settings icon
share icon
سوال

تاریخی علمِ الٰہیات کیا ہے ؟

جواب


تاریخی الٰہیات مسیحی عقیدے کے ارتقاء اور تاریخ کا مطالعہ ہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوتا ہے تاریخی علم الٰہیات نئے عہد نامے کے کلیسیائی دور کی پوری تاریخ میں اہم مسیحی عقیدے کے ارتقاءاور تشکیل سازی کا مطالعہ ہے۔ تاریخی علم ِ الٰہیات کی تعریف اس مطالعہ کے طور پر بھی کی جا سکتی ہے کہ مسیحیوں نے کس طرح مختلف تاریخی ادوار کے دوران متعدد الٰہیاتی مضامین یا موضوعات جیساکہ خدا کی فطرت، یسوع مسیح کی فطرت، رُوح القدس کی فطرت اور کام، نجات کے عقیدے وغیر ہ کو سمجھا ہے ۔

تاریخی علم ِالٰہیات کا مطالعہ عقائد و اقرار کے ارتقاء، کلیسیا ئی مجالس اور پوری کلیسیائی تاریخ میں پیدا ہونے والی بدعات اور ا ُن سے نمٹنے کے طریقوں جیسے مضامین کا احاطہ کرتا ہے ۔ تاریخی علمِ الٰہیات کا ایک عالم اِن بنیادی عقائد کے ارتقاء کا مطالعہ کرتا ہے جو مسیحیت کو بدعات اور جھوٹی تعلیمات سے الگ کرتے ہیں۔

ماہر ین علم ِالٰہیات تاریخی علم ِالٰہیات کے مطالعہ کو اکثر چار اہم ادوار میں تقسیم کرتے ہیں:( 1) آبائے کلیسیا کا دور، 100-400 بعد از مسیح تک (ابتدائی کلیسیائی بزرگوں یا اُن کی تحریروں سے متعلقہ دور) ؛( 2) قرون وسطیٰ اور نشاۃ ثانیہ 500-1500بعد از مسیح تک کا دور ؛( 3) اصلاح کاری کا دور 1500- 1750 بعد از مسیح تک ؛ اور( 4)اصلاح کاری کے بعد کا دور1750بعد از مسیح سے موجودہ جدید دور تک۔

تاریخی علم ِ الٰہیات کا مقصد مسیحیت کے کلیدی عقائد کے تاریخی ماخذ کو سمجھنا اور بیان کرنا اور وقت کے ساتھ ساتھ اُن عقائد کے ارتقاءکا سراغ لگانا ہے۔ یہ اِس بات مشاہد ہ کرتا ہے کہ کس طرح لوگوں نے پوری تاریخ میں مختلف عقائد کو سمجھا ہے اور یہ شناخت کرتے ہوئے کہ کلیسیا کے اندر ہونے والی تبدیلیوں نے مختلف عقائد کو کس طرح بہتری یا ابتری کے لیے متاثر کیا ہے، اور یوں یہ عقائد کے ارتقاءکو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے ۔

تاریخی علم ِ الٰہیات اور کلیسیا کی تاریخ دو مختلف مگر قریبی تعلق رکھنے والے اہم مضامین ہیں۔ اُن عقائد کو سمجھے بغیر کلیسیائی تاریخ کو سمجھنا اگر چہ ناممکن نہیں مگر مشکل ہو گا جو کلیسیا ئی تاریخ کے دوران اکثر مختلف فرقہ بندیوں اور تحریکوں کا باعث بنے ہیں ۔ علم ِ الٰہیات اور عقیدے کی تاریخ کی سمجھ ہمیں پہلی صدی سے اب تک مسیحیت کی تاریخ اور اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ اتنے زیادہ فرقے کیوں ہیں ۔

تاریخی علم ِ الٰہیات کے مطالعہ کی بنیاد اعمال کی کتاب میں ملتی ہے۔ لوقا جب اُن باتوں " جو یسوع شروع میں کرتا اور سکھاتا رہا" ( اعمال 1باب 1 آیت)کو بیان کرنے کے اپنے مقصد کو جاری رکھتا ہے تو وہ مسیحی کلیسیا کے آغاز کو قلمبند کرتا ہے ۔ مسیح کی خدمت اعمال کی کتاب کے آخری باب کے ساتھ ختم نہیں ہوئی ۔ درحقیقت مسیح آج بھی اپنی کلیسیا میں کام کر رہا ہے اور اُسے تاریخی علم الٰہیات اور کلیسیائی تاریخ کے مطالعہ کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے یہ دونوں چیزیں یہ سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہیں کہ مسیحی ایمان کے بنیادی بائبلی عقائد کو پوری کلیسیا ئی تاریخ کے دوران کس طرح تسلیم کیا گیا اور کیسے اِن کا اعلان کیا گیا ہے۔ اعمال 20باب 29-30آیات میں پولس رسول نے افسس کی کلیسیا کے بزرگوں کو خبردار کیا کہ کلیسیا میں ایسے "پھاڑنے والے بھیڑے "رونما ہوں گے جو غلط عقائد کی تعلیم دیں گے۔ ہم تاریخی علم ِالٰہیات کے مطالعے کے ذریعے سے ہی دیکھتے ہیں کہ پولس کی طرف سے کیا گیا انتباہ کس حد تک سچا ثابت ہوا ہے۔ اور یہ تب ہوتا ہے جب ہم سمجھتے ہیں کہ کلیسیائی تاریخ کے 2000 سال سے زائد عرصے میں مسیحی عقیدے کے ضروری عقائد پر کس طرح حملے اور پھر اِن عقائد کا دفاع کیا جاتا رہا ہے۔

علم ِ الٰہیات کے کسی بھی شعبے کی طرح تاریخی علم الٰہیات کو بھی بعض اوقات آزاد خیال عالمین اور غیر مسیحیوں کی طرف سے مسیحی عقیدے کے بنیادی عقائد پر شک کرنے یا اُن پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ آسمان سے نازل شدہ بائبل کی سچائی کی بجائے صرف مَردوں کی من گھڑت باتیں ہیں۔ اس کی ایک مثال خدا کی ثالوث فطرت کی بحث میں پائی جاتی ہے۔ تاریخی علم الٰہیات کا ایک ماہر یہ جانتے ہوئے کہ یہ سچائی کتابِ مقدس میں واضح طور پر عیاں ہے پوری کلیسیائی تاریخ میں اس عقیدے کا مطالعہ اور سراغ لگائے گا مگر اس کے باوجود پوری کلیسیائی تاریخ میں ایسے مواقع آتے رہے ہیں جب اس عقیدے پر حملہ کیا گیا اور اس طرح کلیسیا کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس عقیدے کی وضاحت اور دفاع کرے۔اس عقیدے کی سچائی براہ راست کلام پاک سے ماخوذ ہے؛ تاہم اس عقیدے کے بارے میں کلیسیا ئی سمجھ اور تشہیر کو اکثر اُن اوقات میں برسوں سے واضح کیا جاتا رہا ہے جب خُدا کی فطرت کا عقیدہ اُن پھاڑ کھانےوالے بھیڑوں کے حملے کی زد میں آیا تھا جن کے بارے میں پولس نے خبردار کیا ہے۔

کچھ نیک نیت لیکن گمراہ کُن مسیحی اس وعدے کا حوالہ دیتے ہوئے تاریخی علم ِ الٰہیات کی اہمیت کو مسترد کرنا چاہتے ہیں کہ رُوح القدس جو نئی پیدایش کے حامل تمام مسیحیوں میں بستا ہے ہمیں "تمام سچائی کی راہ دکھائے گا" (یوحنا 16باب 13آیت)۔ یہ مسیحی اس بات کو پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں کہ روح القدس تمام کلیسیائی تاریخ میں مسیحیوں میں بسا رہا ہے اور یہ یسوع مسیح بذاتِ خود ہے جس نے " بعض کو رسُول اور بعض کو نبی اور بعض کو مبشر اور بعض کو چرواہا اور اُستاد بنا کر دے دِیا۔ تاکہ مُقدّس لوگ کامِل بنیں اور خِدمت گُذاری کا کام کِیا جائے اور مسیح کا بدن ترقّی پائے" ( افسیوں 4باب 11-12 آیات)۔ اِس میں نہ صرف وہ لوگ شامل ہیں جو اُس نسل میں موجود تھے بلکہ وہ بھی شامل ہیں جنہیں مسیح نے پوری کلیسیائی تاریخ میں مقرر کیا ہے۔ یہ ماننا بے وقوفی ہے کہ ہمیں نعمتوں کے حامل اُن بہت سے لوگوں سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے جو ہم سے پہلے تھے۔ تاریخی علم الٰہیات کا درست مطالعہ اور اطلاق ہمیں گزشتہ صدیوں میں ہوگزرے مسیحی استادوں اور رہنماؤں کو پہچاننے اور اُن سے سیکھنے میں مدد کرتا ہے۔

کلیسیائی تاریخ اور تاریخی علم ِ الٰہیات کے مطالعہ کے ذریعے نئی پیدایش کے حامل مسیحی کو یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ دیکھیں کہ خدا کس طرح تاریخ کے شروع سے اب تک کام کرتا آ رہا ہے ۔ اس مطالعہ میں ہم تمام چیزوں پر خُدا کی حاکمیت کو دیکھتے اور اِس سچائی کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ خُدا کا کلام ہمیشہ قائم رہتا ہے (119زبور 160 آیت)۔ تاریخی علم الٰہیات کا مطالعہ اصل میں خدا کے کام کا مطالعہ کرنا ہی ہے۔ یہ ہمیں شیطان اور خدا کے کلام کی سچائی کے درمیان مستقل رُوحانی جنگ کی یاد دلانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ جس طرح پولس نے افسس کے بزرگوں کو خبردار کیا تھا تاریخی علمِ الٰہیات کا مطالعہ تاریخ میں سے اُن بہت سے طریقے اور اشکال کو ہم پر واضح کرتا ہے جنہیں شیطان کلیسیا میں جھوٹے عقیدے کو پھیلانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔

تاریخی علم الٰہیات اور کلیسیائی تاریخ کا مطالعہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ خدا کے کلام کی سچائی فتحیاب رہتی ہے۔ جب ہم ماضی کی الٰہیاتی لڑائیوں کو سمجھتے ہیں تو اس طرح ہم اُن غلطیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکتے ہیں جن سے شیطان ہمیں مستقبل میں پھنسانے کی کوشش کرے گا۔ اگر پادری، کلیسیائیں اور مسیحی ایماندار کلیسیائی تاریخ اور تاریخی علم الٰہیات سے واقف نہیں ہیں تو وہ اُس قسم کی جھوٹی تعلیمات کا شکار ہونے کے لیے زیادہ غیر محفوظ ہوں گے جنہیں شیطان ماضی میں استعمال کر چکا ہے۔

تاریخی علم ِ الٰہیات کو جب صحیح طور پر سمجھا اور اس کا اطلاق کیا جا تا ہے تو یہ کلامِ مقدس کے اختیار یا اس کے کا فی ہونے کی اہمیت کو کم نہیں کرتا ہے۔ ایمان اور عمل کے تمام معاملات میں صرف کلام ہی اصل معیار ہے۔ صرف اور صرف یہی الہامی اور لا خطا ہے۔ صرف کلامِ مقدس ہی ہمارا یقین اور ہدایت ہے لیکن تاریخی علم الٰہیات کچھ "نئی تعلیم" یا بائبل کی نئی تشریح کے بہت سے خطرات کو سمجھنے میں ہماری مدد کر سکتاہے۔ کلیسیا کی 2000 سال سے زیادہ کی تاریخ اورہم سے پہلے ہو گزرے اُن لاکھوں نہیں تو ہزاروں مسیحیوں کے ساتھ کیا ہمیں خود بخود کسی ایسے شخص سے ہوشیار نہیں رہنا چاہیے جو کلام پاک کی "نئی وضاحت" یا تشریح کا دعویٰ کرتا ہے؟

آخر میں تاریخی علم الٰہیات ہمیں اپنے زمانے کے ثقافتی اور فلسفیانہ مفروضوں کی روشنی میں کلام مقدس کی تشریح کرنے کے ہمیشہ سے موجود خطرے کی یاد دلا سکتا ہے۔ آج کل ہم اس خطرے کو بہت زیادہ دیکھتے ہیں جب گناہ کو رُوحانی حالت کی بجائے دوائیوں سے ٹھیک ہونے والی بیماری کے طور پر دوبارہ بیان کیا جا رہا ہے۔ ہم اِسے اس صورت میں بھی دیکھتے ہیں کہ بہت سے فرقے کلام مقدس کی واضح تعلیم کو چھوڑ رہے ہیں اور ہم جنس پرستی کی ثقافتی قبولیت کو بطور طرز زندگی اپنا رہے ہیں۔

تاریخی علم الٰہیات با ضابطہ علم ِ الٰہیات کے مطالعہ کا ایک اہم پہلو ہے لیکن مطالعے کے کسی بھی دوسرے طریقے کی طرح یہ خطرات اور فریب کاریوں سے خالی نہیں ہے۔ سب مسیحیوں اور علمِ الٰہیات کے تمام طالب علموں کے لیے چیلنج یہ ہے کہ ہم اپنے مذہبی نظام کا بائبل پر اطلاق نہ کریں بلکہ اس بات کو ہمیشہ یقینی بنائیں کہ ہمارا علم ِ الٰہیات کلام مقدس سے ماخوذ ہو نہ کہ کسی ایسے نظام سے جو اُنکے دور میں مقبول ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

تاریخی علمِ الٰہیات کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries