settings icon
share icon
سوال

بدعت کے کیا معنی ہیں؟

جواب


جب ہم لفظ بدعت سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں قرون وسطیٰ کے عقوبت خانوں اور بدعت سے متعلقہ عدالتی مقدمات کی تصویریں آ سکتی ہیں۔ کلیسیا ئی تاریخ میں ایک ایسا دور ہو گزرا ہے جو یقیناً اِن باتوں اور ایسے واقعات پر مشتمل تھا۔ اگر ہم تاریخ کے شائقین یا مذہبی عالمین نہیں ہیں تو ہم یہ جان سکتے ہیں کہ بدعت ایک بُری چیز ہے مگر تفصیلات اس کے باوجود غیر واضح رہیں گی ۔ پس بدعت اصل میں کیا ہے اور بائبل اس کے بارے میں کیا فرماتی ہے؟

میریم-ویبسٹر کی کولیجیٹ ڈکشنری کے مطابق بدعت کی ایک بنیادی تعریف "کلیسیائی عقیدے کے برعکس مذہبی رائے کی پیروی کرنا " ہے ۔ دوسری تعریف یہ ہے " غالب نظریے، رائے یا مشق سے اختلاف یا انحراف"۔ یہ ہمارے لیے ایک اچھا نقطہ آغاز ہے۔ یہ تعریفیں دو اہم عناصر کی نشاندہی کرتی ہیں: غالب نقطہ ِ نظر اور مخالف نقطہ ِ نظر۔ مذہبی لحاظ سے کوئی بھی ایسا عقیدہ یا مشق جو کلیسیا کے باضابطہ راسخ نقطہ نظر کی مخالفت کرتا ہے اُسے بدعت سمجھا جاتا ہے۔

بدعت ہر دور میں موجود رہی ہے لیکن بارہو یں صدی کے دوران کیتھولک چرچ نے اِس کے خلاف بے مثال اقدام کیاتھے۔ جیسے جیسے یورپ میں کیتھولک چرچ کی طاقت میں اضافہ ہوتا گیا اُسی قدر دیگر مسیحی گروہوں کی اختلافی آوازیں مزید تکلیف دہ بنتی گئیں۔ پوپ الیگزینڈر سوئم (1162-1163) نے مخبروں کی حوصلہ افزائی کی تاکہ کلیسیا کے اندر بدعت کے بارے میں ثبوت تلاش کر سکے۔ 1184 میں پوپ لوشیئس سوئم نے ایک حکم نامہ جاری کیا کہ موردِ الزام ٹھہرائے گئے بدعتی شخص کو سزا کے لیے سرکاری حکام کے حوالے کیا جائے۔ اگلی چند دہائیوں کے دوران چرچ نے بالآخر پوپ گریگوری نہم کی قیادت میں بدعت کے لیے سزا کی شدت میں اضافہ کرتے ہوئے اِسے سزائے موت قرار دیا۔

اِس دور میں ڈومینیکن اُس خصوصی عدالت کے بنیادی نمائندے بن گئے جسے بدعت کو دریافت کرنے اور اُ سے کچلنے کے لیے رومن کیتھولک چرچ کی طرف قائم کیا گیا تھا اور جس کو ارادوں کے ساتھ ساتھ افعال کا تعین کرنے کا اختیار دیا گیا تھا ۔ جب کسی گاؤں میں بدعت کا شبہ ہوتا تو ایک تفتیش کار کو اُس پیغام کی منادی کرنے کے لیے وہاں بھیجا جاتا جس میں گاؤں والوں سے سامنے آکر بدعت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا۔ یہ ایک "عام تفتیش" تھی جس میں اعتراف کرنے والے ہر شخص کے لیے رحم کاموقع تھا ۔ اس کے بعد ایک "خصوصی تفتیش" کی جاتی جس میں "اعتراف" کروانے کے لیے دباؤ، جھوٹے گواہ اور تشدد شامل ہو سکتا تھا ۔ جن لوگوں کی بدعتی کے طور پر شناخت ہو جاتی انہیں پھر Penance/کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا جاتا جس میں گرجا گھر میں لازمی حاضری، کسی کیتھولک مُقدس کے مزار کی زیارت، جائیداد کا نقصان یا قید شامل ہو سکتی تھی۔ کفارہ ادا کرنے سے انکار کرنے والے بدعتی لوگوں کو موت کی سزا سنائی جاتی ۔ بدعت سے متعلقہ ایسی عدالتی کاروائی یورپ کے بیشتر علاقوں میں پندرھویں صدی تک جاری رہی۔

"بدعتی" تعلیم کا تعین کرنے کا پیمانہ کسی مخصوص وقت کے تسلیم شدہ راسخ عقائد کے مطابق مختلف ہوتا ہے ۔ کوئی بھی گروہ یا فرد جو دوسرے گروہ سے مختلف ہو اِسے تکنیکی طور پر بدعتی کہا جا سکتا ہے۔ اعمال 24باب 14آیت میں مسیحیوں کو یہودیوں کی طرف سے بدعتی کہا جاتا ہے ۔ قرون وسطیٰ کے"بدعتی لوگ "صرف اس لیے بدعتی تھے کہ وہ کیتھولک چرچ سے متفق نہیں تھے، نہ کہ اس لیے کہ وہ غیر بائبلی عقائد کے حامل تھے۔ ہسپانوی بدعتی عدالت نے 14,000 سے زیادہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار ااور اُن میں سے اکثر کو صرف ایک بائبل اپنے پاس رکھنے کی وجہ سےمارا گیا تھا ۔ پس بائبل کے لحاظ سے بات کی جائے تو یہ تسلیم شدہ کلیسیا ہی قرون وسطیٰ کے دوران بذاتِ خود بدعتی تھا۔

بائبلی مسیحیت کے تعلق سے بدعت کیا ہے؟ 2 پطرس 2باب 1آیت فرماتی ہے کہ" جس طرح اُس اُمّت میں جُھوٹے نبی بھی تھے اُسی طرح تُم میں بھی جھوٹے اُستاد ہوں گے جو پوشیدہ طَور پر ہلاک کرنے والی بِدعتیں نِکالیں گے اور اُس مالِک کا اِنکار کریں گے جس نے اُنہیں مول لِیا تھا اور اپنے آپ کو جلد ہلاکت میں ڈالیں گے " ۔ اس آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ بدعت ہر وہ چیز ہے جو یسوع کی تعلیم کا انکار کرتی ہے۔ 1 کرنتھیوں 11باب 19آیت میں پولس رسول کلیسیا کو اپنے درمیان بدعتوں کے ہونے کی وجہ ملامت کرتا ہے - وہ بدعتیں جو جماعت میں تفرقے کا باعث بنی تھیں ۔ یہ آیات اِن دونوں پہلوؤں کو چھوتی ہیں جنہیں بدعت کلیسیا میں جنم دیتی ہے : خدا کے عطا کردہ عقائد کا انکار کرنا اور اُس کی قائم کردہ جماعت میں تفرقے ڈالنا ۔ یہ دونوں وہ خطرناک اور تباہ کن عمل ہیں جن کی کلامِ مقدس میں سختی سے ملامت کی جاتی ہے۔ 1 یوحنا 4باب 1-6آیات؛ 1 تیمتھیس 1باب 3-6 آیات؛ 2 تیمتھیس 1باب 13-14آیات؛ اور یہوداہ 1باب بھی دیکھیں۔

بائبل بدعت سے کیسے نمٹتی ہے؟ طِطُس 3باب 10آیت فرماتی ہے " ایک دو بار نصیحت کر کے بِدعتی شخص سے کنارہ کر"۔ دوسرے تراجم میں " بدعتی شخص " کو"فرقہ باز آدمی "گروہ بند" اور "وہ شخص جو فرقہ بازی کو ہوا دیتا ہے" کہا گیا ہے ۔ جب کلیسیا میں کوئی شخص بائبل کی تعلیم سے ہٹ جاتا ہے تو صحیح ردعمل یہ ہے کہ پہلے اُس کی صلاح کرنے کی کوشش کریں لیکن اگر وہ چند ایک نصیحتوں کے بعد بھی بات ماننے سے انکار کرتا ہے تو اُس کے ساتھ مزید کوئی تعلق نہ رکھیں۔ اس میں کلیسیا کی طرف سے لاتعلقی کا اشارہ پایا جاتا ہے۔ مسیح کی سچائی ایمانداروں کو متحد کر ےگی (یوحنا 17باب 22-23 آیات) لیکن بدعت اپنی فطرت کے مطابق سچائی کے ساتھ باہمی امن سے نہیں رہ سکتی۔

کلیسیا میں پایا جانے والا ہر اختلاف یقیناً بدعت نہیں ہے۔ کوئی مختلف رائے رکھنا غلط بات نہیں ہے لیکن جب رائے فرقہ وارانہ ہو یا بائبل کی واضح تعلیم کی مخالفت میں قائم کی جائے تو یہ بدعتی صورت اختیا ر کر جاتی ہے۔ رسول خود بعض اوقات غیر متفق تھے (دیکھیں اعمال 15باب 36-41آیات) اور پطرس رسول کو ایک بار تفرقہ انگیز اور ضابطہ پرستانہ رویے کے لیے ملامت کا سامنا کرنا پڑا تھا (گلتیوں 2باب 11-14ایات )۔ لیکن خُداوند کی حمد ہو کہ رسولوں نے خدا کی سچائی کے لیے عاجزانہ اور فرمانبردار رویے کے وسیلہ سے اپنے عدم اتفاق میں بھی خدمت کی اور ہمارے لیے ایک نمونہ قائم کیا ۔

ہم بدعت سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں ؟ فلپیوں 2باب 2-3آیات ایک اچھا نقطہ آغاز ہے: " تو میری یہ خُوشی پُوری کرو کہ یک دِل رہو۔ یکساں مُحبّت رکھّو۔ ایک جان ہو۔ ایک ہی خیال رکھّو۔ تفرِقے اور بے جا فخر کے باعث کُچھ نہ کرو بلکہ فروتنی سے ایک دُوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھے"۔ جب ہم اپنے آپ کو خدا کے کلام کے اختیار کے تابع کریں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آئیں گےتو فرقہ بازیاں اور بدعتیں بہت کم ہو جائیں گی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بدعت کے کیا معنی ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries