settings icon
share icon
سوال

خدا بُرے لوگوں کے ساتھ اچھی باتیں/ چیزیں واقع ہونے کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟ایسا کیوں لگتا کہ بُرے لوگ جو بوتے ہیں وہ نہیں کاٹتے ہیں؟

جواب


‏یہ سوال دراصل اِس سوال کے برعکس معلوم ہوتا ہے کہ"خدا اچھے لوگوں کے ساتھ بُری باتیں/چیزیں واقع ہونے کی اجازت کیوں دیتا ہے؟" دونوں سوالات اُس پریشان کن ناانصافی کا حوالہ دیتے نظر آتے ہیں جس کا ہم ہر زور مشاہد ہ کرتے ہیں۔73واں زبور ہمارے ایسے سوالات کا جواب ہے جنہوں نے زبور نویس کو بھی تکلیف میں مبتلا کیا تھا ۔ اپنے آپ کو بڑے دُکھ اور جان کی اذیت میں مبتلا دیکھ کر وہ لکھتا ہے " لیکن میرے پاؤں تو پھسلنے کو تھے۔ میرے قدم قریباً لغزش کھا چکے تھے۔ کیونکہ جب مَیں شرِیروں کی اِقبال مندی دیکھتا تو مغرُوروں پر حسد کرتا تھا"(73زبور 2-3 آیات)۔

اس زبور کا مُصنف آسف نامی ایک شخص تھا جو ہیکل میں گانے والے گروہوں میں سے ایک کا رہنما تھا۔ ظاہر ہے وہ کوئی دولت مند آدمی نہیں تھا بلکہ وہ ایک ایساشخص تھا جس نے اپنی زندگی خدا کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی (دیکھیں ،1 تواریخ 25باب)۔ مگر ہماری طرح اُس نے بھی کچھ مشکلات کا سامنا کیا تھا اور اس سب کی ناانصافی پر سوال اٹھایا تھا۔ اُس نے اپنے اردگرد بُرے لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرتے ، دنیا کی تمام دولت اور لذتوں سے لطف اندوز ہوتے اور دولت جمع کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ شکایت کرتا ہےکہ "اِس لئے کہ اُن کی مَوت میں جان کنی نہیں بلکہ اُن کی قُوت بنی رہتی ہے۔ وہ اَور آدمیوں کی طرح مُصیبت میں نہیں پڑتے نہ اَور لوگوں کی طرح اُن پر آفت آتی ہے"(73زبور 4-5آیات)۔

آسف اُن لوگوں کو دیکھ رہا تھا جنہیں کسی طرح کے مسائل کا سامنا نہیں تھا۔ وہ اپنے واجبات ادا کر سکتے تھے۔اُن کے پاس کھانے کو بہت کچھ تھا اور آسائشیں بھی کثرت سے تھیں۔ لیکن غریب آسف گانے والوں کو ہدایت دینے اور دیندار زندگی بسرکرنے کی کوشش میں پھنسا ہوا تھا۔حتیٰ کہ خُدا کی خدمت کرنے کا اُس کا فیصلہ بھی کچھ مددگار ثابت نہیں ہوا تھا بلکہ یوں لگتا ہے جیسے معاملات مزید خراب ہو رہے تھے۔ وہ اُن لوگوں پر رشک کرنے لگا اور یہاں تک کہ خدا سے سوال کرنے لگا کہ وہ ایسا کیوں ہونے دیتا ہے!

ہم کتنی بار اپنے اندر آسف جیسے احساسات پاتے ہیں ؟ ہم اپنی زندگی خدا کی خدمت کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ پھر ہم اپنے اردگرد بدکار، بے دین لوگوں کو نئے مال، عالیشان گھر، ترقی اور خوبصورت کپڑے حاصل کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جبکہ ہم خود مالی طور پر جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ اِس کا جواب اِسی زبور کے باقی حصے میں موجود ہے۔ آسف نے اُن شریر لوگوں پراُس وقت تک رشک کیا جب تک اُسے ایک بہت ہی اہم چیز کا احساس نہ ہو گیا ۔ جب وہ خدا کے مَقِدس میں داخل ہوا، تو اُس نے اُن لوگوں کی آخری منزل کو پوری طرح سمجھ لیا: "جب مَیں سوچنے لگا کہ اِسے کیسے سمجھوں تو یہ میری نظر میں دُشوار تھا۔ جب تک کہ مَیں نے خُدا کے مَقدِس میں جا کر اُن کے انجام کو نہ سوچا۔ یقیناً تُو اُن کو پھسلنی جگہوں میں رکھتا ہے اور ہلاکت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ وہ دَم بھر میں کیسے اُجڑ گئے! وہ حادِثوں سے بالکل فنا ہو گئے۔ جیسے جاگ اُٹھنے والا خواب کو وَیسے ہی تُو اَے خُداوند! جاگ کر اُن کی صورت کو ناچیز جانے گا" (73زبور 16-20آیات)۔ جن کے پاس زمین پر عارضی دولت ہے وہ درحقیقت رُوحانی طور پر بھکاری ہیں کیونکہ اُن کے پاس حقیقی دولت یعنی ابدی زندگی نہیں ہے ۔

کئی بار ایسا ہوتا ہے جب ہم یہ نہیں سمجھتے کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اور نہ ہی ہم سمجھتے ہیں کہ خدا کی فراہمی/دستگیری کیسے کام کرتی ہے۔ جب آسف خُدا کے مَقدِس میں داخل ہوا تو اُس نے یہ دیکھنا شروع کیا کہ اُسے شریروں کی خوشحالی پر رشک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کی خوشحالی ایک وہم ہے۔ وہ سمجھنے لگا کہ قدیم دھوکے باز شیطان نے اُسے خدا کی حقیقت سے ہٹانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا تھا۔ مَقدس میں داخل ہونے پر آسف نے محسوس کیا کہ خوشحالی ایک وقتی تکمیل ہے،ایک خوشگوار خواب کی طرح جو ہمیں تھوڑی دیر کے لیے خوش کرتا ہے لیکن جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ حقیقت نہیں تھی۔ آسف نے خود کو اپنی حماقت پر ملامت کی۔ وہ شریروں پر رشک کرنے یا فنا ہونے والوں سے حسد کرنے کی بدولت "بے حس اور جاہل" ہونے کا اعتراف کرتا ہے۔ اُس کے خیالات پھر خدا میں اپنی خوشی کی طرف لوٹ آئے جب اُس نے محسوس کیا کہ خالق میں اُس کے پاس کتنی زیادہ خوشی، تکمیل اور حقیقی رُوحانی خوشحالی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ ہمارے پاس زمین پر وہ سب کچھ نہ ہو جو ہم چاہتے ہیں لیکن ہم ایک دن اپنے خداوند یسوع مسیح کے ذریعے ہمیشہ کے لیے خوشحال ہوں گے۔ جب بھی ہم دوسری راہ پر جانے کی آزمایش میں مبتلا ہوتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دوسری راہ کے آخر میں ہلاکت ہے (متی 7باب 13 آیت)۔ لیکن یسوع کے وسیلے ہمارے سامنے پیش کردہ تنگ راستہ ہی وہ واحد راہ ہے جو ابدی زندگی کی طرف جاتا ہے۔ یہ بات ہماری خوشی اور تسلی کا باعث ہونی چاہیے۔ " آسمان پر تیرے سوا میرا کَون ہے؟ اور زمین پر تیرے سوا مَیں کِسی کا مُشتاق نہیں۔ کیونکہ دیکھ! وہ جو تجھ سے دُور ہیں فنا ہو جائیں گے۔ تُو نے اُن سب کو جنہوں نے تجھ سے بے وفائی کی ہلاک کر دِیا ہے۔ لیکن میرے لئے یہی بھلا ہے کہ خُدا کی نزدِیکی حاصل کرُوں۔ مَیں نے خُداوند خُدا کو اپنی پناہ گاہ بنا لِیا ہے۔ تاکہ تیرے سب کاموں کا بیان کروں"(73زبور 25، 27-28آیات)۔

جب بُرے لوگوں کے ساتھ اچھی چیزیں پیش آتی ہیں تو ہمیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں صرف اپنے خالق پر توجہ مرکوز رکھنے اور اُس کے مُقدس کلام کی راہ سے ہر روز اُس کی حضوری میں داخل ہونے کی ضرورت ہے۔ وہاں ہمیں سچائی، اطمینان، رُوحانی دولت اور ابدی خوشی ملے گی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خدا بُرے لوگوں کے ساتھ اچھی باتیں/ چیزیں واقع ہونے کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟ایسا کیوں لگتا کہ بُرے لوگ جو بوتے ہیں وہ نہیں کاٹتے ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries