settings icon
share icon
سوال

خُدا پرست/دیندار بیوی ہونے سے کیا مراد ہے ؟

جواب


دیندار /خُدا پرست بیوی کی وضاحت کرنے کے لیے پہلے ہمیں اِس بات پر غور کرنا پڑے گا کہ لفظ "دیندار" سے کیا مُراد ہے۔ 1 تیمتھیس 2باب2 آیت کے اندر پولس دینداری لفظ کو "سنجیدگی، امن اور آرام" کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ بائبل میں بیان کیا گیا ہے کہ رُوح القدس جو ہر ایک ایماندار میں بستا ہے اُن کے اندر ہر طرح کے ظاہری اور باطنی دینداری کے کام پیدا کرتا ہے جیسے کہ " مُحبّت ۔ خُوشی ۔ اِطمینان ۔ تحمل ۔ مہربانی ۔ نیکی ۔ اِیمان داری۔حِلم ۔ پرہیزگاری " (گلتیوں 5باب22-23 آیات)۔ پس دینداری/خُدا پرستی کی فیصلہ کن تعریف "مسیح کے ہمشکل/مشابہ" ہونا ہوگی۔ دینداری/خُدا پرستی میں مسیح کی تقلید کرنے کی حقیقی کوشش کرنا شامل ہے، یعنی اپنے کلام اور اعمال میں مسیح کی مانند بننا، جیسا کہ پولس رسول نے کرنے کی کوشش کی تھی (1 کرنتھیوں 11باب1 آیت)۔ دیندارانہ مزاج کی اِن خصوصیات کا اطلاق ہر ایک ایماندار پر ہوتا ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ خوش قسمتی سے بائبل میں اِس حوالے سے مزید مخصوص اہلیت بیان کی گئی ہے کہ ایک خُدا پرست عورت خاص طور پر ایک خُدا پرست بیوی کیسے نظر آ سکتی ہے۔

امثال کی کتاب کے اندر زبردست الفاظ کے ساتھ خُدا پرست بیوی کی ایک بہت ہی خوبصورت تصویر پیش کی گئی ہے۔ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود ایک خُدا پرست/دیندار بیوی کی خوبیاں اور خصوصیات تبدیل نہیں ہوئی ہیں۔ خُدا پرست بیوی وہ ہےجس کو اپنے شوہر کا مکمل اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ اُس کے شوہر کو اِس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ وہ کسی اور مرد کے جھانسے میں آئے گی، کریڈٹ کارڈ سے زیادہ رقم خرچ کرے گی، یا سارا دن ٹی۔ وی پروگرام دیکھنے میں گزار دے گی۔ وہ جانتا ہے کہ اُسکی بیوی باوقار، دانشمند اور وقف شُدہ ہے (امثال 31باب11، 12، 25، 26 آیات)۔ اُسے اپنی بیوی کی مکمل حمایت اور مخلص محبت پر اعتماد ہے کیونکہ نہ تو اُس کی طبیعت انتقامی ہے اور نہ ہی تنقیدی۔ اُس کے شوہر کی اردگرد کے لوگوں میں اچھی ساکھ ہے ، اور اُس کی بیوی کبھی اُس کے بارے میں بُرا نہیں بولتی، کبھی اُس کے بارے میں اِدھر اُدھر کی باتیں نہیں کرتی۔ بلکہ وہ ہمیشہ اُسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی رہتی اور اُس کی تعریف کرتی رہتی ہے۔ وہ گھر کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کرتی ہے اور خود بھی باوقار ہے (امثال 31باب21، 23 آیات)۔

ایک دیندار/خُدا پرست بیوی آئینے کے سامنے بننے سنورنے میں زیادہ وقت گزارنے کی بجائے اپنے مال اسباب سے مفلسوں اور محتاجوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہاتھ بڑھاتی ہے کیونکہ وہ بے لوث اور آسودہ ہے (امثال 31باب20، 30 آیات)۔ لیکن وہ اپنے آپ کو نظر انداز نہیں کرتی، وہ اپنے جسم اور رُوح کو مضبوط اور صحت مندر کھتی ہے۔ اگرچہ وہ بہت زیادہ وقت تک سخت محنت کرتی ہے لیکن وہ خستہ حال نہیں ہے؛ وہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو خوبصورت چیزوں کیساتھ بنانے سنوارنے کی پرواہ کرتی ہے (امثال 31باب17، 21، 22 آیات)۔

بہت سارے لوگ ایک دیندار اور خُدا پرست بیوی کی جیسی تصویر اپنے ذہن میں بنائے ہوتے ہیں اُس کے برعکس امثال 31 باب ظاہر کرتا ہے کہ وہ کاروباری اور پُر عزم ہے۔ امثال 31باب میں بیان کردہ بیوی ایک چھوٹے کاروبار کی مالکن ہے – وہ کپڑے بناتی اور فروخت کرتی ہے۔ وہ آزادانہ طور پراپنے کاروباری فیصلے خود کرتی ہے اور وہ خود ہی یہ فیصلہ بھی کرتی ہے کہ اُس نے اپنی کمائی کا کیا کرنا ہے (امثال 31باب16، 24 آیات)۔ تاہم اِس بات پر بھی غور کریں کہ اُس کی کمائی جوتے اور پرس خریدنے پر خرچ نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسا کھیت خریدنے پر ہوتی ہے جہاں وہ انگور کی تاک لگا سکے – ایک ایسی چیز جس سے پورے خاندان کو فائدہ پہنچے گا۔

اپنی تمام کوششوں، خدمت اور محنت کے دوران خُدا پرست بیوی خوشی کو برقرار رکھتی ہے۔ وہ اِس بات کو سمجھ سکتی ہے کہ وہ جو کچھ کر رہی ہے وہ سودمند ہے اور اِس سے اُسے تسکین کا احساس ہوتا ہے (امثال 31باب 18 آیت)۔ ایک خُدا پرست بیو ی اِس حوالے سے فکر مند نہیں ہوتی کہ مستقبل میں کیا ہونے ولا ہے۔ وہ مستقبل پرمسکراتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اُس کا خُدا ہر ایک چیز پر اختیار رکھتا ہے (امثال 31باب25، 30 آیات)۔ 30 آیت اِس پورے حوالے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہےکیونکہ کوئی عورت پہلے خُدا کا خوف رکھے بغیر خُدا پرست بیوی نہیں بن سکتی۔ خُدا پرست بیوی یسوع کی ذات کی کھوج کرتی ہے اور اُس میں قائم رہتی ہے جس سے اُسکی زندگی کے اندر دینداری اور خُدا پرستی کا پھل ظاہر ہوتا ہے (دیکھئے یوحنا 15باب4 آیت)۔

آخر میں ایک دیندار/خُدا پرست بیوی کو اپنے شوہر کے تابع ہونا چاہیے(افسیوں 5باب22 آیت)۔ ایک تابعدار بیوی کیسی نظر آتی ہے ؟ ایسی نہیں جیسی آپ سوچ رہے ہیں۔ بائبل میں سکھایا گیا ہے کہ خُداوند یسوع اپنے باپ کے تابع ہے (یوحنا 5باب19 آیت) پھر بھی وہ خُدا کے برابر ہے (یوحنا 10باب30 آیت)۔ اِس لیے ایک تابعدار بیوی انسان کے طور پر اپنے خاوند سے کم حیثیت نہیں رکھتی۔ اُس کا کردار بہت زیادہ اہم ہے – لیکن یہ مختلف ہے۔ مسیحی جانتے ہیں کہ خُداوند یسوع مسیح خُدا باپ (اور رُوح القدس) کی طرح الوہیت کا حامل ہے، لیکن تینوں اقنوم انسانی نجات میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں۔ اِسی طرح مرد اور عورتیں شادی کے بندھن میں مختلف کردار ادا کرتی ہیں۔ لہذا ایک بیوی کے لیے اُس طرح اپنے شوہر کے تابع ہونے کا مطلب جیسے کہ یسوع خُدا باپ کے تابع ہے یہ ہے کہ وہ رضا کارانہ طور پر اپنے شوہر کو قیادت کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ خُداوند یسوع خوشی سے مصلوب ہونے کے لیے گیا، اگرچہ اُس وقت وہ جسمانی طورپر کسی حدتک پریشان ضرور تھا (متی 26باب39 آیت)۔ مسیح جانتا تھا کہ خُدا باپ کا راستہ بہترین ہے۔ ایک خُدا پرست بیوی کو بعض اوقات تابعداری کا راستہ تکلیف دہ محسوس ہو سکتا ہے، لیکن خُدا کی پیروی کرنے کے نتیجے میں ہمیشہ رُوحانی انعامات حاصل ہوتے ہیں جو ہمیشہ قائم رہیں گے (1 تیمتھیس 4باب7-8 آیت)

بائبل ایک بیوی کے لیے شوہر کے تابع ہونے کو خُدا کے تابع ہونے کے مترادف قرار دیتی ہے (افسیوں 5باب22 آیت)۔ دوسرے الفاظ میں اگر کوئی بیوی اپنے خاوند کے تابع نہیں ہو سکتی تو یہ بات اُس کی طرف سے مسیح کے تابع ہونے کی مسلسل جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے۔ تابعداری کا مطلب کمزوری نہیں ہے؛ ایک تابعدار بیوی "کم ذہین" یا "غیر اہم" نہیں ہوتی۔ تابعدار ہونے کے لیے طاقت ، وقار اور عقیدت کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ ہم امثال 31 باب میں بیان کردہ عورت میں دیکھتے ہیں۔

امثال 31 باب ایک مثالی بیوی کو پیش کرتا ہے۔ ایک عورت کامل ہوئے بغیر خُدا پرست بیوی ہو سکتی ہے (ہم جانتے ہیں کہ انسانی کاملیت جیسی کوئی چیز اپنا وجود نہیں رکھتی)۔ لیکن جیسے جیسے ایک بیوی مسیح کے ساتھ اپنے تعلقات میں زیادہ قربت میں جاتی ہے، وہ اپنی شادی شُدہ زندگی کے اندرزیادہ تیزی کے ساتھ خُدا پرستی میں ترقی کرتی ہے۔ خُدا پرستی اکثر لادین معاشرے کے اطوار کے مخالف ہوتی ہے جس کی ایک عورت کو خواہش کرنی چاہیے۔ بہرحال خُدا پرست خواتین ہونے کی حیثیت سے ہماری پہلی فکر ہمیشہ وہی ہونی چاہیے جس سے خُدا کی خوشنودی ہوتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا پرست/دیندار بیوی ہونے سے کیا مراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries