settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


اگر آپ (یہ فرض کرتے ہوئے کہ لوگ آسمان اور حیات بعد الموت پر ایمان رکھتے ہیں ) اُن سے پوچھیں کہ اُنہیں آسمان پر جانے کے لیے کیا کرنا ہوگا تو زیادہ تر لوگوں کی طرف سے یہ جواب آئے گا کہ "اچھا انسان بننا" ہوگا۔ اگر سبھی نہیں تو بھی زیادہ تر مذاہب اور دُنیاوی فلسفوں کی بنیاد اخلاقیات پر ہے۔ وہ چاہے اسلام، یہودیت یا پھر لا دین مذہبِ انسانیت ہی کیوں نہ ہو لیکن اُن کی اِس حوالے سے تعلیمات یکساں ہیں کہ آسمان پر جانے کا تعلق انسان کے اچھا /نیک ہونے کے ساتھ ہے یعنی اُنہیں دس احکام، اسلامی قوانین یا مذہبِ انسانیت کے سنہری اصولوں کی بجا آوری کرنی پڑے گی۔ لیکن کیا مسیحیت بھی اِسی چیز کی تعلیم دیتی ہے؟کیا مسیحیت بھی دُنیا کے بہت سارے مذاہب میں سے ایک ایسا مذہب ہے جو یہ تعلیم دیتا ہے کہ آسمان پر جانے کے لیے ہر کسی کو اچھا یا نیک انسان بننے کی ضرورت ہے؟آئیے اِس سوال کا جواب پانے کے لیے متی 19باب16-26آیات کا جائزہ لیں ؛ یہ ایک امیر نوجوان کی کہانی ہے۔

اِس کہانی میں جو پہلی چیز ہم دیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ امیر نوجوان ایک اچھا سوال پوچھ رہا تھا: " اَے اُستاد مَیں کَون سی نیکی کرُوں تاکہ ہمیشہ کی زِندگی پاؤں؟"یہ سوال پوچھنے کی بدولت وہ اِس حقیقت کو تسلیم کر رہا تھا کہ اب تک اُس نے جس قدر بھی اچھا یا نیک بننے کی کوشش کی تھی اُس کے باوجود اُس میں ابھی بھی کوئی نہ کوئی کمی موجود تھی، اور وہ جاننا چاہتا تھا کہ اُسے مزید کیا کچھ کرنے کی ضرورت تھی تاکہ وہ ہمیشہ کی زندگی کو حاصل کر سکے۔ بہرحال جس نقطہ نظر سے وہ یہ سوال پوچھ رہا تھا وہ نقطہ نظر–یعنی معیار پر پورا اُترنےکا نظریہ ("مَیں کونسی نیکی کروں؟") – غلط تھا ؛ وہ شریعت کے اصل معنی کو سمجھنے میں ناکام ہوا تھا جس کی طرف یسوع اُس کی توجہ دلانے والا تھا، مسیح کے آنے تک شریعت کا کام ایک اُستاد جیسا تھا (گلتیوں 3 باب24آیت)۔

یہاں پر دوسری قابلِ غور بات یہ ہے کہ یسوع اُس کے سوال کا جواب دیتا ہے۔ یسوع اُس کے سوال کے جواب میں اُس سے سوال پوچھتا ہے: وہ نیکی کے بارے میں کیوں سوال کر رہا ہے؟یسوع اُس معاملے کی تہہ تک چلا جاتا ہے ، یعنی یہ بیان کرنا شروع کر دیتا ہے کہ خُدا کے علاوہ کوئی بھی نیک/ اچھا/بھلا نہیں ہے۔ وہ نوجوان ایک غلط سوچ کے ماتحت چل رہا تھا کہ کوئی بھی نیک انسان آسمان تک رسائی حاصل کر سکتا تھا۔ اپنی بات کو سمجھانے کےلیے یسوع کہتا ہے کہ اگر وہ نوجوان ابدی زندگی حاصل کرنا چاہتا ہے تو اُسے شریعت کے سب احکام کو پورے طور پر ماننے کی ضرورت ہے۔ جب یسوع ایسا کہتا ہے تو وہ اِس بات کی وکالت نہیں کر رہا کہ نیک اعمال کی بنیاد پر راستبازی ابدی زندگی کا باعث ہوتی ہے۔ اِس کے برعکس یسوع اُس نوجوان کے مفروضے کو چیلنچ کر رہا ہے اور سب کو انسان کی شریعت کی ناقص سوجھ بوجھ اور اُس پر پورا اُترنے کی انسانی ناقابلیت دکھا رہا ہے۔

اُس نوجوان کا جواب ہمیں بہت کچھ بتا رہا ہے۔ جب یسوع نے اُسے شریعت کے حکموں پر عمل کرنے کو کہا تو وہ یسوع سے پوچھتا ہے کہ " کَون سے حکموں پر؟ " یسوع بڑی نرمی کے ساتھ اُس آدمی کو اُس کے تصورات کی خامی دکھاتے ہوئے دس احکام کی دوسری فہرست یعنی اُن حکموں کے بارے میں بتاتا ہے جن کا تعلق دوسرے انسانوں کے ساتھ اخلاقی سلوک کے ساتھ ہے۔ آپ اُس نوجوان کے جواب میں مایوسی اور جھنجھلاہٹ کو دیکھ سکتے ہیں جب وہ یسوع کو بتاتا ہے کہ اُس نے تو اپنی زندگی میں ہمیشہ ہی اُن سب حکموں پر عمل کیا ہے –یعنی وہ اِس بات پر زور دے رہا ہے کہ وہ تو ہمیشہ ہی سے ایک نیک انسان رہا ہے۔ اُس امیر نوجوان کا جواب مضحکہ خیز ہے۔ جب وہ یہ کہہ رہا تھا کہ اُس نے اپنے لڑکپن ہی سے اُن سبھی حکموں پر عمل کیا تھا تو اُس وقت وہ جھوٹی گواہی نہ دینے کے حکم کو توڑ رہا تھا۔ اگر وہ ایمانداری کا مظاہرہ کرتا تو پھر اُسے کہنا چاہیے تھا کہ اُس نے اُن حکموں پر عمل کرنے کی جتنی بھی کوشش کی وہ کہیں نہ کہیں پر ضرور ہی ناکام ہوا تھا۔ وہ مکمل طور پر نیک شخص نہیں تھا۔ اُس کو شریعت کی سوجھ بوجھ بہت ہی کم تھی جبکہ اپنی قابلیت کے حوالے سے اُس کے خیالات بہت زیادہ بڑے تھے۔ لیکن دیکھا جا سکتا ہے کہ اُس کے اندر یہ احساس بھی موجود ہے کہ وہ اتنا اچھا یا نیک انسان نہیں اِسی لیے وہ یسوع سے پوچھتا ہے کہ "اب مجھ میں کس بات کی کمی ہے؟"

یسوع پھر اُس خود راستی کے شکار نوجوان کا سامنا کرتا ہے ۔ وہ اُسے بتاتا ہے کہ اگر وہ کامل –حقیقی طور پر نیک انسان – بننا چاہتا ہے تو پھر اُسے چاہیے کہ وہ اپنا سارا مال اسباب بیچ کر اُس کے پیچھے ہو لے۔ یسوع نے یہاں پر اُس شخص کے اندر پائی جانے والی حقیقی کمی –دولت کے ساتھ لگاؤ –کی تشخیص کر دی تھا۔اُس شخص کی دولت اُس کے لیے ایک بُت بن چکی تھی۔ وہ سبھی حکموں پر عمل کرنے کا دعویٰ کر رہا تھا لیکن حقیقت میں وہ پہلے حکم پر ہی عمل نہیں کر پایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کوئی بھی خُدا کے حضور کسی اور معبود کی پرستش نہ کرے۔ اُس نوجوان نے یسوع سے اپنا منہ موڑا اور چلا گیا۔ اُس کا خُدا اُسکی دولت تھی ، اُس نے یسوع کی بجائے اُس کا انتخاب کیا تھا۔

یسوع پھر ایک خاص اُصول کی تعلیم دینے کے لیے اپنے شاگردوں کی طرف پھرا: "اور پھر تُم سے کہتا ہُوں کہ اُونٹ کا سُوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اِس سے آسان ہے کہ دَولتمند خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہو۔ " یہ بات شاگردوں کے لیے حیران کر دینے والی تھی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ دولت خدا کی طرف سے خاص برکتوں کی علامت تھی۔ لیکن یسوع اُن خاص رکاوٹوں کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہے جو دولت کی وجہ سے ہماری زندگیوںمیں آتی ہیں۔ دولت لوگوں میں یہ رجحان پیدا کرتی ہے کہ اُنہیں کسی اور شخص یا چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ اِس پر اُس کے شاگردوں نے پوچھا کہ " پِھر کَون نجات پا سکتا ہے؟۔یِسُو ع نے اپنے شاگردوں پر اِس بات کو ظاہر کرتے ہوئےکہ نجات خُدا کی طرف سے ہے یہ کہا کہ " یہ آدمیوں سے تو نہیں ہو سکتا لیکن خُدا سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔ "

کون نجات پا سکتا ہے؟اگر اِس کا انحصار صرف انسان پر ہو تو پھر کوئی بھی نہیں ! آسمان پر جانے کے لیے محض اچھا /نیک انسان ہونا کیوں کافی نہیں ہے؟ کیونکہ کوئی بھی اچھا/نیک نہیں ہے، صرف ایک ہی نیک ہے اور وہ خود خُدا کی ذات ہے۔کوئی بھی کامل طور پر شریعت کو پورا نہیں کر سکتا۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ سب نے گناہ کیا ہے اور ہم خُدا کے جلال سے محروم ہیں (رومیوں 3باب 23آیت)۔ بائبل یہ بھی بیان کرتی ہے کہ گناہ کی مزدوری موت ہے (رومیوں 6باب23الف آیت)۔ یہ ہماری خوش بختی ہے کہ خُدا نے اِس بات کا انتظار نہیں کیا کہ ہم کسی طرح سے "نیک" بننے کے بارےمیں سیکھ پاتے؛ جب ہم گناہگار ہی تو مسیح نے ہم ناراستوں کے لیے اپنی جان دی (رومیوں 5باب8آیت)۔

نجات کا دارومدار ہماری اچھائی یا نیکی پر نہیں بلکہ خُدا کی بھلائی پر ہے۔ اگر ہم اپنے منہ سے یسوع کے خُداوند ہونے کا اقرار کریں اور اپنے دِل سے اِس بات پر ایمان لائیں کہ خُدا نے اُسے مُردوں میں سے جِلایا تو نجات پائیں گے (رومیوں 10باب9آیت)۔ نجات یسوع مسیح کی ذات میں ایک بہت ہی قیمتی بخشش ہے، اور دیگر تمام طرح کی بخشش /تحفوں کی طرح یہ بھی کسی کی اپنی طرف سے کمائی گئی نہیں ہوتی (رومیوں 6باب23آیت؛ افسیوں 2باب8-9آیات)۔ انجیل کا پیغام یہ ہے کہ ہم کبھی بھی اِس قدر اچھے نہیں ہو سکتے کہ ہم آسمان پر جائیں۔ ہمیں اِس بات کا تدارک ہونا چاہیے کہ ہم سب گناہگار ہیں اور خُدا کے جلال سے محروم ہیں، اور ہمیں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے لیے خُدا کے احکام پر عمل کرنے کی اور یسوع مسیح پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لانے کی ضرورت ہے۔ صرف مسیح اکیلا ہی اچھا/نیک/بھلا ہے اور وہی اِس قدر اچھا ہے کہ ہمارے لیے آسمان کو مہیا کرے – اور وہ اُن سب کو اپنی راستبازی عطا کرتا ہے جو اُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں (رومیوں 1باب17آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries