کیا لوگ ہمیں جو ابھی بھی زمین پر موجود ہیں آسمان کے لوگ نیچے دیکھ سکتے ہیں؟



سوال: کیا لوگ ہمیں جو ابھی بھی زمین پر موجود ہیں آسمان کے لوگ نیچے دیکھ سکتے ہیں؟

جواب:
کچھ لوگ عبرانیوں 12:1 کا خیال کرکے کہتے ہیں کہ لوگ جو آسمان میں ہیں وہ نیچے زمین پر نظر کرکے ہمیں دیکھ سکتے ہیں:

"اس لئے جبکہ گواہوں کا ایسا بڑا بادل ہمیں گھیرے ہوئے ہے۔۔۔۔۔۔" "گواہوں" سے مطلب ان فتح مند لوگوں سے ہے جن کی فہرست عبرانیوں 11 باب میں دی گئي ہے،اور سچائی یہ ہے کہ ہم ان سے "گھرے ہوئے ہیں" یہ خیال بائیبل کے علماء کو یہ سمجھنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ فتحمند لوگ (ممکن طور سے دوسرے لوگ) نیچے کی طرف آسمان سے دیکھ رہے ہیں۔

لوگوں کا آسمان سے نیچے کی طرف دیکھنے کا خیال یہ ہے کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عام طور سے زمین کی اس مشہور تہزیب میں ہم لوگ کیا کررہے ہیں۔ مگر اس تصور کے طور پر کہ ہمارے بچھڑے ہوئے عزیز لوگوں کے ذریعہ جو آسمان میں ہیں ہم دیکھنے جارہے ہیں۔ یہ محض ایک تصور ہے مگر عبرانیوں 12:1 کی تعلیم یہ نہیں ہے۔ عبرانیوں 11 باب پر غوروخوص کرتے ہوئے مصنف کچھ عملی اسباق کی طرف ہمارا دھیان لیجاتا ہے (اس لئے بارہ باب کو اس لفظ سے شروع کرتا ہے "پس جبکہ") "گواہوں کا"یہ وہ لوگ ہیں جن کی خدا 11 باب میں ان کے ایمان کے لئے تعریف کرتا ہے۔ اور 11 باب میں اس بات کو جتانا ہے کہ آسمان میں ان گواہوں کی ایک بہت بڑی بھیڑ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ لوگ کس کے گواہ ہیں؟

عبرانیوں 12:1 کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ایماندار آدمی اور عورتیں ملکر " گواہوں کے ایک بڑے بادل" کو بناتے یا ترتیب دیتے ہیں تاکہ وہ لوگ ایمان کے ساتھ زندگی جینے کی قیمت کے گواہ بن سکیں۔ انکے پرانے عہدنامے کی کہانیاں خوف و ہراس کے اوپر ایمان کو چننے کی برکت کی گواہی دیتے ہیں۔ شروعاتی آیت عبرانیوں 12:1 کا مفہوم اس طرح پیش کرتا ہے "جبکہ ہمارے پاس کئی ایک آزمائے ہوئے – اور – ثابت کئے ہوئے ایمان کی سچی مثالیں ہیں ۔۔۔۔۔" اس لئے عبرانیوں 12:1 کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آسمان میں لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں (اگرچہ ہماری زندگیاں زمین پر بڑی دلچسب ہیں یا انکی زندگی ہم سے اچھی نہیں ہیں وغیرہ!)، مگر جو لوگ ہم سے پہلے جا چکے ہیں انہوں نے ہمارے لئے مثال چھوڑ رکھی ہے۔ انکی زندگیوں کا ریکارڈ خدا پر ایمان اور سچائی کی گواہی پیش کرتی ہیں۔

عبرانیوں 12:1 اپنی بات کو جاری رکھتا اور کہتا ہے "تو آؤ ہم بھی ہر ایک بوجھ اور اس گناہ کو جو ہمیں آسانی سے الجھا لیتا ہے دورکرکے اس دوڑ میں صبر سے دوڑیں جو ہمیں درپیش ہے ۔۔۔۔۔" اس لئے کہ ایمان اور ایمانداروں کی برداشت ہم سے آگے جاچکے ہیں ہمکو احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم اپنے ایمان کی دوڑ میں صبر سے دوڑیں۔ اس طرح ہم ابراھیم، موسیٰ، راحب، جدعون اور دیگر لوگوں کی مثال کا پیچھا کرتے ہیں۔

کچھ لوگ اس دولتمند شخص اور اس کے بھائيوں کا ذکر کرتے ہیں جس کا بیان لوقا 16:28 میں پایا جاتا ہے یہ ثبوت پیش کرنے کے لئے کہ مرنے کے بعد اس دولتمند شخص کی روح حدث (آگ کی جگہ) جو آسمان پر واقع ہے زمین پر کے واقعات کو دیکھ سکتی ہے۔ مگر کسی طرح یہ عبارت کبھی نہیں کہتی ہے کہ وہ دولتمند شخص اپنے بھائيوں کو دیکھ سکتا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ اس کے پانچ بھا‏ئی تھے اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس کے پانچوں بھائی غیر ایماندار تھے۔ اسی طرح کچھ لوگ مکاشفہ 6:10 کو ایک ثبوت بطور عبارت پیش کرتے ہیں کہ بڑی مصیبت کے دوران پڑے ہوئے شہید خدا کی دہائی دیکر کہتے ہیں کہ ائے خدا تو کب تک زمین رہنے والوں سے ہمارے خون کا بدلہ نہ لیگا۔ یہاں دوبارہ سے یہ کہنا ہے کہ یہ عبارت ایسا کچھ نہیں کہتی کہ شہید لوگ زمین پر ان ظالم لوگوں کو دیکھ سکتہے ہیں۔ یہ آیت صرف یہ کہتی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جانتے تھے جنہوں نے ظلم ڈھایا تھا تھا اور وہ انصاف کے مستحق تھے اور چاہتے تھےکہ خداوند خود ان سے بدلہ لے۔

بائیبل خاص طور سے یہ نہیں کہتی کہ آسمان کے لوگ ہمیں نیچے نہیں دیکھ سکتے سو ہم بے اعتقاد نہیں ہوسکتے۔ کسی طرح غیر مشابہ طور سے وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں۔ آسمان میں لوگ غیر مشابہ طور سے دوسری باتوں قابض ہوئے رہتے یا دیگر خیالون میں مصروف رہتے ہیں جیسے کہ خدا کی عبادت اور بندگی میں مصروف ہونا آسمانی جلال کی اشیاء میں لطف اندوزہونا وغیرہ۔

چاہے یا نہ چاہے لوگ آسمان میں ہمیں نیچے دیکھ سکتے ہیں مگر ہم اپنی دوڑ انکے لئے پوری نہیں کرتے چاہے وہ ہمارے عزیز ہی کیوں نہ ہوں نہ ہی انکی منظوری کے لئے توقع کرسکتے یا انکی واہ واہی سننے کی آرزو رکھتے ہیں۔ اس لئے عبرانیوں 12:2 میں کہا گیا ہے کہ اپنا دھیان یا نشان اس طرف لگائیں جہاں کے لئے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی "اپنےایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کو تکتے رہیں" یسوع ہی ہماری مبارک امید ہے اور کوئی نہیں (ططس 2:13)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا لوگ ہمیں جو ابھی بھی زمین پر موجود ہیں آسمان کے لوگ نیچے دیکھ سکتے ہیں؟