settings icon
share icon
سوال

ہینوتھی ازم/مونولاٹرازم/مونولاٹری کیا ہے؟

جواب


امریکن ہیریٹیج ڈکشنری/American Heritage Dictionary کے مطابق مونولاٹری (جسےمونولاٹرازم بھی کہا جاتا ہے) دوسرے سبھی دیوتاؤں کے وجود کا انکار کئے بغیر صرف ایک خُدا کی عبادت ہے۔ ہینوتھی ازم میں بہت سارے دیوتاؤں کی جان پہچان تو ہوتی ہے لیکن یہ اُن میں سے صرف ایک پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا انتخاب کرتا ہے –جسے لوگ عام طور پر اپنے خاندان یا قبیلے کا دیوتا سمجھتے ہیں۔ مونولاٹری اور ہینوتھی ازم کا پیروکار خود کو ایک دیوتا کے لیے وقف کرتا ہےلیکن وہ دوسرے دیوتاؤں کے لیے بھی جگہ چھوڑتا ہے۔ قدیم دور میں بہت سی ثقافتیں ایک سے زیادہ دیوتاؤں پر یقین رکھتی تھیں، اور اُن میں سے کچھ ثقافتیں اب بھی ایسی ہیں جو دیگر سبھی دیوتاؤں سے بڑھکر کسی ایک دیوتا کو زیادہ عزت و تکریم دیتی ہیں۔

ہندومت ہینوتھی ازم یا مونولاٹرازم کی ایک عمدہ مثال ہے۔ ہندو عام طور پر ایک دیوتا کی پوجا کرتے ہیں، پھر بھی وہ یہ مانتے ہیں کہ اَن گنت دوسرے دیوتا موجود ہیں۔ قدیم مصری بھی بہت سارے دیوتاؤں کو مانتے تھے، اُن دیوتاؤں میں سے بڑا کون تھا اِس کا انحصار بعض اوقات کسی بھی خاص دور میں حکمرانی کرنے والے فرعون پر ہوتا تھا۔ قدیم یونانیوں کا مذہب اوراُن کی طرف سے مختلف اولمپئینز(12 یونانی دیوتاؤں کا کوئی ایک پنتھیون) کی پوجا اِس کی ایک اور اچھی مثال ہےجس میں زیوس دیگر گیارہ دیوتاؤں کا سب سے بڑا حکمران ہوتا ہے۔ اُن سبھی بارہ دیوتاؤں میں سے ہر ایک کی مخصوص فرقوں کی طرف سے مختلف مندروں اور قربان گاہوں میں، اُن کے اپنے خاص کاہنوں کے ذریعے سے انفرادی پرستش کی جاتی تھی (دیکھئے اعمال 14باب12-13 آیات؛ 19 باب 35 آیت)۔

کچھ موّرخین کا خیال ہے کہ ابتدائی اسرائیلی بھی ہینوتھی ازم /مونولاٹرازم کے ماننے والے تھے۔ یہ چیز خروج 32باب3-5 آیات کے اندر سونے کے بچھڑے کے بنائے جانے اور دس احکام میں اِس حکم " میرے حضُور تُو غیر معبُودوں کو نہ ماننا " کے دئیے جانے (خروج 20باب3 آیت) کی وضاحت کرتی ہے۔ اِن حوالہ جات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم اسرائیلی مکمل طور پر ترقی یافتہ وحدانیت پسند نہیں تھے۔ موسیٰ کے ذریعے سے خُدا نے عبرانی لوگوں کو یہ سکھانا شروع کیا کہ ابرہام، اضحاق اور یعقوب کا خُدا سب دیوتاؤں سے برتر اور سچا خُدا ہے۔ یسعیاہ نبی نے رُوح القدس کی تحریک سے اسرائیل اور دیگر تمام قوموں کو خُدا کی حقیقی فطرت کی یاد دلائی: " مَیں ہی خُداوند ہُوں اَور کوئی نہیں ۔ میرے سِوا کوئی خُدا نہیں ۔ مَیں نے تیری کمر باندھی اگرچہ تُو نے مجھے نہ پہچانا۔تاکہ مشرِق سے مغرِب تک لوگ جان لیں کہ میرے سِواکوئی نہیں ۔ مَیں ہی خُداوند ہُوں میرے سِوا کوئی دُوسرا نہیں " (یسعیاہ 45 باب 5-6 آیات)۔

بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی یہ مانتے تھے کہ دوسری قوموں کے اپنے دیوتا موجود ہیں ، اگرچہ اُن کا یہواہ سب دیوتاؤں سے بڑا خُدا ہے۔ تاہم اگر اسرائیلیوں کا ہینوتھی ازم یا مونولاٹرازم کی طرف رجحان تھا تو یہ خُدا کی طرف سے اُن پر اُس کے کلام کے واضح طور پر نازل ہونے کے باوجود تھا۔ اِستثنا 6باب4 آیت اِس طرح کے سبھی شکوک و شبہات کو دور کر دیتی ہے کہ اِس کائنات میں ایک سے زیادہ خُدا موجود ہیں: " سُن اَے اِسرؔائیل ! خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے۔ " ہینوتھی ازم یا مونولاٹرازم بائبل کی تعلیمات سے مطابق نہیں رکھتے۔

بائبل اِس حوالے سے بالکل واضح ہے: صرف ایک ہی خُدا موجود ہے۔ ہینوتھی ازم یا مونولاٹرازم بہت سارے دیوتاؤں کی موجود کو تسلیم کرنے کے حوالے سے غلط ہے۔ بائبل ایک خُدا کی حقیقت پر انحصار کرتی ہے کیونکہ اگر دوسرے دیوتا موجود ہوتے تو خُداوند یسوع کو انسانوں کے گناہوں کے کفارے کے لیے اپنی جان نہ دینی پڑتی –اُس صورت میں آسمان کی طرف جانے والی بہت سی شاہراہیں ہوتیں۔

اِس حوالے پر غور کیجئے: "۔۔۔ بُت دُنیا میں کوئی چیز نہیں اور سِوا ایک کے اَور کوئی خُدا نہیں " (1 کرنتھیوں 8باب4 آیت)۔ بُت تو محض "نام نہاد دیوتا" ہیں (5 آیت)۔" لیکن ہمارے نزدِیک تو ایک ہی خُدا ہے " (6 آیت)۔

پولس نے جب اتھینے کا دورہ کیا تو اُس نے بہت سے یونانی اور رومی دیوتاؤں کے مجسمے دیکھے۔ اتھینے شہر میں جا بجا اُن دیوتاؤں کی قربان گاہیں تھیں۔ ایک خاص قربان گاہ نے پولس کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی جس پر لکھا تھا "" نامعلوم خُدا کے لیے"(اعمال 17باب23 آیت)۔ یونانیوں نے اپنی جہالت میں اُس دیوتا کے لیے بھی ایک قربان گاہ بنا دی تھی جسے شاید اُنہوں نے نا دانستہ طور پر اپنے پنتھیون میں شامل نہیں کیا تھا اور کچھ ہینوتھی ازم یا مونولاٹرازم کے حامیوں نے اُس "نامعلوم" خُدا کو اپنے دیوتا کے طور پر اپنا لیا تھا۔ چونکہ یونانی نہیں جانتے تھے کہ یہ خُدا کون ہے اِس لیے پولس نے اُن کے سامنے وضاحت کی کہ جس کو وہ نامعلوم خُدا کے طور پر جانتے ہیں و ہ دراصل بائبل مُقدس کا خُدا ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے۔ ایک سچا خُدا ہاتھ سے بنائےہوئے مندروں میں نہیں رہتا۔ یونانی اپنے طور پر ایک سچے خُدا کو تلاش کرنے سے قاصر تھے لہذا ایک سچا خُدا خود اُن کی تلاش میں وہاں پہنچ گیا تھا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہینوتھی ازم/مونولاٹرازم/مونولاٹری کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries