settings icon
share icon
سوال

کیا مسیحی خواتین کو سر ڈھانکنا چاہیے؟

جواب


1کرنتھیوں 11باب 3-16آیات خواتین اور سر ڈھانکنے کے معاملے کے بارے میں بات کرتی ہیں ۔ 1کرنتھیوں 11باب 13-16آیات کا تمام سیاق و سباق خدا کی طرف سے دی گئی ترتیب اور " احکام کی فہر ست " کو ماننے کے بارے میں ہے ۔ عورت کی اوڑھنی کو ترتیب ، سربراہی اور خدا کے اختیار کی مثال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس حوالے یعنی 1کرنتھیوں 11باب میں 3آیت کلیدی حیثیت کی حامل ہے "پس مَیں تمہیں آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہر مرد کا سر مسیح اور عورت کا سر مرد اور مسیح کا سر خُدا ہے ۔" اس آیت کا اطلاق اس حوالے کے با قی حصہ میں پایا جاتا ہے ۔خدا کی دی گئی ترتیب کچھ یوں ہے : خدا باپ، خدا بیٹا، مرد یا شوہر اور عورت یا بیوی۔ کرنتھیس کی کلیسیا کی کسی ایماندار بیوی کا چھپا ہوا یا ڈھانپا ہواسر اس بات کا اظہار تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ماتحت ہے اور اس کے نتیجہ میں خدا کے تابع ہے ۔

اس حوالے میں 10 آیت بھی شامل ہے : "پس فرشتوں کے سبب سے عورت کو چاہئے کہ اپنے سر پر محکوم ہونے کی علامت رکھے"۔ فرشتوں کے لیے ایسا کرنا کیوں ضروری ہے ؟انسانو ں کے ساتھ خدا کی رفاقت ایک ایسی بات ہے جس پر فرشتے غور کرتے ہیں اور جس سے سیکھتے ہیں ( 1پطرس 1باب 12 آیت)۔ لہذا عورت کا خدا کے اختیار کے تابع رہنا فرشتوں کے لیے ایک مثال ہے ۔ پاک فرشتے جو کامل اور پورے طور پر خدا کے تابع ہیں توقع کرتے ہیں کہ مسیح کے پیرو کا ر ہونے کے ناطے ہم بھی ایسی ہی تابعداری کا مظاہرہ کریں ۔

اوڑھنی سے مراد نہ صرف کپڑا ہے بلکہ یہ عورت کے بالوں کی لمبائی کے بارےمیں بھی حوالہ ہو سکتا ہے ۔ ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں ؟ اس آیت کو ہمیں اس کے سیاق و سباق یا پسِ منظر میں دیکھنا چاہیے جس میں یہ پیش کی گئی ہے ۔ "کیا تم کو طبعی طور پر بھی معلوم نہیں کہ اگر مرد لمبے بال رکھے تو اُس کی بے حُرمتی ہے؟۔ اور اگر عَورت کے لمبے بال ہوں تو اُس کی زینت ہے کیونکہ بال اُسے پردہ کے لئے دئیے گئے ہیں " ( 1کرنتھیوں 11باب 14- 15 آیات)۔ چنانچہ اس حوالے کے تناظر میں ایک عورت جس نے لمبے بال رکھے ہوئے ہیں نمایا ں طور پر خود کو ایک مرد کی بجائے ایک عورت کے طور پیش کرتی ہے ۔ پولس رسول یہاں بیان کر رہا ہے کہ کرنتھس کی ثقافت میں جب کسی بیوی کے بال اُس کے شوہر کے بالوں سے لمبے ہوتے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی کہ وہ اپنے شوہر کے تابع ہے ۔ مرد اور عورت کے کردار کو خدا نے ایک گہرا رُوحانی سبق پیش کرنے کےلیے تشکیل دیا ہے اور یہ خدا کی مرضی اور حکم کے تابع رہنے کا سبق ہے ۔

لیکن بال اس حوالے میں مسئلہ کیسے ہیں ؟ پولس رسول یہاں کرنتھس شہر کی ثقافت سے متعلق اُس مسئلے کے بارے میں بات کررہا ہے جو کلیسیا میں خلل ڈالنے کا باعث بن رہا تھا ۔ سر منڈوانا عورت کے لیے بے عزتی کی بات تھی ( اور یہودی تصور کے مطابق ماتم کی علامت تھی استثنا 21باب 12 آیت) ۔ اُس کے بال اُس کی " زینت" تھے ( 1کرنتھیوں 11باب 15آیت)۔ کرنتھس شہر کی ثقافت میں عورتیں اپنے شوہروں کے تابع ہونے کی علامت کے طور پر عام طور پر اپنے سر کو ڈھانکے رکھتی تھیں ۔ پولس رسول اس ثقافتی حکم کی پیروی کرنے کی سچائی کی تصدیق کرتا ہے –کیونکہ عورتوں کو سر ڈھانکنے سے چُھوٹ دینا ثقافت کے حق میں بڑے پیمانے پر غلط تاثر دے گا ۔ درحقیقت پولس رسول بیان کرتا ہے کہ اگر کوئی مسیحی عورت اپنے سر کو ڈھانکنے سے انکار کرتی ہے تو اُسے سر کو منڈوانا بھی چاہیے ( 6آیت)۔ اس ثقافت میں سر ڈھانکنے سے انکار کرنے والی عورت بنیادی طور پر یہ دعویٰ کر رہی ہوتی تھی کہ " مَیں خدا کے حکم کو ماننے سے انکار کرتی ہوں " ۔ لہذا پولس رسول کرنتھس کی کلیسیا کو یہ تعلیم دے رہا ہے کہ عورت کا لمبے بال رکھنا یا اپنے سر کو ڈھانکنا خدا اور ا ُس کے قائم کردہ اختیار کے تابع رہنے کے دلی رویے کی ظاہری نشاندہی ہے ۔

خدا کی طرف سے دی گئی ترتیب یہ ہے کہ شوہر بیوی کا سر ہے جیسے خدا مسیح کا سر ہے لیکن اس(خدا باپ اور خُداوند یسوع مسیح کے تعلق) میں کسی طرح کی عدم مساوات یا کمتری کا عنصر نہیں پایا جاتا ۔ خدا اور مسیح برابر اور متحد ہیں جس طرح شوہر اور بیوی ایک ہیں ۔ یہ حوالہ ایسی تعلیم نہیں دیتا ہے کہ عورت مرد سے کمتر ہے یا اسے ہر مرد کے تابع رہنا چاہیے ۔ یہ حوالہ شادی کے رشتے میں خدا کی ترتیب اور رُوحانی سربراہی کے بارےمیں تعلیم دے رہا ہے ۔ کرنتھس کی ثقافت میں ایک ایسی عورت جس نے عبادت کے دوران یا عام لوگوں میں سر ڈھانکا ہوتا تھا وہ خدا کے اختیار کے تابع ہونے کا مظاہرہ کر رہی ہوتی تھی ۔

آج کل کی ثقافت میں ہم کسی عورت کو تابعدار ی کی علامت کے طور پر سر ڈھانکے ہوئے مزید نہیں دیکھتے ۔ زیادہ تر جدید معاشروں میں سکارف یا ہیٹ فیشن کے لوازمات میں آتے ہیں ۔ اگر کوئی عورت سرڈھانکنے کو اپنے شوہر کے اختیار کے ماتحت رہنے کی علامت کے طور پر دیکھتی ہے تواُس کے پاس سر ڈھانکنے کا انتخاب موجود ہے ۔ تاہم یہ ایک ذاتی انتخاب ہے نہ کہ ایسا عمل جس کے ذریعے کسی شخص کی رُوحانی حالت کو پرکھنا چاہیے ۔ یہاں اصل معاملہ اُس دِلی رویے کا ہےجو خدا کے اختیار کی پیروی اوراُس کے قائم کردہ حکم کی تابعداری پر مبنی ہے ( افسیوں 5باب 22آیت)۔ سر ڈھانکنے کی ظاہری تابعداری کے مقابلے میں خدا فرمانبردار رویے کو زیادہ پسند کرتا ہے ۔ 1تیمتھیس 2باب 9-10آیات"اِسی طرح عورتیں حیادار لباس سے شرم اور پرہیزگاری کے ساتھ اپنے آپ کو سنواریں نہ کہ بال گوندھنے اور سونے اور موتیوں اور قیمتی پَوشاک سے۔ بلکہ نیک کاموں سے جیسا خُدا پرستی کا اِقرار کرنے والی عورتوں کو مناسب ہے۔"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مسیحی خواتین کو سر ڈھانکنا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries