڑانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جیسے کہ ابرہام اور سارہ کے ہنسنے کی مثال ہے جب اُنہیں یہ بتایا گیا تھا کہ اُن کے بڑھاپے میں اُنکے ہاں ایک بچّہ پیدا ہوگا۔ کچھ آیات اِسے تضحیک کی علامت کے طور پر بھی بیان کرتی ہیں (59 زبور 8باب؛ 80 زبور 6آیت؛ امثال 1باب26آیت)، اِس کے ساتھ ساتھ بہت سارے لوگ قہقہے کی نوعیت کے لحاظ سے اُس کے معنی کے بارے میں بیان دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر سلیمان نے واعظ 2باب2آیت میں قہقہے کے بارے میں یہ بیان کیا ہے کہ "مَیں نے ہنسی کو دِیوانہ کہا اور شادمانی کے بارے میں کہا اِس سے کیا حاصل؟ " پھر وہ 7باب 3 میں کہتا ہے کہ "غمگینی ہنسی سے بہتر ہے کیونکہ چہرہ کی اُداسی سے دِل سُدھر جاتا ہے۔ "۔ امثال 14باب13آیت اِس کے برعکس بات کرتی ہے: "ہنسنے میں بھی دِل غمگین ہے اور شادمانی کا انجام غم ہے۔ "یہ دونوں آیات بالکل سچ ہیں۔ ایک غمگین شخص اپنے غم کو چھپانے کے اپنے منہ پر ہنسی سجا سکتا ہے ، اور اگرچہ ایک شخص اندرونی طور پر بہت خوش ہے لیکن اُس خوشی کی حالت میں بھی وہ رُو سکتا ہے۔ تو نہ صرف ہمارے احساسات ہمیشہ ہی ہمیں سچائی بتانے میں ناکام ہوتے ہیں بلکہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ قہقہے ہمیشہ ہی خوشی کی علامت نہیں ہوتے۔ قہقہے مارنے کا مطلب غصے، غم یا پھر تضحیک کا اظہار کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح قہقہے نہ مارنا غم کی علامت بھی نہیں ہو سکتا۔ قہقہے واضح طور پر داخلی نوعیت کا عمل ہوتے ہیں۔

مقدس قہقہوں یا مقدس ہنسی کے بارے میں سب سے زیادہ پُر دلیل حوالہ گلتیوں 5باب22-23آیات میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔ یہ حوالہ بیان کرتا ہے کہ "مگر رُوح کا پھل محبّت ۔ خُوشی ۔ اِطمینان ۔تحمل ۔ مہربانی ۔ نیکی ۔ اِیمان داری۔ حلم ۔ پرہیزگاری ہے ۔ اَیسے کاموں کی کوئی شرِیعت مُخالِف نہیں۔ " جس لفظ کا ترجمہ اُردو میں پرہیز گاری کیا گیا ہے انگریزی میں یہ لفظ Self-Control بمعنی خود ضبطی ہے۔ اب اگر خود ضبطی رُوح القدس کا پھل ہے تو اُس کے برعکس بلا اختیار قہقہے بھی اُس کا پھل کیسے ہو سکتے ہیں؟ رُوحانی اجتماعات کی رہنمائی کرنے والے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ رُوح القدس سے بھرے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم رُوح کی موج یا ترنگ کی وجہ سے "اچھلتے کودتے پھرتے" ہیں۔ لیکن یہ تصور کہ خُدا رُوح القدس کے مسّح کی بدولت لوگوں کو نشے میں دُھت، بے اختیار ہنسی کا شکار یا جانوروں کی آوازیں نکالنےو الا بنائے گا رُوح القدس کے کام کرنے کےاُس طریقے کے بالکل الٹ ہے جیسا کہ گلتیوں 5باب22-23آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ جس رُوح کے بارے میں گلتیوں 5باب میں بات کی گئی ہے وہ خود ضبطی کو بڑھاتا ہے، نہ کہ اُس کے برعکس بے ضبطی کو۔ اور آخر میں بائبل مُقدس کے اندر یسوع سے بڑھکر کوئی بھی اور انسان رُوح سے معمور نہیں تھا، اور بائبل میں ایک بھی بار یسوع کے ہنسنے کا ذکر نہیں ملتا۔

اِس سب کی روشنی میں ہمارے لیے یہ فائدہ مند بات ہوگی کہ ہم 1 کرنتھیوں 14 باب کے اِس حوالے پر غور کریں جس میں پولس نے لوگوں کے ساتھ غیر زبانیں بولنے کے حوالے سے بات کی ہے: "پس اَے بھائیو! اگر مَیں تمہارے پاس آ کر بیگانہ زُبانوں میں باتیں کروں اور مکاشفہ یاعلم یا نبوّت یا تعلیم کی باتیں تم سے نہ کہوں تو تم کو مجھ سے کیا فائدہ ہو گا؟ " (6آیت)

"اور اگر تُرہی کی آواز صاف نہ ہو تو کون لڑائی کے لئے تیّاری کرے گا؟۔ اَیسے ہی تم بھی اگر زُبان سے واضح بات نہ کہو تو جو کہا جاتا ہے کیوں کرسمجھا جائے گا؟ تُم ہوا سے باتیں کرنے والے ٹھہرو گے۔ " (8-9آیات)

"پس اَے بھائِیو! کیا کرنا چاہیے؟ جب تُم جمع ہوتے ہو تو ہر ایک کے دِل میں مزمور یا تعلیم یا مکاشفہ یا بیگانہ زُبان یا ترجمہ ہوتا ہے ۔ سب کچھ رُوحانی ترقّی کے لئے ہونا چاہئے۔ اگر بیگانہ زُبان میں باتیں کرنا ہو تو دو دو یا زِیادہ سے زِیادہ تین تین شخص باری باری سے بولیں اور ایک شخص ترجمہ کرے۔اور اگر کوئی ترجمہ کرنے والا نہ ہو تو بیگانہ زُبان بولنے والا کلیسیا میں چپکا رہے اور اپنے دِل سے اور خُدا سے باتیں کرے۔ " (26-28آیات)

"کیونکہ خُدا اَبتری کا نہیں بلکہ اَمن کا بانی ہے ۔ ۔۔" (33آیت)

اُن دِنوں میں بہت سارے لوگ کلیسیا کے اندر ایسی زبانیں بولتے تھے جو دوسروں کو بالکل بھی سمجھ نہیں آتی تھیں، پولس رسول کہتا ہے کہ ایسا عمل بے فائدہ ہے کیونکہ غیر زبان بولنے والا اپنے اُس عمل کی وجہ سے کسی دوسرے ایماندار کی رُوحانی ترقی نہیں کر رہا ہوتا۔ اِسی بات کا اطلاق مقدس قہقہوں پر کیا جا سکتا ہے۔ پولس رسول پوچھتا ہے کہ جب تک ہم مکاشفے ، علم ، نبوت یا تعلیم کی باتیں نہ کریں تو کیا فائدہ ہے؟ ایک بار پھر وہ کہتا ہے کہ "سب باتیں شائستگی اور قرِینہ کے ساتھ عمل میں آئیں۔" وہ اِس دلیل پر اپنی حتمی رائے دیتے ہوئے اِسے بند کرتا ہے کہ " خُدا اَبتری کا نہیں بلکہ اَمن کا بانی ہے "، جس سے اِس بات کا واضح طور پر اظہار ہوتا ہے کہ پولس رسول کلیسیا کے اندر ایسا ماحول نہیں چاہتا جس میں تذبذب ، شور شرابہ اور ہر ایک چیز کی کھچڑی بنی ہوئی ہو، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ کلیسیا کے اندر تعلیم اور دوسروں کی رُوحانی ترقی کا کام ہونا چاہیے۔

جو کچھ پولس رسول یہاں پر کہہ رہا ہے اُس کی روشنی میں وہ عمل جسے "مقدس قہقہے " کہا جاتا ہے اِس زمرے میں آتا ہے جو کسی بھی انسان کی "رُوحانی ترقی" کا باعث نہیں بنتا ، اِس لیے اِس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ (الف) قہقہے یا ہنسی ایک ایسا جذباتی تاثر ہے جو قابلِ اعتبار نہیں"؛ (ب)یہ بہت سارے مختلف جذبات کی نشانی ہو سکتا ہے؛اور (ج) یہ کسی بھی طرح کا مفید کام سر انجام نہیں دیتا۔ مزید برآں ، کسی بھی طرح کے جذبات کا بےقابو اظہار رُوح القدس کی فطرت کے خلاف ہے۔ اِس لیے یہاں پر یہ صلاح دی جاتی ہے کہ "مقدس قہقہوں" کو خُدا کی نزدیکی حاصل کرنے کے کسی ذریعے کے طور پر یا رُوح القدس کا تجربہ کرنے کے ذریعے کے طور پر نہ دیکھا جائے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مقدس قہقہے کیا ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries