بڑا سفید تختِ عدالت کیا ہے؟


سوال: بڑا سفید تختِ عدالت کیا ہے؟

جواب:
بڑے سفید تختِ عدالت کے بارے میں مکاشفہ 20باب 11-15 آیات میں بیان کیا گیا ہے اور یہ اُس وقت کی عدالت ہے جو گمراہ ہونے والے گناہگاروں کو آگ کی جھیل میں ڈالنے سے پہلے ہوگی۔ ہم مکاشفہ 20باب7-15 آیات سے یہ سیکھتے ہیں کہ یہ عدالت ہزار سالہ بادشاہت کے بعد اور شیطان کے اُس آگ کی جھیل میں جہاں پر حیوان اور جھوٹا نبی بھی ہوگا ڈالنے کے بعد ہوگی(مکاشفہ 19باب19- 20 آیات؛ 20 باب 7- 10آیات)۔اِس مقام پر وہ کتابیں جو کھولی جائیں گی (مکاشفہ 20باب12 آیت) اُن میں در اصل ہر ایک انسان کے اعمال کا ریکارڈ ہے، چاہے وہ اعمال اچھے تھے یا بُرے، کیونکہ خُدا ہر ایک اُس چیز کو جانتا ہے جو کبھی کہی گئی، کی گئی اور حتیٰ کہ سوچی بھی گئی اور وہ اُسی کی بناء پر ہر ایک انسان کو سزا یا جزا دے گا (28 زبور 4 آیت؛ 62 زبور 12آیت؛ رومیوں 2باب 6 آیت؛ مکاشفہ 2باب 23 آیت؛ 18 باب 6 آیت؛ 22 باب 12 آیت)۔

اور اُسی وقت ایک اور کتاب بھی کھولی جاتی ہے جسے "کتابِ حیات" کا نام دیا گیا ہے۔(مکاشفہ 20باب12 آیت)۔ اِس کتاب کی روشنی میں اِس بات کا تعین ہوگا کہ آیا کوئی شخص خُدا کے ساتھ ابدی زندگی حاصل کرے گا یا پھر سزا کے طور پر ہمیشہ کے لیے آگ کی جھیل میں ڈال دیا جائے گا۔ اگرچہ مسیحی لوگ اپنے اعمال کے لیے خُدا کے حضور جوابدہ ہیں لیکن جب وہ توبہ کر کے مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لاتے ہیں تو وہ مسیح میں معافی پاتے ہیں اِس لیے بنائے عالمِ سے پیشتر سے ہی اُن کے نام "کتابِ حیات" میں لکھ دئیے گئے ہیں۔ مزید ہم کلام میں سے یہ بھی سیکھتے ہیں کہ یہ وہی عدالت ہے جس کے دوران مُردوں کا بھی اُن کے اعمال کے حساب سے انصاف کیا جائے گا (اعمال 20 باب 12 آیت) اور ہر وہ شخص جس کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا نہ ملا وہ آگ کی جھیل میں ڈالا جائے گا (مکاشفہ 20باب15 آیت)۔

یہ حقیقت کہ تمام ایمانداروں اور غیر ایمانداروں کی ایک آخری اور حتمی عدالت ہوگی کلامِ مُقدس کے بہت سارے حوالہ جات سے واضح ہے ہر ایک شخص ایک دن خُداوند یسوع مسیح کے سامنے کھڑا ہوگا اور اُس کے اعمال کی روشنی میں اُس کا انصاف کیا جائے گا۔ اگرچہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ بڑے سفید تختِ عدالت کے سامنے آخری عدالت ہوگی لیکن مسیحیوں میں اِس حوالے سے کچھ اختلاف پایا جاتا ہے کہ بائبل میں بیان کردہ دیگر عدالتوں کے ساتھ اِس تخت کا کیا تعلق ہے، اور بالخصوص اِس بات پر ابھی مکمل اتفاق نہیں کہ اِس بڑے سفید تخت کے سامنے کن لوگوں کی عدالت کی جائے گی۔

بہت سارے مسیحی یہ ایمان رکھتے ہیں کہ کلامِ مُقدس میں تین مختلف قسم کی عدالتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی عدالت بھیڑوں اور بکریوں کے علیحدہ علیحدہ کئے جانے کی ہے یعنی زمین کی قوموں کی عدالت ہے (متی 25باب31- 36 آیات)، یہ عظیم مصیبت کے بعد لیکن یسوع کی ہزار سالہ بادشاہی سے پہلے وقوع پذیر ہوگی اور اِس عدالت کا مقصد اِس بات کا تعین کرنا ہوگا کہ کون کون ہزار سالہ بادشاہت میں داخل ہوگا۔ دوسری عدالت ایمانداروں کے اعمال کی عدالت ہے، اوریہ عدالت یسوع کے تختِ عدالت کے سامنے ہوگی جسے Bema Seat کے طور پر بھی بیان کیا جاتا ہے(2 کرنتھیوں 5باب10 آیت)۔اِس عدالت کے موقع پر مسیحی خُداوند یسوع مسیح کی خدمت اور اپنے اعمال کے لیے جو اجر پائیں گے اُس کے مختلف درجات ہونگے۔ تیسری عدالت بڑے سفید تختِ کے سامنے ہزار سالہ بادشاہت کے اختتام پر ہوگی(مکاشفہ 20باب11-15 آیات)۔ یہ غیر ایمانداروں کی عدالت ہے جس میں اُن کے اعمال کی روشنی میں ہر کسی کا انصاف ہوگا اور اُنہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آگ کی جھیل میں پھینک کر سزا دی جائے گی۔

اِس کے علاوہ بہت سارے مسیحی ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ تینوں عدالتیں اصل میں صرف ایک ہی آخری عدالت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، خُدا ایک ہی بار سب کی عدالت کرے گا نہ کہ تین بار مختلف اوقات میں مختلف لوگوں کی۔ دوسرے الفاظ میں بڑے سفید تختِ عدالت کے سامنے جو عدالت ہوگی جس کا ذکر مکاشفہ 20 باب 11-15 آیات میں کیا گیا ہے اُسی عدالت کے دوران ایمانداروں اور غیر ایمانداروں کا انصاف کیا جائے گا۔ جن لوگوں کے نام کتابِ حیات میں موجود ہونگے اُن کی عدالت اِس لیے ہوگی کہ اُن کے اعمال کی روشنی میں دیکھا جائے کہ وہ کیا اجر پائیں گے یا کیا اجر کھوئیں گے۔ اور جن کے نام کتابِ حیات کے اندر نہ پائے گئے اُن کی عدالت اِس لیے ہوگی کہ اُن کے اعمال کی روشنی میں دیکھا جائے کہ وہ آگ کی جھیل میں کسی درجے کی اذیت میں مبتلا رہیں گے۔ وہ لوگ جو اِس نظریے کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں وہ یہ مانتے ہیں کہ متی 25باب 31-45 آیات اصل میں بڑے سفید تختِ عدالت ہی کے بارے میں ایک اور بیان ہے۔ یہاں پر وہ اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ متی میں بیان کردہ عدالت کے نتائج بھی بالکل وہی نظر آتے ہیں جو بڑے سفید تختِ عدالت کے سامنے ہونے والی عدالت کے ہیں جس کا ذکر مکاشفہ 20باب11-15 آیات میں کیا گیا ہے۔ بھیڑیں (یعنی ایماندار) ابدی زندگی میں داخل ہوتے ہیں، جبکہ بکریاں (غیر ایماندار) ہمیشہ کی سزا پائیں گی (متی 25باب46 آیت)۔

بڑے سفید تختِ عدالت کے بارےمیں لوگوں کا جو مرضی نظریہ ہو، لیکن یہاں پر اہم ترین بات یہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی اِس حقیقت سے نظریں نہیں پھیرنی چاہییں کہ مستقبل میں عدالت ہونے والی ہے۔ پہلی بات یہ کہ خُداوند یسوع مسیح منصف ہوگا، تمام کے تمام غیر ایمانداروں کی عدالت اور انصاف کیا جائے گا اور اُنہیں اُن کے اعمال کے مطابق بدلہ یعنی ابدی سزا دی جائے گی۔ بائبل اِس بارے میں بڑی ہی واضح ہے کہ تمام کے تمام غیر ایماندار قہر کے دن کے واسطے اپنے لیے غضب کما رہے ہیں (رومیوں 2 باب5 آیت) اور خُدا ہر ایک انسان کو اُس کے کاموں کے مطابق بدلہ دے گا (رومیوں 2باب6 آیت)۔ خُداوند یسوع مسیح ایمانداروں کی بھی عدالت کرے گا، لیکن چونکہ ہمیں خُداوند یسوع مسیح کی راستبازی عطا کی گئی ہے اور ہمارے نام نجات پانے کی وجہ سے کتابِ حیات میں لکھے جا چکے ہیں اِس لیے ہمیں ہمارے اعمال کی بناء پر سزا نہیں بلکہ جزا یا انعام دئیے جائیں گے۔ رومیوں 14باب 10- 12 آیات بیان کرتی ہیں کہ ہم سب خُدا کے تختِ عدالت کے آگے کھڑے ہونگے۔۔۔اور ہم میں سے ہر ایک خُدا کو اپنا حساب دے گا۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
بڑا سفید تختِ عدالت کیا ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں