ہندو مت کیا ہے اور ہندو کیا ایمان رکھتے ہیں؟


سوال: ہندو مت کیا ہے اور ہندو کیا ایمان رکھتے ہیں؟

جواب:
ہندو مت قدیم ترین معروف مذاہب میں سے ایک ہے ۔ اِس مذہب کی مقدس تحریروں کا سلسلہ 1400 سے 1500 قبل مسیح تک پھیلا ہوا ہے۔یہ سب سے زیادہ متنوع اور پیچیدہ مذاہب میں سے ایک ہے جس کے لاکھوں دیوی دیوتا ہیں۔ہندو بنیادی عقائد کی مختلف اقسام رکھتے ہیں اور اِن میں مختلف فرقے پائے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ دُنیا کا تیسرا بڑا مذہب ہے، لیکن ہندوؤں کی اکثریت بنیادی طور پر بھارت اور نیپال میں ہے۔

ہندومت کی بنیادی کتابیں "وید" (جسے سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے)، اوپانیشاڈس، مہابھارت، اور رامائن ہیں۔ اِن تحریرات میں حمد، ورد و منتر، فلسفہ، رسومات، نظمیں، اور کہانیاں پائی جاتی ہیں جن پر ہندو اپنے عقائد کی بنیاد رکھتے ہیں۔ ہندومت میں استعمال ہونے والی دیگر تحریروں میں برہمن، سُوترا، اور اِرانیاکس شامل ہیں۔

اگرچہ ہندو مت کو اکثر کثیر خُداؤں یعنی33 کروڑ خُداؤں کے ماننے والے سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ ایک بڑے خُدا(براہما) کو بھی مانتے ہیں ۔ براہما کو ایک ایسی ہستی مانا جاتا ہے جو پوری کائنات کی حقیت اور وجود کے ہر حصے میں رہتی ہے۔ براہما لا شخصی اور ناقابلِ ادراک ہے اور اکثر اُسے تین الگ اشکال یعنی براہما-خالق، وِشنو-محافظ، اور شِو-تباہ کرنے والے کے طور پر ماناجاتا ہے۔ براہما کے اِن "پہلوؤں" کو بہت سے دوسرے اوتاروں کے ذریعہ سےبھی جانا جاتا ہے۔ ہندو مت کے علم الہیات کا خلاصہ کرنا مشکل ہے کیونکہ متعدد ہندو فرقوں میں تقریباً ہرطرح کے الہیاتی نظام کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ ہندو مت کے اِن پہلوؤں کے بارےمیں سیکھ کر اِس کے متعلق مزید جانا جا سکتا ہے۔

‌أ. مو نِسٹک- جن کا ماننا ہے کہ صرف ایک خُدا ہے؛ سنکارا فرقے کا عقیدہ

‌ب. پینتھی اِسٹِک- جن کا ماننا ہے کہ صرف واحد خُدا ہے لیکن وہ خُدا دُنیا کی ہر شے میں ظاہر ہے؛ یہ برہمنوں کا دھرم اور اُن کی تعلیمات ہے۔

‌ج. پینن تھی اِسٹِک — اِن کا ماننا ہے کہ دُنیا خُدا کا حصہ ہے، یہ راما نُوجا فرقے کا عقیدہ ہے۔

‌د. تھی اِسٹِک- جن کا ماننا ہے کہ واحد خُدا ہے، جو تخلیق سے الگ ہے، یہ بھگتی ہندومت کا عقیدہ ہے۔

دوسرے فرقوں کا مشاہدہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہندومت دہریے( ذاتِ خُدا کا انکار کرنے والے)، الحاد پرست (اخلاقیات پر زور دینے والے اور فطرت کے قوانین میں خُدا کی مداخلت کا انکار کرنے والے)، اور یہاں تک کہ عدمیت، فنائیت کے قائل بھی ہو سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ"ہندو" لفظ یا لقب میں اتنی اقسام کی موجودگی سے کوئی شخص حیران ہو اور اِس سوچ میں پڑ جائے کہ کونسی باتیں اُسے پہلے درجے کا ہندو بنا سکتی ہیں؟ اِس مذہب کے حوالے سے حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ آیا کوئی شخص عقائد کے نظام یعنی "ویدوں" کو مقدس کتاب کے طور پر تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔ اگر کرتا ہے تو وہ ہندو ہے۔ اگر نہیں کرتا، تو وہ ہندو نہیں ہے۔

"وید" ہندومت کے علم الہیات کی کتابوں میں زیادہ اہمیت کی حامل مانی جاتی ہے۔ اِس میں بہت سیر حاصل اور رنگ برنگی "افسانوی داستانیں" یعنی مذہبی داستانیں پائی جاتی ہیں جو کہ دانستہ طور پر افسانوی کرداروں اور بیانات ، علم الہیات اور تاریخ کو اِس انداز سے بُنتی ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہےجیسے اُس کہانی کی جڑیں مذہب میں پیوست ہیں۔ اِن الہیاتی افسانوی داستانوں کی جڑیں انڈیا کی تاریخ اور ثقافت میں اتنی گہری ہیں کہ "ویدوں" کی تردید کو ہندوستان کی مخالفت سمجھا جاتا ہے۔ اِس لئے، ایسے عقیدہِ نظام کو ہندوؤں کی طرف سے ردّ کر دیا جاتا ہے جو کسی بھی حد تک بھارتی ثقافت کو قبول نہیں کرتا۔ اگر کوئی نظام بھارتی ثقافت اور اُس کی الٰہی افسانوی داستانوں کی تاریخ کو قبول کرتا ہے، تو اُسے "ہندو" کے طور پر گلے لگایا جاتا ہے۔ اِس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ وہ اپنے عقائد کے لحاظ سے خُدا کے وجود پر ایمان رکھتا ہے، عدمیت کے تصور کا پیروکار ہے یا پھر دہریت کا قائل ہے۔ تضادات کی یہ کشادگی اُن مغربی لوگوں کے لئے سردرد ہو سکتی ہے جو اپنے مذہبی نظریات میں منطقی استحکام، اور عقلی دفاعی استعداد کے خواہاں ہیں۔اگر بجا طور پر دیکھا جائے تو مسیحی بھی جب وہ یہواہ خُدا پر ایمان رکھنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اپنی زندگیوں میں عملی طور پر خُداوند یسوع مسیح کا انکار کرتے ہیں تو وہ منطقی لوگ خیال نہیں کئے جاتے۔ ہندوؤں کے معاملے میں مسئلہ زیادہ منطقی نوعیت کا ہے مسیحیوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو اگر وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ تو پھر یہ معاملہ ریاکاری کا ہے۔

ہندو مت انسانیت کو الٰہی مخلوق کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کیونکہ براہما سب کچھ ہے، ہندو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر کوئی الٰہی ہے۔ آتما، خود براہما کے ساتھ ایک ہے۔ براہماسے باہر تمام حقیقت کو صرف فریب کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ایک ہندو کا رُوحانی مقصد براہما کے ساتھ ایک ہونا ہے، اِسی طرح اپنی فریب آمیز صورت میں وجود سے دستبردار ہونا "فرد کی خودی" ہے۔ اِس آزادی کو "موکشا" کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جب تک موکشا حاصل نہیں ہوتا، ہندو ایمان رکھتا ہے کہ وہ بار بار پیدا ہو گا تاکہ وہ سچائی (سچائی یہ ہے کہ واحد براہما وجود رکھتا ہے اور کوئی نہیں) کی پہچان حاصل کرنے کے لئے کام کر سکے۔ ایک شخص کیسے دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے اِس کا تعین کرما سے ہوتا ہے، جو کہ سبب اور تاثیرکا اصول ہے اور جسے فطرت کے توازن سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ جو کچھ کسی شخص نے ماضی میں کیا اُس کا اثر مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والی چیزوں پر ہوگااِس میں ماضی اور مستقبل کی زندگیاں بھی شامل ہیں۔

اگرچہ یہ صرف مختصر خاکہ/خلاصہ ہے، یہ آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندومت بائبلی مسیحیت کے عقائد کے نظام کے تقریباً ہر پہلو کے خلاف ہیں۔ مسیحیت ایک خُدا کو مانتی ہے جو ذاتی اور قابلِ ادراک دونوں ہے (اِستثنا6 باب 5 آیت؛ 1 کرنتھیوں 8باب 6آیت)، مسیحیت کے پاس کتابِ مقدس کا ایک ہی مجموعہ ہے، جو سکھاتی ہے کہ خُدا نے زمین اور اُس پر رہنے والی ہر جان /ہر چیزکو خلق کیا (پیدائش1 باب1 آیت؛ عبرانیوں11باب3 آیت)۔ مسیحیت کا ایمان ہے کہ انسان خُدا کی صورت وشبیہ پر پیدا کیا گیا ہے اوروہ اِس زمین پر ایک ہی بار زندگی گزارتا ہے،یعنی دوبارہ پیدا نہیں ہوتا (پیدائش1 باب27 آیت؛ عبرانیوں 9باب 27-28 آیات)۔ مزید برآں مسیحیت سکھاتی ہے کہ نجات صرف یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہے (یوحنا3 باب 16 آیت؛ 6باب 44آیت؛ 14باب 6آیت؛ اعمال4 باب 12آیت)۔ ہندو مت مذہبی نظام کے طور پر ناکام ہو جاتا ہے کیونکہ یہ یسوع کو منفرد مجسم خُدا اور نجات دہندہ، اور انسان کی نجات کے لئے واحد کافی/کامل ذریعے کے طور پر پہچاننے میں ناکام ہو جاتا ہے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
ہندو مت کیا ہے اور ہندو کیا ایمان رکھتے ہیں؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں