settings icon
share icon
سوال

خُدا پرست /دیندار شوہر ہونے سے کیا مراد ہے؟

جواب


جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کوئی خُدا پرست /دیندار شوہر کیسے بنے تو اُس وقت اوّلین سچائیوں میں سے ایک کو تسلیم کرنا ہوگا کہ کوئی بھی انسان فطری طور پر خدا پرست /دین دار نہیں ہے۔ اپنی طاقت سے نہ ہی کوئی مرد اور نہ ہی کوئی عورت بالکل ویسا بن سکتا/ سکتی ہے جیسا خدا اُنہیں بنا نا چاہتا ہے ۔ لہٰذا ایک خُدا پرست /دیندار شوہر یا دیندار بیوی بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنی زندگی کو یسوع مسیح کی خداوندی کے تابع کر دیں ۔ "دین دار" ہونے کا مطلب ہے کہ خدا ہماری زندگیوں میں موجود ہونا چاہیے۔ جب اُس کا رُوح القدس ہماری زندگیوں میں قیام کرتا ہے تو وہ ہمیں دین دار زندگی گزارنے کی طاقت بخشتا ہے (گلتیوں 2باب 20آیت ؛ ططس 2باب 12آیت)۔

فلپیوں 2باب 3-4آیات شادی سمیت تمام خدا پرستی پر قائم رشتوں کی بنیاد رکھتی ہیں: "تفرقے اور بے جا فخر کے باعث کچھ نہ کرو بلکہ فروتنی سے ایک دُوسرے کو اپنے سے بہتر سمجھے۔ ہر ایک اپنے ہی اَحوال پر نہیں بلکہ ہر ایک دُوسروں کے اَحوال پر بھی نظر رکھّے۔" ازدواجی زندگی میں اِس سے مراد یہ ہے کہ شوہر اور بیوی اب اپنی مرضی کے آپ مالک نہیں ہیں۔ ہر ایک نے خوشی سے دوسرے کو یہ حق دے دیاہے کہ وہ جب چاہےاور جو چاہے کرے۔ یہ با ت مَردوں کے لیے خاص طور پر مشکل ہو سکتی ہے، بالخصوص اُس صورت میں اگر وہ طویل عرصے تنہا اپنے انداز سے زندگی گزار رہے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات کسی آدمی کے ذہن میں کبھی نہ آئی ہو کہ اُس کی بیوی ہفتے کے آخر میں فٹ بال کے کھیل میں یا گھر سے باہر وقت گزارنے کے بارے میں اتنی پُرجوش نہیں ہے جتناکہ وہ ہے۔ لیکن یہ حوالہ ہمیں دوسروں کے احساسات اور خیالات کو دانستہ طور پر مدِ نظر رکھنے کی ہدایت کرتا ہے، بجائے یہ خیال کرنے کے کہ دوسرے بھی ویسا ہی سوچتے ہیں جیسے کہ ہم سوچتے ہیں۔

1 پطرس 3باب 7آیت فرماتی ہے "اَے شَوہرو! تُم بھی بیویوں کے ساتھ عقل مندی سے بسر کرو اور عورت کو نازک ظرف جان کر اُس کی عزت کرو اور یُوں سمجھو کہ ہم دونوں زِندگی کی نِعمت کے وارِث ہیں تاکہ تمہاری دُعائیں رُک نہ جائیں۔" " نازک ظرف" کی اصطلاح کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔ یہ کم تر ہونے کا اشارہ نہیں دیتی کیونکہ آیت مزید بیان کرتی ہے کہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ نعمت کی یکساں وارث ہے۔ اس آیت کے سیاق و سباق میں لفظ "نازک" کا مطلب یہ ہے کہ عورت کے ساتھ کسی "آدمی " کی طر ح برتاؤ نہیں کیا جانا چاہیے۔ وہ جسم اور رُوح دونوں کے لحاظ سے مختلف طرح سے بنائی گئی ہے۔ باہمی "سمجھداری " رشتے کی مضبوطی کی کلید ہے۔ کسی شوہر کو اپنی بیوی کا تجزیہ کرنا اور یہ جاننا چاہیے کہ وہ کیسی شخصیت کی حامل ہے اور ایسے فیصلے کرنے چاہییں جو اُس کی خوبیوں اور خوبصورتی کو اُجا گر کریں۔ جسمانی تشدد، زبانی طور پر ڈرانا دھمکانا اور جذباتی لحا ظ سے نظرانداز کرنے کی مسیحی ازدواجی زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اپنی بیوی کے ساتھ سمجھداری کے ساتھ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک عقلمند شوہر اپنی ضروریات اور خواہشات پر قابو رکھتا ہے تاکہ اُس کی بیوی کی ضروریات پوری ہوں۔ وہ اُس کی تحقیر نہیں کرتا ، خاندان میں اُس کے تعاون کو کم نہیں سمجھتا یا اُس سے ایسا کام کرنے کی امید نہیں رکھتا جو خدا نے مرد کے کرنے کے لیے دیا ہے۔ وہ اپنی بیوی کو سمجھنے کے عمل کو زندگی بھر کی کوشش بناتا ہے اور وہ اِس میں ماہر بننا چاہتا ہے۔

افسیوں 5باب ایک خدا پرست شوہر کی ذات کے اِس پہلو کی وضاحت کو جاری رکھتی ہے۔ 25آیت بیان کرتی ہے کہ "اَے شَوہرو! اپنی بیویوں سے محبّت رکھّو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے مُحبّت کر کے اپنے آپ کو اُس کے واسطے مَوت کے حوالہ کر دِیا۔" شوہر اور بیوی کا مسیح اور کلیسیا کے ساتھ یہ موازنہ بہت کچھ کہتا ہے۔ شوہروں کو اپنی بیویوں سے قربانی کی حد تک ایسی غیر مشروط محبت کا اظہار کرنا چاہیے جس طرح یسوع ہم سے جو اُس کی دلہن ہیں اس کے باوجود محبت رکھتا ہے کہ ہم سرکش، نافرمان اور نا قابل ِ محبت ہیں۔ 28 آیت مزید بیان کرتی ہے کہ " شوہروں کو لازِم ہے کہ اپنی بیویوں سے اپنے بدن کی مانند محبّت رکھیں۔ جو اپنی بیوی سے مُحبّت رکھتا ہے وہ اپنے آپ سے مُحبّت رکھتا ہے۔" مردوں کو عام طور پر اپنے بدن سے محبت رکھنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی ۔ اُن کے لیے جنسی تکمیل، جسمانی طاقت اور دیگر جسمانی ضروریات اکثر اوّلین ترجیحات ہوتی ہیں۔ خدا شوہروں کو ہدایت کر رہا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کو وہی ترجیح دیں جو وہ اپنی جسمانی ضروریات کو دیتے ہیں۔ اپنی دلہن یعنی کلیسیا کی خاطرخُداوند یسوع نے اپنی مرضی سے اپنے جسم کو بد سلوکی ، تذلیل اور تنگ دستی کے ماتحت کر دیا تھا ۔ یہ وہی نمونہ ہے جس کی پیروی کرنے کی کلامِ مُقدس شوہروں کو ہدایت کرتا ہے۔

مسیحی بیویاں آمریت کی بجائے خُدا پرست قیادت کی خواہش رکھتی ہیں۔ تاہم کوئی مرد اُن معاملات میں قیادت نہیں کر سکتا جہاں وہ قیادت نہیں کرتا رہا ۔ ایک رہنما راستہ بناتا ، رُوحانی مسائل سے لڑتا اور پھر اپنے خاندان کے سامنے خدا کی ہدایت پیش کرتا ہے۔ خاندان کی رُوحانی لحاظ سے رہنمائی کرنے کے لیے خُداوند یسوع کے ساتھ ایک مستقل شخصی تعلق بہت ضروری ہے۔ خُدا مردوں کو اپنے خاندان کی رُوحانی اور جسمانی فلا ح و بہبود کے لیے ذمہ دار ٹھہراتا ہے (1تیمتھیس 5باب 8آیت )۔ اگر بیوی تعلیم و تربیت اور قیادت کرنے میں بہتر ہو تب بھی شوہر کو اپنے بچّوں کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہنا چاہیے ۔ اُسے گرجا گھر جانے ، بائبل پڑھنے، دعا کرنے اور دیگر رُوحانی شعبوں میں بطور نمونہ رہنمائی کرنی چاہیے۔ جب شوہر رُوحانی لحاظ سے بیوی کی رہنمائی کرنے میں مستقل مزاجی سے کام نہیں لیتا تو ایک مسیحی بیوی کے لیے دیگر شعبوں میں اپنے شوہر کی عزت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

غیر شادی شُدہ اور شادی شدہ دونوں طرح کے مرد ایک خدا پرست رہنما کی اِن خصوصیات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ایک رہنما:

• سب سے پہلے ایک خادم ہے (متی 23باب11آیت)
• تربیت پذیر ہے (امثال 19باب 20آیت)
• رُوح القدس سے معمور ہے (اعمال 6باب 3آیت )
• اپنے کردار کے بارے میں سرگرم ہے (افسیوں 6باب 7آیت )
• فروتنی اور معافی کا نمونہ ہے (1پطرس 5باب 6آیت ؛ افسیوں 4باب 32آیت )
• اُن سے محبت کرنے والا ہے جن کی وہ رہنمائی کرتا ہے (متی 5باب 46آیت ؛ یوحنا 13باب 34-35آیات)
• اپنی ناکامیوں اور اُن شعبوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے جن میں اُسے بڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے (فلپیوں 3باب 12آیت )
کوئی بھی شخص خصوصی طور پر اِن مندرجہ ذیل باتوں پر غور کر کے ایک خدا پرست شوہر بن سکتا ہے:

1. کیا آپ کا اوقات کار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کا خاندان آپکے لیے وقت، قوت اور توجہ میں اوّلین ترجیح کا حامل ہے؟
2. کیا آپ 1پطرس 3باب 7آیت کی نصیحت پر عمل کر رہے ہیں اور واقعی اپنی بیوی کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
3. کیا آپ اُن باتوں کو اپنی بیوی کے ساتھ بانٹے ہوئے اُس کی رُوحانی رہنمائی کرنے میں پہل کر رہے ہیں جو خدا آپ کو سکھا رہا ہے؟
4. کیا آپ اپنی بیوی کی جسمانی حالت اور جنسی ضروریات کے بارے میں حساس ہیں؟ وہ آپ کی ضروریات سے مختلف ہوں گی اور ایک خُدا پرست شوہراپنی بیوی پر غصے ہوئے یا اُس کی "سرزنش " کرنے کی کوشش کیے بغیر اُن ضروریات کا احترام کرتا ہے ۔
5. کیا آپ بچّوں کے لیے مساوی ذمہ داری قبول کر رہے ہیں؟ حتی ٰ کہ اگر آپ کی بیوی والدین ہونے کے کچھ پہلوؤں میں آ پ سے بہتر ہے تو بھی بچّے آپ کی ذمہ داری ہیں۔ آپ کی بیوی کو ایک ایسے ساتھی کی ضرورت ہے جو خوشی سے اس کے ساتھ بوجھ بانٹتا ہے ۔
6. اپنی آواز کے لہجے کی جانچ کریں۔ کیا آپ تلخی ، الزام تراشی یا بے ساختہ حوصلہ شکنی کی عادت میں مبتلا ہیں؟
7. کیا آپ کبھی کسی بھی طرح کی جسمانی یا زبانی بدسلوکی کا سہارا لیتے ہیں؟ اگر آپ کو غصے سے نمٹنے میں مدد کی ضرورت ہو تو مدد حاصل کریں۔
8. کیا آ پ اُن معاملات میں اپنی بیوی کی تنقید کرنے یا اُسے خاموش کرانے کی بجائے اُسے آگے بڑھنے میں مدد کر رہے ہیں جن میں وہ کمزور ہے؟
9. کیا آپ اچھے سننے والے ہیں؟ بیویوں کو اپنے دلی جذبات کو بانٹنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسا کرنے کے لیے آپ کو اُس کے لیے سب سے محفوظ شخص ہونا چاہیے۔
10. کیا آپ اُس کے دل، خوابوں اور عزت نفس کے محافظ ہیں؟ آپ اُس کے لیے خدا نہیں ہو سکتے، لیکن آپ اُسے اِس طور سے خدا سے جڑنے کی ترغیب دے سکتے ہیں کہ خُدا کی ذات میں اُس کی گہری جذباتی ضروریات پوری ہوں۔
مرد اکثر خود کو اُن سطحی باتوں سے ماپتے ہیں جو اُن کے اختیا ر سے باہر ہوتی ہیں۔ دولت ، شہرت، جسمانی قابلیت اور طاقت وقتی اور عارضی ہیں۔ تاہم کوئی شوہر کامیابی کو اس لحاظ سے بیان کرنے کا انتخاب کر سکتا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو عزیز رکھنے اور اپنے خاندان کی رہنمائی کرنے کے لیے خدا کے حکم پر کتنی اچھی طرح سے عمل کیا ہے۔ ایک شادمان بیوی اپنے شوہر کی گواہی ہے۔ اگرچہ وہ اپنی بیوی کے ردِ عمل کے طریقے کے لیے ذمہ دار نہیں ہےلیکن ہر شوہر اس بات کو ممکن بنا سکتا ہے کہ وہ یسوع کے نمونے کی کتنی اچھی طرح پیروی کر رہا اور اُن زندگیوں کی رہنمائی کر رہا ہے جنہیں خدا نے اُس کے سپرد کیا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا پرست /دیندار شوہر ہونے سے کیا مراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries