کیا جہنم حقیقت ہے؟ کیا جہنم ابدی ہے؟



سوال: کیا جہنم حقیقت ہے؟ کیا جہنم ابدی ہے؟

جواب:
یہ دلچسپی کی بات ہے کہ متزاد فیصدی لوگ جہنم کے وجود کے بدلے جنت کے وجود پر زیادہ یقین کرتے ہیں۔ بائيبل کے مطابق حالانکہ جنہم بھی اتنا ہی حقیقت ہے جتنا کہ جنت – بائیبل صاف طور سے اور واضح طور سے تعلیم دیتی ہے کہ جہنم ایک حقیقی جگہ ہے جہاں پر شریر / بے ایمان کو مرنے کے بعد بھیجا جائيگا۔ کلام پاک کہتا ہے کہ ہم سب نے خدا کے خلاف گناہ کیا ہے (رومیوں 3:23)۔ صرف اس گناہ کی سزا موت ہے جو انسان کرتا ہے (رومیوں 6:23)۔ جبکہ ہمارے تمام گناہ خدا کے خلاف ہیں (زبور 51:4)، اور جبکہ خدا لا محدود اور ابدی شخصیت ہے تو گناہ کی سزا بھی بے حد، اور دا‏ئمی طور سے ہونی چاہئے۔ جہنم اس طرح بے حد طریقہ سے کشادہ اور ابدی موت کی جگہ ہے جسے ہم نے گناہ کے سبب سے کمایا ہے۔

شریر کی موت کی سزا پورے کلام پاک میں"ہمیشہ کی آگ" بطور قرار دیا گیا ہے (متی 25:41)، "نہ بجھنے والی آگ" (متی 3:12)، "رسوائی اور ذلت ابدی" (دانی ایل 12:2)، "ایک ایسی جگہ جہاں کی آگ کبھی نہیں بجھتی" (مرقس49- 9:44)، "عزاب اور تڑپنے والی جگہ" (لوقا24، 16:23) "ابدی ہلاکت" (پہلا تھسلنیکیوں 1:9)، "آگ اور گندھک کی جھیل جہاں شریر لوگ " دن رات اور ہمیشہ ہمیشہ کے عزاب میں تڑپینگے" (مکاشفہ 20:10؛11- 14:10)۔

جہنم میں شریر کی سزا کبھی نہ ختم ہونے والی ہوگی جبکہ راستباز جنت میں روحانی مسرت کا لطف اٹھائينگے۔ یسوع مسیح خود ہی جہنم کا اشارہ ابدی سزا بطور کرتا ہے جسطرح جنت میں ایک ابدی زندگی ہوگی (متی 25:46)۔ شریر ہمیشہ کے لئے خدا کے قہر اور غضب الٰہی کے حقدار ہونگے۔ جو لوگ جہنم میں ہونگے وہ تسلیم کرینگے کہ خدا کا انصاف کامل ہے (زبور 76:10) جو لوگ جہنم میں ہونگے انہیں معلوم ہوگا کہ ان کی سزا جائز ہے اور صرف وہی الزام کے مستحق ہیں (استثنا5- 32:3)۔ جی ہاں۔ جہنم حقیقت ہے اور یہ بھی کہ عزاب اور تڑپنے والی جگہ ہے اور شریروں کی سزا بغیر اختتام کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے (ابدالآباد) برقرار رہیگی۔ خدا کی حمدوستایش ہو اس کا شکر ہو کہ یسوع کے ذریعہ ہم اس ابدی بدنصیبی کی جگہ سے سے بچ سکتے ہیں (یوحنا 18،36، 3:16)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا جہنم حقیقت ہے؟ کیا جہنم ابدی ہے؟