settings icon
share icon
سوال

طلاق کے لیے بائبلی بنیادیں کونسی ہیں ؟

جواب


بائبل طلاق کے بارے میں کیا کہتی ہے اس بار ے میں بات کرتے وقت ملاکی 2باب 16آیت کے الفاظ کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے " خُدا فرماتا ہے مَیں طلاق سے بیزار ہُوں۔" بائبل طلاق کے لیے ممکنہ طور پر جو بھی وجوہات پیش کرتی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ اُن صورتوں میں طلاق واقع ہو۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "کیا ______ طلاق کی بنیاد ہے " اِس کے بجائے سوال یہ ہونا چاہیے کہ "کیا _______ معافی ، بحالی او ر/یا صلح کی بنیاد ہے ؟"(خالی جگہ پر کوئی بھی وجہ یا بنیاد لکھی جا سکتی ہے۔)

بائبل طلاق لینے/دینے کی دو واضح بنیادیں پیش کرتی ہے(1) حرامکاری ( متی 5باب 32آیت؛ 19باب 9آیت) اور( 2) غیر ایماندار جیون ساتھی کی طرف سے چھوڑ دیا جانا (1 کرنتھیوں7باب 15آیت) ۔ یہاں تک کہ ان دو بیانات میں بھی طلاق کا تقاضا یا اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حرامکاری اور ترک کیا جانا طلاق کی بنیادیں ( یعنی طلاق کے لیے چُھوٹ/اجازت) ہیں ۔ اعتراف ، معافی ، صلح اور بحالی ہمیشہ پہلے اقدامات ہونے چاہیے ۔ اور طلاق کو صرف آخری انتخاب کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

بائبل واضح طور پر جو کچھ کہتی ہے کیا اس کے علاوہ طلا ق کی کوئی اور بنیادیں ہیں ؟ ہو سکتی ہیں، لیکن ہم خود سے فرض کر کے اُسے کلام مقدس سے منسوب نہیں کر سکتے ۔بائبل جو کچھ فرماتی ہے اُس سے آگے بڑھ جانا انتہائی خطرناک بات ہے (1کرنتھیوں 4باب 6آیت)۔ طلاق کےلیے اضافی بنیادیں/وجوہات جن کے بارے میں لوگ اکثر پوچھتے ہیں وہ جیون ساتھی کے ساتھ(جذباتی یا جسمانی) بد سلوکی ، بچّوں کے ساتھ زیادتی ،فحش نگاری کی لت ،منشیات / شراب کا استعمال ،جرم/ قید اورمالی معاملات میں بد نظمی ( جیسے کہ جوئے کی لت کے ذریعے سےمالی انتظام کو خراب کرنا ) ہیں ۔ اِن میں سے کسی کے بارے میں بھی طلاق کے لیے واضح بائبلی بنیاد /وجہ ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔

اس کا لازمی طور پر یہ مطلب بھی نہیں ہےکہ اِن میں سے کسی کو بھی خدا طلاق کی بنیاد کے طور پر منظور نہیں کرے گا ۔ مثال کے طور پر ہم یہ تصور نہیں کر سکتے کہ خدا ایسا چاہے گا کہ کوئی بیوی ایک ایسے شوہر کے ساتھ رہے جو اُس کے اور /یا اپنے بچّوں کے ساتھ جسمانی بد سلوکی کرتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں بیوی کو یقینی طور پر خود کو او ر اپنے بچّوں کو بد سلوک شوہر سے الگ کر لینا چاہیے ۔تاہم ایسی صورت میں بھی علیحدگی کا وقت توبہ اور بحالی کے مقصد کا حامل ہونا چاہے نہ کہ فوراً طلاق کی کارروائی شروع کرنے کے لیے۔ براہ مہربانی یہ سمجھ لیں کہ مذکورہ بالا طلاق کے لیے بائبلی بنیادیں /وجوہات نہیں ہیں مگر ہم بلاشبہ یہ بھی نہیں کہہ رہے ہیں کہ ایک مرد/عورت جس کا جیون ساتھی اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہے اُسے اُس صورتحال میں رہنا چاہیے۔ اگر خود کےلیے یا بچّوں کے لیے کوئی خطرہ ہے تو علیحدگی اختیار کرنا ایک اچھا اور مناسب قدم ہے۔

طلاق کےلیے بائبلی بنیادوں/وجوہات اور طلاق اور دوبارہ شادی کےلیےبنیادوں / وجوہات کے درمیان فرق کرنا اس معاملے کو دیکھنے کا ایک اور طریقہ ہے ۔ کچھ لوگ طلاق کےلیے اوپر بیان کردہ دو بائبلی بنیادوں کی تشریح کچھ اس طرح سے کرتے ہیں کہ یہ طلاق کے بعد دوبارہ شادی کی واحد بنیادیں ہیں لیکن دیگر صورتوں میں دوبارہ شادی کے بغیر طلاق کی اجازت دیتے ہیں ۔ اگر چہ بظاہر یہ ایک معقول تشریح ہے مگر یہ خدا کے کلام کے ساتھ اپنی طرف سےایک مفہوم منسوب کرنے کے قریب تر معلوم ہوتی ہے ۔ براہ مہربانی مزید معلومات کے لیے درج ذیل دو مضامین کا مطالعہ کریں: "بائبل طلاق اور دوبارہ شادی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟" اور " مَیں طلاق یافتہ ہوں۔ کیا مَیں بائبل کے مطابق شادی کر سکتا ہوں؟"

مختصر یہ کہ طلاق کےلیے بائبلی بنیادیں کیا ہیں ؟اس کا جواب بدکاری اور غیر ایماندار ساتھی کی طرف سےچھوڑ دیا جانا ہے ۔ کیا اِن دونوں کے علاوہ بھی طلاق کے لیے کوئی اور بنیادیں /وجوہات ہیں ؟ ممکنہ طور پر ہو سکتی ہیں ۔ کیا طلاق کے بارےمیں کبھی غیر سنجیدہ ہونا یا اُسے پہلے انتخاب کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے ؟ بالکل نہیں ۔ خدا کسی بھی شخص کو بدلنے اور اُس کی اصلاح کرنے کی قدرت رکھتا ہے ۔ خدا کسی بھی شادی کو صحت مند بنانے اور تجدید بخشنے پر قادر ہے ۔ طلاق صرف اور صرف ایسے گھناؤنے گناہ کے رَدعمل میں ہونی چاہیے جو بار بار دہرایا جائے اور اُس سے توبہ نہ کی جائے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

طلاق کے لیے بائبلی بنیادیں کونسی ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries