شفا کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟ کیا مسیح کے کفارہ میں شفا موجود ہے؟



سوال: شفا کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟ کیا مسیح کے کفارہ میں شفا موجود ہے؟

جواب:
یسعیاہ 53:5 جس کو بعد میں 1 پطرس 2:24 میں حوالہ پیش کیا گیا ہے یہ شفا کی بابت اہم آیت ہے۔ مگر اس آیت کی بابت اکثر غلط فہمی اور غلط استعمال ہوتاہے یسعیاہ 53:5 کی آیت اس طرح ہے کہ "حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کیاگیا اور ہماری بد کرداری کے باعث کچلا گیا۔ ہماری ہی سلامتی کے لئے اس پر سیاست ہوئی تاکہ اس کے مار کھانے سے ہم شفا پائیں"۔ جو لفظ "شفا پانے" کا استعمال ہوا ہے وہ یا تو اس کا روحانی معنی ہو سکتاہے یا پھر جسمانی۔ کسی طرح یسعیاہ 53 اور پہلا پطرس دو باب کا سیاق عبارت صاف طور سے روحانی شفا کی بابت کہتاہے۔ "وہ آپ ہمارے گناہوں کو اپنے بدن پر لئے ہوئے صلیب پر چڑھ گیاتاکہ ہم گناہوں کے اعتبار سے مرکر راستبازی کے اعتبار سے جئیں اور اسی کے مار کھانے سے تم نے شفا پائی (1 پطرس 2:24)۔ یہ آیت گناہ اور راستبازی کی بابت کہتی ہے نہ کہ بیماری اور علالت کی بابت۔ اس لئے "شفا پانا" ان دونوں آیتوں میں گناہوں سے معافی حاصل کرنے اور ابدی موت سے بچائے جانے کے معنی پیش کرتے ہیں نہ کہ جسمانی طور سے شفا پانے کے معنی میں۔

کلام پاک خاص طور سے جسمانی شفا کو روحانی شفا کے ساتھ نہیں جوڑتا۔ کبھی کبھی لوگ جسمانی طور سے اس وقت شفا پاتے ہیں جب وہ مسیح یسوع پر ایمان لاتے۔ مگر ایسے معاملے ہمیشہ پیش نہیں آتے۔ کبھی کبھی خدا کی مرضی ہوتی ہے کہ ایک شخص شفا پاجائے مگر کبھی کبھی اس کی مرضی نہیں ہوتی۔ یوحنا رسول ہمارے ایک صحیح ظاہری تناسب پیش کرتاہے۔ وہ کہتاہے "اور ہمیں جو اس کے سامنے دلیری ہے اسکا سبب یہ ہے کہ اگر اسکی مرضی کے موافق کچھ مانگتے ہیں تووہ ہماری سنتا ہے۔ اور جب جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم مانگتے ہیں وہ ہماری سنتاہے تو یہ بھی جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے اس سے مانگا ہے وہ پایا ہے ( یوحنا 15-14 :5)۔ خدا آج بھی معجزے انجام دیتاہے۔ خدا آج بھی لوگوں کو شفا بخشتا ہے۔ بیماری، علالت، روگ، درد اور موت آج بھی دنیا میں حقیقتیں ہیں۔ جب تک کہ خداوند کی دوبارہ آمد نہ ہو ہر ایک شخص جو آج زندہ ہے وہ ایک دن ضرور مرے گا۔ اور ان میں سے نہایت اکثریت (مسیحیوں کو شامل کرتے ہوئے) جسمانی پریشانی جیسے (بیماری، علالت، زخم، حادثے وغیرہ)کے سبب سے ہی مریں گے۔ یہ نہ سمجھیں کہ خدا ہمیشہ ہی ہماری جسمانی شفا چاہتا ہے۔

آخر میں، ہماری کامل جسمانی شفا جنت میں ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ جنت میں نہ کوئی درد ہوگا نہ آہ و نالہ، نہ بیماری، نہ ماتم نہ مصیبت و اذیت اور نہ موت ہوگی (مکاشفہ 21 باب)۔ ہم سب کوکسی اور چیز سے پہلے اس دنیا میں ہماری جسمانی حالت کو قبضہ میں کرناہوگا۔بلکہ اس سے زیادہ ہمار ی روحانی حالت کو قبضہ میں کرنے کی ضرورت ہے (رومیوں 2-1 :12)۔ پھر ہم اپنے دلوں کو آسمانی مقام کی طرف لگائے رکھیں جس سے کہ ہم کو آگے چل کر جسمانی پریشانیوں سے برتاؤکرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مکاشفہ 21:4 اس حقیقی شفا کا بیان کرتی ہے جس کی ہم سب یعنی کہ تمام میسحی خواہش رکھتے ہیں "کہ خداان کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اس کے بعد نہ موت رہے گیاور نہ ماتم رہے گی۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں"۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



شفا کی بابت کلام پاک کیا کہتاہے؟ کیا مسیح کے کفارہ میں شفا موجود ہے؟