settings icon
share icon
سوال

مَیں ایک ٹوٹے ہوئے رشتے کے درد کو کیسے دُور کر سکتا ہوں؟

جواب


دنیا ٹوٹے دِلوں، شکستہ رُوحوں اور ٹوٹے ہوئے رشتوں سے بھری پڑی ہے۔ ٹوٹے ہوئے رشتے کا درد شخصی نقصان کے ایک ایسے حقیقی احساس پر مشتمل ہوتا ہے جو کسی کے مرجانے کے غم سے مختلف نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ غم اتنا شدید ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کو صحیح طریقے سے کام کرنے سے روکے رکھتا ہے اور انتہائی صورتوں میں ذہنی خلش یا خودکشی کی تحریک کا بھی باعث ہو سکتا ہے۔ دنیا غم کو کم کرنے کے لیے مختلف طریقے پیش کرتی ہے: اینٹی ڈپریشن کی گولیا ں کھانا، غصے کے جذبات کو خط کی صورت میں لکھنا اور اسے پھاڑ دینا، خرید اری کرنا، بناؤ سنگار کرنا وغیرہ۔ کچھ لوگ مثبت سوچ کی طاقت کی حمایت کرتے ہیں۔ سب سے عام "علاج" وقت ہے۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹوٹے دل کے غم کی شدت کم ہو سکتی ہے مگر صرف خدا کا فرزند ہی مکمل صحت یابی کا تجربہ کر سکتا ہے کیونکہ صرف مسیحیوں کو ہی خدا کے اُس روح کی قوت تک رسائی حاصل ہے جو " شِکستہ دِلوں کو شِفا دیتا ہے اور اُن کے زخم باندھتا ہے " (147زبور 3آیت )۔

یسوع مسترد کئے جانے کے درد کو سمجھتا ہے۔" وہ اپنے گھر آیا اور اُس کے اپنوں نے اُسے قبُول نہ کِیا"( یوحنا 1باب 11آیت )۔ یسوع کو اُس کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک نے دھوکہ دیا تھا (یوحنا 6باب 71آیت ؛بالموازنہ 41زبور 9آیت )۔ جب ہم ٹوٹے رشتے کے غم سے نمٹ رہے ہوتے ہیں تو ہمیں اپنے بوجھ کو خُداوند کے حضور لانا چاہیے (1 پطرس 5باب 7آیت )۔ وہ رونے والوں کے ساتھ روتا ہے (یوحنا 11باب 35آیت ؛ رومیوں 12 باب 15آیت )اور وہ " ہماری کمزورِیوں میں ہمارا ہمدرد " بننے کے قابل ہے (عبرانیوں 4باب 15آیت)۔

کوئی ٹوٹا ہوا رشتہ بہت سے منفی جذبات کو جنم دے سکتا ہے۔ مسیحی اُس لاحاصلیت کو سمجھتے ہیں جو اُن کے جذبات کو اُن کی رہنمائی کرنے کی اجازت دینے میں ظاہر ہوتی ہے ۔ یسوع مسیح نے ہمیں ہر رُوحانی نعمت بخشی اور ہمیں اُس میں قابلِ قبول بنایا ہے (افسیوں 1باب 3، 6آیت)۔ یہ قبولیت ہمارے مسترد ہونے کے تمام احساسات سے بالاتر ہےجس کا ہمیں سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ یہ "امید" کی ہوئی باتوں پر نہیں بلکہ "معلوم "کی ہوئی باتوں پر مبنی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خُدا نے ہمیں قبول کیا ہے اس لیے کہ خُدا کا کلام ہمیں ایسا بتاتا ہے اور جیسے جیسے ہم ایمان کے ساتھ اس سچائی میں مضبوط ہوتے جاتے ہیں یہ ہمارے دِلوں اور زندگیوں کو بدلتی جاتی ہے۔

ہر انسان کو کسی نہ کسی وقت ٹوٹے ہوئے رشتے کے غم کا سامنا ہوتا ہے۔چونکہ ہم زوال پذیر دنیا میں رہتے ہیں لہذا ہمارا غم کرنا اور مایوس ہونا مقرر ہے ۔ ہم اِ س غم اور مایوسی کے ساتھ نمٹنے کے لیے جس چیز کا انتخاب کرتے ہیں وہ ہمیں خداوند کے ساتھ چلنے میں مضبوط کر سکتی ہے۔ خدا زندگی کی مایوسیوں میں ہمارے ساتھ ساتھ رہنے کا وعدہ کرتا ہے (عبرانیوں 13باب 5آیت ) اور وہ ہمیں آگاہ کرنا چاہتا ہے کہ ہمارے لیے اُس کی دستگیری یقینی ہے ۔ جب اُس میں قائم رہتے ہیں تو اُس کا فضل اور اطمینان ہمارا ہو جاتا ہے ۔

نئی پیدایش کے حامل خدا کے ہر فرزند کو مسیح میں برکات حاصل ہیں لیکن ہمیں اُن کو استعمال کرنے کا انتخاب کرنا ہے۔ ٹوٹے ہوئے رشتے کے باعث مسلسل اداسی اور افسردگی میں رہنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے بینک میں لاکھوں روپے ہونے کے باوجود ایک مسکین کی طرح زندگی گزارنا ، کیونکہ ہم اپنی ضرورت کے لیے اُس میں سے کبھی کچھ نہیں نکالتے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہم جس چیز کو نہیں جانتے اسے استعمال نہیں کر سکتے۔ لہٰذا ہر ایماندار کو "خُداوند اور مُنّجی یِسُوعؔ مسیح کے فضل اور عرفان "میں بڑھنے" (2پطرس 3باب 18آیت ) اور" عقل نئی ہو جانے سے اپنی صورت " بدلنے (رومیوں 12 باب 2آیت) کی کوشش کرنی چاہیے ۔ ہمیں اس بات کی حقیقی سمجھ کے ساتھ مسلح ہو کر زندگی کا سامنا کرنا چاہیے کہ ایمان کے ساتھ چلنے کا کیا مطلب ہے۔

ایمانداروں کے طور پر ہمارا تعین ماضی کی ناکامیوں، مایوسی یا دوسروں کی طرف سے مسترد کئے جانے سے نہیں کیا جانا چاہیے ۔ بلکہ یہ تعین خدا کے ساتھ ہمارے تعلق کے لحاظ سے کیا جانا چاہیے ۔ ہم خدا کے فرزند ، عقل نئی ہونے کے ساتھ نئے سرے سے پیدا ہوئے، ہر رُوحانی نعمت سے نوازے گئے اور مسیح یسوع میں چُنے ہوئے ہیں ۔ ہمارے پاس دنیا پر غالب آنے والا ایمان ہے (1 یوحنا 5باب 4آیت )۔

اِس زندگی کی "سب باتوں " سے گزرنے کے واسطے خُدا نے ہم میں سے ہر ایک کے لیے کے منفرد مواقع تیار کیے ہیں۔ ہم یا تو اپنی طاقت جسے پولس رسول ہمارا "بدن " کہتا ہے کی رُوسے چل سکتے ہیں یا ہم روح القدس کی قوت کی رہنمائی میں چل سکتے ہیں۔ یہ چناؤ ہمارا اپنا ہے۔ خُدا نے ہمیں ہتھیار فراہم کیے ہیں لیکن اُن سے مسلح ہونا ہم پر منحصر ہے (افسیوں 6باب 11-18آیات)۔

اِس زندگی میں ہمیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مگر ہم بادشاہ کے فرزند ہیں اور ہمیں جس تردید کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ابدی جلال کے مقابلے میں ایک لمحاتی تکلیف ہے۔ ہم اِسے اجازت دے سکتے ہیں کہ یہ ہمیں دبائے رکھے یا ہم خدا کے فرزند کی میراث کا دعویٰ کر سکتے اور اُس کے فضل سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ پولس رسول کی طرح ہم اُن چیزوں کو جو "پیچھے رہ گئِیں ، بُھول کر آگے کی چیزوں کی طرف " بڑھ سکتے ہیں (فلپیوں 3باب 13 آیت)۔

دوسروں کو معاف کرنابحالی کے عمل کے لیے اہم ہے۔ نفرت کو قائم رکھنا یا بُعض پالنا صرف اور صرف ہماری اپنی رُوح کو خراب کرتا ہے۔ ہاں، حقیقت میں ہمارے ساتھ بد سُلوکی کی جاسکتی ہے اور، ہاں، درد حقیقی ہے لیکن معاف کرنے میں آزادی ہے۔ معافی ایک ایسا تحفہ ہے جسے ہم دوسروں کو دے سکتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں خداوند یسوع مسیح نے عطا کیا تھا (افسیوں 4باب 32آیت )۔

اُس خدا کو جاننا کتنا اطمینان بخش ہے جو فرماتا ہے کہ " مَیں تجھ سے ہرگِز دست بردار نہ ہوں گا اور کبھی تجھے نہ چھوڑوں گا"(عبرانیوں 13باب 5 آیت)۔ ایماندار کو تسلی دینے کے لیے خدا ہمیشہ قریب ہے۔ " ہمارے خُداوند یِسُوع مسیح کے خُدا اور باپ کی حمد ہو جو رحمتوں کا باپ اور ہر طرح کی تسلّی کا خُدا ہے۔ وہ ہماری سب مصیبتوں میں ہم کو تسلّی دیتا ہے تاکہ ہم اُس تسلّی کے سبب سے جو خُدا ہمیں بخشتا ہے اُن کو بھی تسلّی دے سکیں جو کِسی طرح کی مصیبت میں ہیں "(2 کرنتھیوں 1باب 3-4آیات)۔ خدا جو جھوٹ نہیں بول سکتا،اُس نے آزمایشوں میں ہمارے ساتھ ساتھ رہنے کا وعدہ کیا ہے: "جب تُو سیلاب میں سے گُذرے گا تو مَیں تیرے ساتھ ہُوں گا اور جب تُو ندیوں کو عبُور کرے گا تو وہ تجھے نہ ڈُبائیں گی۔ جب تُو آگ پر چلے گا تو تجھے آنچ نہ لگے گی اور شُعلہ تجھے نہ جلائے گا"( یسعیاہ 43باب 2آیت)۔

" اپنا بوجھ خُداوند پر ڈال دے۔ وہ تجھے سنبھالے گا۔ وہ صادِق کو کبھی جُنبش نہ کھانے دے گا" (55زبور 22آیت)۔ جذبات اصل میں خیالات سے پیدا ہوتے ہیں لہذا ہم کیسے محسوس کرتے ہیں اِن کی تبدیلی کے لئے ہمیں اپنے خیالات کو تبدیل کرنا چاہیے ۔ اور یہی وہ عمل ہے جو خدا چاہتا ہے کہ ہم کریں ۔ فلپیوں 2باب 5آیت میں مسیحیوں سے فرمایا جاتا ہے کہ "وَیسا ہی مِزاج رکھّو جیسا مسیح یِسُوع کا بھی تھا"۔ فلپیوں 4باب 8آیت میں مسیحیوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اُن چیزوں کے بارے میں غور کریں جو سچی، پُر وقار ، واجب ، پاک ، پسندیدہ ، نیک نامی کی اور قابل تعریف ہیں۔ کلسیوں 3باب 2 آیت فرماتی ہے کہ " عالَمِ بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو نہ کہ زمین پر کی چیزوں کے۔" جب ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمارے مسترد ہونے کے احساسات کم ہوتے جاتے ہیں۔

ٹوٹے ہوئے رشتے کے غم پر قابو پانے کا عمل دن بدن بڑھنے ، خدا کی رہنمائی کے لیے دعا کرنے اور خدا کے کلام کو پڑھنے اور اس پر دھیان و گیان کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ بحالی ہماری اپنی کوششوں سے کبھی نہیں آسکتی ہے؛یہ صرف اور صرف خداوند کی طرف سے آتی ہے۔ یہ بات ہمارے دھیان کو ہماری اپنی ذات سے ہٹانے اور اِس کی بجائے خدا پر مرکوز کرنے میں مدد کرتی ہے۔ خدا ہمیں پوری طرح بحال کر سکتا ہے۔ وہ ہماری شکستہ حالی کو لے سکتا اور ہمیں ایسا انسان بنا سکتا ہے جو وہ ہمیں بنانا چاہتا ہے۔ ٹوٹا ہوا رشتہ تکلیف دہ ہے مگر خداوند مہربان ہے۔ وہ ہماری زندگیوں کو معنی، مقصد اور شادمانی بخش سکتا ہے۔ خداوند یسوع نے فرمایا ہے کہ "جو کوئی میرے پاس آئے گا اُسے مَیں ہرگِز نِکال نہ دُوں گا"(یوحنا 6باب 37آیت) ۔ ہمارے خداوند کا اپنے لوگوں کے ساتھ اٹوٹ رشتہ ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں ایک ٹوٹے ہوئے رشتے کے درد کو کیسے دُور کر سکتا ہوں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries