settings icon
share icon
سوال

رُوح کو رنجیدہ کرنے /بجھانے سے کیا مُراد ہے؟

جواب


کلامِ مُقدس میں جب بھی لفظ "بجھانا" استعمال کیا جاتا ہے تو یہ آگ کو بجھانے کے معنی دیتا ہے۔ جس وقت ایماندار خُدا کے سب ہتھیار پہن کر رُوحانی جنگ کے لیے لیس ہو جاتے ہیں (افسیوں 6باب16 آیت) تو وہ ابلیس کے جلتے تیروں کی طاقت کو بجھا/ختم کر رہے ہوتے ہیں۔ خُداوند یسوع نے جہنم کو ایک ایسے مقام کے طور پر بیان کیا ہے جہاں کی آگ نہیں"بجھتی" (مرقس9باب 44، 46، 48 آیات)۔ اِسی طرح رُوح القدس ایک آگ کی مانند ہے جو ہر ایک ایماندار کے اندر موجود ہے۔ رُوح القدس ہمارے تمام اعمال اور ہر طرح کے رویوں میں اپنے وجود کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔ جب ایماندار اپنے اعمال اور رویوں میں رُوح القدس کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے، جب ہم وہ سب کچھ کرتے ہیں جو ہمارے اپنے علم کے مطابق بھی غلط ہےتو اُس وقت رُوح القدس کو رنجیدہ کرتے ہیں اور اُسکو بجھاتے ہیں۔ ہم رُوح القدس کو اُس انداز سے اپنی زندگیوں سے ظاہر نہیں ہونے دیتے جیسے وہ ظاہر ہونا چاہتا ہے۔

اِس بات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے کہ رُوح القدس کو رنجیدہ کرنے سے کیا مُراد ہے پہلے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ رُوح القدس ایک ذات /شخصیت ہے۔ صرف ایک ذات ، ایک حقیقی شخصیت ہی رنجیدہ ہو سکتی ہے اِس لیے رُوح القدس ایک الٰہی ذات ہے جو جذبات کی مالک ہے۔ جب ہم اِس بات کو سمجھ جاتے ہیں تو پھر ہمیں اِس بات کا بھی اچھی طرح پتا چل جاتا ہے کہ رُوح کس طرح رنجیدہ ہوتا ہے کیونکہ بہت دفعہ ہم خود بھی رنجیدہ ہوتے ہیں۔ افسیوں 4باب30آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں رُوح القدس کو رنجیدہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہم غیر اقوام جیسا چال چلن رکھ کر (4باب 17- 19 آیات)، جھوٹ بول کر (4باب25 آیت)، غصہ کر کے (4باب26-27 آیات)، چوری کر کے (4 باب 28 آیت)، لعنت کر کے (4باب29 آیت)، تلخ مزاجی رکھ کر (4باب31 آیت)، دوسروں کو معاف نہ کرتے ہوئے (4باب32 آیت) اور شہوت پرستی اور حرامکاری کے مرتکب ہو کر (5باب3-4 آیات) رُوح کو رنجیدہ کرتے ہیں۔ گناہ آلود زندگی گزارنا ہی رُوح کو رنجیدہ کرنا ہے۔ ہماری طرف سے ایسا طرزِ عمل چاہے خیال کی صورت میں ہو یا پھر خیال اور عمل کی صورت میں ہو یہ رُوح کو رنجیدہ کرتا ہے۔

رُوح کو بجھانے اور رُوح کو رنجیدہ کرنے کے اثرات بالکل ایک جیسے ہیں۔ یہ دونوں ہی خُدا پرستی کی زندگی گزارنے میں رکاوٹ حائل کرتے ہیں۔ جس وقت کوئی ایماندار خُدا کے خلاف گناہ کرتا ہے اور اپنی جسمانی خواہشات کو پورا کرتا ہے تو اُس کی زندگی میں یہ دونوں عمل ہی وقوع پذیر ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم درست راستہ اپنانا چاہتے ہیں تو وہ راستہ صرف وہی ہے جو ایک ایماندار کو خُداا ور پاکیزگی کےقریب لے کر جائے اور دُنیا اور گناہ سے دور لے کر جائے۔ بالکل اُسی طرح جیسے ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں رنجیدہ کیا جائے، اور بالکل ویسے ہی جیسے ہم کسی اچھی چیز کو بجھانا نہیں چاہتے اُسی طرح ہمیں رُوح القدس کی رہنمائی میں چلنے سے انکار کر کے اُسکو نہ تو رنجیدہ کرنا چاہیے اور نہ ہی بجھانا چاہیے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

رُوح کو رنجیدہ کرنے /بجھانے سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries