settings icon
share icon
سوال

مَیں عادتاً کئے جانے والے گناہ پر کیسے غالب آ سکتا ہوں ؟

جواب


عادتاً کئے جانے والے کسی گناہ پر کیسے قابو پایا جائے اِس حوالہ سے سب سے پہلی چیز اُس تبدیلی یا بدلاؤ پر غور کرنا ہے جو کسی شخص کے نجات پانے کے موقع پر رونما ہوتی ہے ۔ بائبل نفسانی انسان کو " قصُوروں اور گُناہوں کے سبب سے مُردہ " قرار دیتی ہے (افسیوں 2باب 1آیت)۔ آدم کے گناہ میں مبتلا ہونے کے باعث انسان رُوحانی طور پر مُردہ پیدا ہوتا ہے۔ رُوحانی موت کی اِس حالت میں انسان خدا کی پیروی اور فرمانبرداری کرنے کے نہ تو قابل ہے اور نہ ہی ایساچاہتا ہے اور فطری طور پر عادتاً کئے جانے والے گناہ کی پیروی کرتا ہے۔ نفسانی آدمی خُدا کی باتوں کو بے وقوفی خیال کرتا ہے (1 کرنتھیوں 2 باب 14آیت) اور خُدا سے دشمنی رکھتا ہے (رومیوں 8باب 7آیت)۔ جب کوئی شخص نجات پاتا ہے تو اُس میں ایک تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ پولس رسول اِس تبدیل شدہ انسان کو نئے مخلوق کے طور پیش کرتا ہے (2 کرنتھیوں 5باب 17آیت)۔ جب سے ہم مسیح پر ایمان لائے ہیں تب سے ہم تقدیس کے عمل میں ہیں۔

تقدیس وہ عمل ہے جس کے ذریعے سے مسیح پر ایمان لانے والوں کو رُوح القدس کے وسیلے مسیح کے ہمشکل بنایا جاتا ہے (رومیوں 8باب 29آیت)۔ تقدیس کا عمل اِس زندگی میں کبھی مکمل نہیں ہو گا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایماندار اپنی فطرت میں موجود گناہ کے ساتھ مسلسل جدوجہد کرتے رہیں گے۔ پولس رسول گناہ کے ساتھ اِس جنگ کو رومیوں 7باب 15-25آیات میں بیان کرتا ہے۔ اس حوالے میں وہ غور کرتا ہے کہ اگرچہ وہ اُس کام کو کرنا چاہتا ہے جو خدا کی نظر میں بھلا ہے مگر اُس کے بجائے اکثر وہ کام کرتا ہے جو بُرا ہے ۔ وہ اُس برائی کو کرتا ہے جو وہ کرنا نہیں چاہتا اور نیکی کرنے میں ناکام رہتا ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے۔ یوں وہ گناہ کے خلاف اُس جدوجہد کو بیان کر رہا ہےجس کا ہر مسیحی کو سامنا ہے ۔

یعقوب رسول کہتا ہے کہ ہم سب اکثر کئی طرح سے گناہ کرتے ہیں ( یعقوب 3باب 2آیت)۔ مشاہدے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم گناہ کے خلاف مختلف طرح سے جدوجہد کرتے ہیں ممکن ہے کہ کوئی گناہ کسی ایک ایماندار کے لیے دوسرے ایماندارکے مقابلے میں زیادہ ٹھوکر کا باعث ہو۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ غصہ ہو سکتا ہے جبکہ دوسروں کے لیے یہ گپ شپ یا جھوٹ بولنا ہو سکتا ہے۔ ہم ایسے کسی گناہ کا ذکر " بار بار " یا " عادتاً کئے جانے والے " گناہ کے طور پر کر سکتے ہیں جس پر قابو پانا ہمارے لیے خصوصاً مشکل ہوتا ہے ۔ بار بار کئے جانے والے گناہ مکمل طور پر نہیں مگر اکثر وہ عادات ہوتی ہیں جو ہم نے اپنی زندگی کے اُس حصے میں قائم کی تھیں جب ہم بے ایماندار تھے، اور اُن پر قابو پانے کے لیے زیادہ فضل اور نظم و ضبط کی ضرورت ہوتی ہے۔

اِن عادتاً یا بار بار کئے جانے والے گناہوں پر قابو پانے کے عمل کا ایک حصہ اُس تبدیلی کو تسلیم کرنا ہے جو بلاشبہ ایماندار کے اندر رونما ہوئی ہے ۔ پولس رسول لکھتا ہے " اِسی طرح تم بھی اپنے آپ کو گُناہ کے اِعتبار سے مُردہ مگر خُدا کے اِعتبار سے مسیح یِسُوع میں زِندہ سمجھو" ( رومیوں 6باب 11آیت)۔ جب پولس رسول کہتا ہے کہ "اپنے آپ کو گُناہ کے اِعتبار سے مُردہ ۔۔۔۔ سمجھو" تو وہ ہمیں یہ یاد رکھنے کے لیے کہہ رہا ہے کہ مسیح کے پاس آنے سے ہماری زندگیوں پر گناہ کا اختیار جاتا رہا ہے۔ اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے وہ غلامی کے استعارے کو استعمال کرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب ہم گناہ کے غلام تھے لیکن اب ہم راستبازی کے غلام ہیں (رومیوں 6باب 17-18آیات )۔ صلیب پر گناہ کے اختیار کو ختم کر دیا گیا ہے اور مسیح کو قبول کرنے سے ہم اُس تسلط سے آزاد ہو گئے ہیں جو گناہ ہم پر رکھتا تھا ۔ لہذا جب ایک مسیحی گناہ کرتا ہے تو یہ اُس کی فطرت کی ضرورت کے پیش نظر نہیں ہے بلکہ اس لیے ہے کہ اُس نے جان بوجھ کر خود کو گناہ کے تسلط کے تابع کر دیا ہے (گلتیوں 5باب 1آیت )۔

اس عمل کا اگلا حصہ عادتاً کئے جانے والےگناہ پر قابو پانے میں ہماری نااہلی کو ماننا اور خدا کے اُس رُوح القدس کی قوت پر انحصار کرنا ہے جو ہمارے اندر بستا ہے۔ واپس رومیوں 7باب کی طرف آتے ہیں ۔ پولس رسول کہتا ہے"کیونکہ مَیں جانتا ہُوں کہ مجھ میں یعنی میرے جسم میں کوئی نیکی بسی ہُوئی نہیں البتہ اِرادہ تو مجھ میں موجُود ہے مگر نیک کام مجھ سے بن نہیں پڑتے"(رومیوں 7باب 18آیت )۔ گناہ کے خلاف ایک مسیحی کی جدوجہد ایسا عمل ہے جس میں ہماری جسمانی صلاحیت ہماری خواہش کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ اس لیے ہمیں رُوح القدس کی قوت کی ضرورت ہے۔ پولس رسول بعد میں کہتا ہےکہ "اگر اُسی کا رُوح تم میں بسا ہُوا ہے جس نے یسُوع کو مُردوں میں سے جِلایا تو جس نے مسیح یسُوع کو مُردوں میں سے جِلایا وہ تمہارے فانی بدنوں کو بھی اپنے اُس رُوح کے وسیلہ سے زِندہ کرے گا جو تُم میں بسا ہُوا ہے"( رومیوں8باب 11آیت )۔ خدا کے کلام کے وسیلے ( یوحنا 17باب 17آیت) رُوح القدس خدا کے لوگوں کی زندگیوں میں تقدیس کا کام سر انجام دیتا ہے۔ جب ہم خود کو خدا کے تابع کرتے اور جسمانی خواہشوں کو رد کرتے ہیں (یعقوب 4باب 7-8آیات) تو عادتاً کئے جانے والے گناہ پر قابو پا لیا جاتا ہے ۔

عادتاً کئے جانے والے گناہ پر قابو پانے کے عمل کا ایک اور حصہ اُن عادات کو تبدیل کرنا ہے جو اِس گناہ کو آسان بناتی ہیں۔ ہمیں یوسف کے رویے کواپنانا ہوگا جو اپنا پیراہن اُس عورت کے ہاتھ میں ہی چھوڑ کر فوراً کمرے سے بھاگ نکلا جب فوطیفار کی بیوی نے اُسے اپنے ساتھ ہمبستر ہونے کے لیے اُکسایا( پیدایش 39باب 15آیت)۔ ہمیں اُن چیزوں سے بھاگنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے جو ہمیں گناہ کی طرف مائل کرتی ہیں بشمول بسیار خوری کی اجازت اور فحش نگاری تک رسائی ، اگر یہ ہمیں جنسی گناہ کی طرف مائل کرتے ہیں ۔خُداوند یسوع ہمیں کہتا ہے کہ اگر ہمارا ہاتھ ہمیں ٹھوکر کھلائیں تو ہم اُسے کاٹ ڈالیں ، اگر ہماری آنکھ ہمیں ٹھوکر کھلائے تو اُسے نکال ڈالیں(متی 5باب 29-30آیات)۔ اِس کا مطلب اُن چیزوں کو اپنی زندگیوں سے ہٹا دینا ہے جو ہمیں گناہ کرنے پر اکساتی ہیں حتی ٰ کہ جب ہم اِن چیزوں سے لطف اندوز بھی ہوتے ہوں۔ مختصر یہ کہ ہمیں اُن عادات کو بدلنا ہو گا جو عادتاً کئے جانے والے گناہ کی طرف ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔

آخر میں، ہمیں خود کو انجیل کی سچائی میں محوکرنے کی ضرورت ہے۔ انجیل نہ صرف وہ ذریعہ ہے جس کے وسیلے ہم نجات پاتے ہیں بلکہ یہ وہ ذریعہ بھی ہے جس کے وسیلے ہماری تقدیس کی جاتی ہے ( رومیوں 16باب 25آیت)۔ اگر ہم سوچتے ہیں کہ ہم نے فضل سے نجات پائی ہے مگر اپنی کوششوں سے پاک ہوتے ہیں تو ہم غلطی پر ہیں (گلتیوں 3باب 1-3آیات)۔ تقدیس کا عمل بھی ویسے ہی خدا کا کام ہے جیسے راستباز ٹھہرایا جانا۔ ہمارے پاس کلام مقدس کا وعدہ ہے کہ "جس نے تم میں نیک کام شروع کِیا ہے وہ اُسے یسُوع مسیح کے دِن تک پُورا کر دے گا"(فلپیوں 1باب 6آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں عادتاً کئے جانے والے گناہ پر کیسے غالب آ سکتا ہوں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries