settings icon
share icon
سوال

شمولیت کی انجیل کیا ہے؟

جواب


شمولیت کی انجیل حقیقت میں پرانی بدعت عالمگیریت ہی ہے جس کی ایک طرح سے نئی پیکنگ کر کے اُسے ایک نیا نام دے دیا گیا ہے۔ عالمگیریت یہ عقیدہ ہے کہ بالآخر سبھی لوگ نجات پا جائیں گے اور پھر سبھی آسمان پر چلے جائیں گے۔ شمولیت کی انجیل کی جو تعلیم کارلٹن پیرسن اور دیگر لوگوں کی طرف سے دی گئی ہے اُس کے اندر کئی ایک جھوٹے عقائد شامل ہیں:

1) شمولیت کی انجیل یہ کہتی ہے کہ یسوع کی موت اور جی اُٹھنے کے عمل کی وجہ سے ساری انسانیت کے گناہوں کی قیمت ادا کر دی گئی ہے تاکہ ساری انسانیت توبہ کرنے کی ضرورت کے بغیر آسمان پر ابدی زندگی سے لطف اندوز ہو سکے۔

2) شمولیت کی انجیل یہ تعلیم دیتی ہے کہ نجات غیر مشروط ہے اور یہ انسانوں سے اِس بات کا بھی تقاضا نہیں کرتی کہ وہ یسوع مسیح پر انسان کے گناہوں کی قیمت ادا کرنے والے مسیحا کے طور پر شخصی ایمان لائیں۔

3) شمولیت کی انجیل اِس بات پر ایمان رکھتی ہے کہ چاہے تمام بنی نوع انسان اِس بات کو جانے یا نہ جانے، اِس بات کا پہلے ہی سے تعین کر لیا گیا ہے کہ ہر ایک انسان آسمان پر ابدی زندگی گزارے گا۔

4) شمولیت کی انجیل اعلان کرتی ہے کہ تمام بنی نوع انسان اپنی اپنی مذہبی وابستگی سے قطع نظر آسمان پر جائیں گے۔

5) آخر میں ، شمولیت کی انجیل یہ ایمان رکھتی ہے کہ صرف وہی لوگ جو "فضل کے پھل کا مزہ چکھنے" کے بعد دانستہ اور شعوری طور پر خُد اکے فضل کا انکار کرتے ہیں وہ اپنی ابدیت خُدا سے جُدائی کی حالت میں گزاریں گے۔

شمولیت کی انجیل خداوند یسوع مسیح اور بائبل مُقدس کی واضح تعلیمات کے بالکل مخالف سمت میں جاتی ہے۔ یوحنا کی انجیل میں یسوع بالکل واضح طور پر یہ بیان کرتا ہے کہ نجات کا واحد راستہ وہ خود ہے (یوحنا 14باب6آیت)۔ خُدا نے یسوع کو اِس دُنیا میں اِس لیے بھیجا تاکہ وہ گناہ میں گری ہوئی انسانیت کے لیے نجات مہیا کر سکے، لیکن وہ نجات صرف اُنہی لوگوں کے لیے ہے جو اپنا ایمان خُداوند یسوع مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر رکھتے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ یسوع کی صلیبی موت اُن کے گناہوں کی قیمت ہے (یوحنا3باب16آیت)۔ رسولوں کی تعلیمات میں ہمیں اِسی پیغام کی باز سنائی دیتی ہے (افسیوں 2باب8-9آیات؛ 1 پطرس 1باب8-9آیات؛ 1یوحنا 5باب13آیت)۔ مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے اعمال کے ذریعے سے نجات حاصل کرنے کی کوششوں پر انحصار نہ کرنا، بلکہ اِس بات پر ایمان رکھنا کہ جو کچھ یسوع نے اپنی صلیبی موت کے ذریعے سے کیا ہے وہ ایمانداروں کی نجات کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہے۔

ایمان کے ساتھ توبہ بھی جُڑی ہوئی ہے۔ دونوں کا باہمی طور پر چولی دامن کا ساتھ ہے۔ توبہ دراصل گناہ کے بارے میں آپ کی ذہنی تبدیلی ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی ہے کہ آپکو یسوع مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لانے کے ذریعے سے نجات کی ضرورت ہے (اعمال 2 باب38آیت)۔ توبہ کے عمل میں ہم اِس بات کا خُدا کی حضوری میں اعتراف کرتے ہیں کہ ہم گناہگار ہیں اور ہم اپنی کسی بھی طرح کی کوشش کی بدولت نجات حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں۔ جب ہم اپنے گناہوں پر پچھتاتے ہیں تو ہم اُن سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں اور یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلے زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یسوع ہر اُس انسان کو نجات کی پیشکش کرتا ہے جو توبہ کرنے اور ایمان لانے کے لیے رضا مند ہے (یوحنا 3باب16آیت)۔ بہرحال یسوع نے یہ بات خود کہی ہے کہ ہر ایک شخص ایمان نہیں لائے گا (متی 7باب13-14آیات؛ یوحنا 3باب19آیت)۔ کوئی بھی انسان ایسا سوچنا پسند نہیں کرتا کہ ایک بہت ہی رحیم اور پیار کرنے والا خُدا لوگوں کو جہنم میں بھیجے گا، لیکن بائبل دراصل بالکل اِسی بات کی تعلیم دیتی ہے۔ یسوع کہتا ہے کہ دُنیا کے آخر میں ابنِ آدم تمام قوموں کے لوگوں کو اُس طرح سے علیحدہ علیحدہ کرے گا جیسے ایک چرواہا بھیڑوں کو بکریوں سے علیحدہ کرتا ہے۔ بھیڑیں (وہ لوگ جنہیں یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلے سے اپنی نجات کی یقین دہانی حاصل ہے) یسوع مسیح کے ساتھ اُسکی بادشاہی میں جائیں گی۔ اور بکریاں ( وہ لوگ جنہوں نے یسوع کی طرف سے پیش کردہ نجات کو رَد کر دیا ہے ) جہنم میں جائیں گی، جسے ابدی آگ کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے (متی 25باب31-46 آیات)۔

بائبل کی یہ تعلیم بہت سارے لوگوں کو ناراض کرتی ہے اور اِسے ناپسند کرنے والے لوگ اپنی سوچ کو تبدیل کر کے خُدا کے کلام کی واضح تعلیمات کے مطابق نہیں ڈھالتے ، بلکہ اُن میں سے کچھ لوگ بائبل کی تعلیمات میں کچھ تبدیلی کر کے ایک جھوٹی تعلیم کا پرچار شروع کر دیتے ہیں۔ شمولیت کی انجیل بھی ایسی ہی جھوٹی تعلیم کی ایک مثال ہے:

1) اگر نجات کے تحفے کو حاصل کرنے کے لیے ایمان اور توبہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو پھر نئے عہد نامے میں بار بار اِس بات کی تعلیم کیوں دی گئی ہے کہ توبہ کریں اورخُداوند یسوع مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لائیں۔

2) اگر نجات کے لیے یسوع کے صلیب پر کئے گئے کام پر ایمان کا تقاضا نہیں کیا جاتا تو پھر یسوع نے اِس قدر ذلت آمیز اور تکلیف دہ موت کو کیوں برداشت کیا؟خُدا ہر ایک انسان کو بڑی آسانی کے ساتھ" الٰہی عام معافی" دے سکتا تھا۔

3) اگر ہر کوئی انسان چاہے وہ جانتا ہے یا نہیں جانتا آسمان پر ہی جا رہا ہے تو پھر انسان کی آزاد مرضی کے بارے میں کیا خیال ہے؟کیا آخر میں اُس دہریے کو اُس کی مرضی کے خلاف ، اُس کے چیخنے چلانے کے باوجود گھسیٹ گھسیٹ کر آسمان پر لے جایا جائے گا جس نے اپنی ساری زندگی خُدا ، بائبل، یسوع اور مسیحیت کو رَد کیا ہے؟شمولیت کی انجیل تو اِس طرف اشارہ کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ آسمان ایسے لوگوں سے بھرا پڑا ہوگا جو غالباً آسمان پر جانا تک نہیں چاہتے تھے۔

4) اب جبکہ اِس دُنیا میں بہت سارے مذاہب ہیں اور وہ غالباً ہر ایک چیز یا بات کے بارے میں مختلف اور تردیدی تصورات رکھتے ہیں تو ایسی صورت میں مختلف مذاہب کے ساتھ وابستگی کے باوجود سبھی لوگ آسمان پر خُدا کی بادشاہی میں کیسے چلے جائیں گے؟مثال کے طو رپر اُن لوگوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو حیات بعد از موت کے متعلق مختلف تصورات رکھتے ہیں جیسے کہ پُنر جنم(بار بار نیا جنم لینا) یا مکمل نابودیت(یہ تصور کہ ہم اپنی موت کے ساتھ ہی مکمل نابود ہو جاتے ہیں اور اُس کے بعد سب کچھ ختم ہو جاتا ہے)۔

5) اور آخر میں اگر وہ جو کھلے عام خُدا کے فضل کو رَد کرتے ہیں آسمان پر نہیں جائیں گے تو یہاں تو شمولیت کی انجیل کا نظریہ ختم ہو جاتا ہے اور یہ شمولیت کی انجیل نہیں رہتی، کیا ایسا ہی نہیں ہے؟اگر سبھی لوگ آسمان پر نہیں جاتے تو پھر ہم اِس پیغام کو شمولیت کی انجیل نہیں کہہ سکتے کیونکہ آخر میں یہ پیغام بھی سبھی لوگوں کو آسمان پر جانے والوں میں شامل نہیں کرتا۔

پولس رسول انجیل کے پیغام کو "موت کی بُو" کہتا ہے (2 کرنتھیوں 2باب16آیت)۔ اِس سے پولس رسول کی یہ مُراد ہے کہ بہت سارے لوگوں کے لیے انجیل کا پیغام غصے اور ناراضگی کا باعث ہے۔ یہ لوگوں کو اُن کے گناہوں کے بارے میں سچائی بتاتا ہےا ور یہ بھی کہ مسیح کے بغیر وہ نا اُمیدی کی حالت میں ہیں۔ یہ پیغام لوگوں کو بتاتا ہے کہ اُن کے اور خُدا کے درمیان جو بہت بڑی اور گہری خلیج ہے اُس پر پُل باندھنے کے لیے وہ اپنی کوششوں کی بدولت کچھ بھی نہیں کر سکتے۔صدیوں تک ایسے لوگ سامنے آتے رہے ہیں (بہت سارے جو اصل میں خلوصِ نیت سے کام کر رہے تھے) ، جنہوں نے انجیل کے پیغام کو نرم اور پرکشش بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کلیسیائی حلقے میں لایا جا سکے۔ ظاہری طور پر تو یہ ایک بہت ہی عقلمندانہ اقدام ظاہر ہوتا ہے لیکن آخر میں یہ لوگوں کو ایک جھوٹے تحفظ کا احساس دینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ پولس رسول یہ بیان کرتا ہے کہ کوئی بھی شخص جو اُس انجیل کے علاوہ جو پہلے سے کلیسیا کو دی جا چکی ہے ، کسی اور انجیل کی تعلیم دیتا ہے تو وہ ملعون ہو (گلتیوں 1باب8آیت)۔ یہاں پر بہت ہی سخت زبان استعمال کی گئی ہے، لیکن ایک بار جب آپ کو اِس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ پیغام کس حد تک ناگزیر ہے، پھر آپ کو اِس بات کا بھی احساس ہوتا ہے کہ اِس پیغام کو بالکل درست طورپر قبول کرنا کس قدر ناگزیر ہے۔ ایک جھوٹی انجیل کبھی کسی انسان کو نجات نہیں بخش سکتی۔ یہ صرف اتنا کرتی ہے کہ اور زیادہ لوگوں کو جہنم کا ایندھن بننے کے لیے تیار کرے،اور ایسے لوگوں کے لیے خُدا کی زیادہ ملامت کو پید اکرتی ہے جو شمولیت کی انجیل جیسی جھوٹی تعلیمات کو پھیلاتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

شمولیت کی انجیل کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries