settings icon
share icon
سوال

گلوسولیلیا سے کیا مُراد ہے؟

جواب


گلوسولیلیا ایک ایسی صورتحال ہے جس میں کوئی شخص "سرمستی، بے خودی، وجدانی یا ہیجانی کیفیت میں کچھ خاص الفاظ کو ادا کرے"، یہ الفاظ یا باتیں بے معنی ہوتی ہیں یا اِن کے مطلب کا قطعی طور پر کچھ پتا نہیں ہوتا، یہ وجدانی یا بے خودی کی حالت میں منہ سے نکلنے والی کچھ آوازوں کی مانند ہوتی ہیں۔ بہرحال جہاں پر گلوسولیلیا (glossolalia) کسی غیر موجود زبان میں بُربڑانا ہے تودوسری طرف زینو گلوسیا (xenoglossia) کسی ایسی زبان کو روانی کے ساتھ بولنے کی قابلیت ہے جسے کسی شخص نے پہلے کبھی سیکھا ہی نہیں تھا۔

مزید برآں ، جہاں پر زینوگلوسیا کسی شخص کے اندر پیدایشی یا فطری خصوصیت کے طور پر نہیں ہوتی، مطالعے اور تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ گلوسولیلیاہ ایک ایسا رویہ ہے جسے باقاعدہ طور پر سیکھا جا سکتا ہے۔ لوتھرن میڈیکل سینٹر کی طرف سے منعقد کی جانے والی تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ گلوسولیلیا کو بڑی آسانی کے ساتھ سادہ سی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے سیکھا جا سکتا ہے۔ اِس تحقیق کے مطالعے میں دیکھا گیا کہ طالبعلم کسی بھی طرح کی وجدانی حالت میں جائے بغیر یا کسی بھی طرح کی بے خودی یا ہیجانی کیفیت کا تجربہ کئے بغیر "غیر زبانوں" کو بولنے جیسا مظاہرہ کرنے کے قابل تھے۔ساٹھ طالبعلموں کے ساتھ کئے جانے والے ایک اور تجربے سے ظاہر ہوا کہ گلوسولیلیا کے ایک منٹ کے نمونے کو سُننے کے بعد 20 فیصد طالبعلم اُن الفاظ /آوازوں کو بالکل اُسی طرح سے دہرانے کے قابل تھے۔ اور پھر کچھ مشق کرنے کے بعد 70 فیصد طالبعلم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

دُنیا کے کسی بھی حصے میں گلوسولیلیا (سرمستی، بے خودی، وجدانی یا ہیجانی کیفیت میں ادا کردہ الفاظ یا آوازوں) کو سننے کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔ غیر اقوام کے اندر پائے جانے والے مختلف طرح کے مذاہب اِس طرح کی آوازوں یا الفاظ کے گہرے اثر تلے نظر آتے ہیں۔ اِن میں سوڈان کے اندر پائے جانے والے شمانز، افریقہ کے مغربی ساحل کے ساتھ پایا جانے والا عجیب مذہب شانگو، ایتھوپیا کا عجیب مذہب ضور، ہیٹی کا مذہب ووڈو اور شمالی امریکہ اور آسٹریلیاہ کے جنگلی باشندے شامل ہیں۔ دُنیا میں بہت سارے مقامات پر بُڑ بڑانے یا تیز تیز بے معنی الفاظ بولنے کو گہری صوفیانہ حکمت خیال کیا جاتا تھا جس کی قدیم دور میں مختلف مذہبی قائدین یا نیک و پاک تصور کرنے والے لوگوں کی طرف سے مشق کی جاتی تھی۔

گلوسولیلیاہ کے دراصل دو مختلف پہلو ہیں۔ پہلا پہلو تو کسی زبان کے الفاظ جیسی آوازوں میں بُڑبڑانا ہے۔ عملاً دیکھا جائے تو اِس کو ہر ایک شخص کرنے کی قابلیت رکھتا ہے، حتیٰ کہ چھوٹے بچّے بھی جب تک اُنہیں پورے فقرے یا مکمل زبان نہیں بولنی آتی ہمارے پیچھے پیچھے کچھ الفاظ بول سکتے ہیں یا ہماری طرف سے بولے گئے الفاظ کی نقالی کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ وہ عقلی لحاظ سے اُن کا مطلب نہیں جانتے۔ اِس پہلو کے حوالے سے کوئی بھی اہم یا خاص بات نہیں پائی جاتی۔ گلوسولیلیا کا دوسرا پہلو بے خودی، ہیجانی یا وجدانی کیفیت، سرمستی میں کچھ کہنا ہے۔ اِس کے بارے میں بھی کوئی غیر معمولی چیز نہیں پائی جاتی، ہاں اگرچہ ایسی حالت مین کسی زبان کے الفاظ جیسی آوازوں کو ادا کرنا ہوش و حواس میں عقلی طور پر قدرے مشکل ضرور ہو سکتا ہے۔

مسیحیت میں بالخصوص پینٹی کوسٹل تحریک کے اندر ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو یہ ایمان رکھتے ہیں کہ گلوسولیلیا کی اُسی طرح ایک مافوق الفطرت مظہر کے طور پر تعریف کی جا سکتی ہے جس طرح نئے عہد نامے میں بیان کردہ کچھ مظاہر کی تعریف کی جاتی ہے۔ وہ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ غیر زبانوں کی نعمت کے ملنے کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ اِس بات کا اظہار ہو سکے کہ جس طرح عیدِ پینتکست کے روز مسیحیوں پر رُوح القدس کا نزول ہوا تھا بالکل اُسی طرح اُن پر بھی رُوح القدس کا نزول ہوا ہے (اعمال 2 باب )، جس کے بارے میں یوایل نبی نے نبوت کی تھی (اعمال 2 باب 17آیت)۔

اُن سب کلیسیاؤں کے درمیان جو گلوسولیلیا جیسے مظہر کو قبول کرتے ہیں اور کسی نہ کسی حد تک اُس کو عملی طور پر اپنائے ہوئے ہیں حتمی طور پر اِس کے کام کرنے کے طریقہ کار یا مقصد کے حوالے سے اتفاقِ رائے نہیں پایا جاتا۔ مثال کے طور پر کچھ تو یہ مانتے ہیں کہ یہ حقیقی طور پر رُوح القدس کا تحفہ ہے، لیکن دیگر ایسے بھی ہیں جو اِس کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پولس رسول نے تعلیم دی تھی کہ "غیر زبانیں بولنا"رُوح القدس کی دیگر نعمتوں جتنی اہم نعمت نہیں ہے (دیکھئے 1 کرنتھیوں 13 باب)۔ مزید برآں ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو کلیسیا کے اندر تقسیم کے خوف سے غیر زبانیں بولنے کو ترک نہیں کرتے یا پھر کچھ ایسے بھی ہیں جو اِس مشق کو ایک نفسیاتی تجربے سے زیادہ نہ سمجھتے ہوئے کسی حد تک اِس کی اجازت دیتے ہیں۔اور پھر وہ بھی ہیں جو گلوسولیلیا کو شیطان کی طرف سے گمراہی قرار دیتے ہیں۔

ہیجانی کیفیت میں بولی جانے والی زبانوں کو دُنیا بھر میں سُنا اور کئی ایک مقامات پر سمجھا جاتا ہے، لیکن جو زبانیں موجود ہیں اگر اُن کو ہیجانی کیفیت میں عجیب طریقے سے بولا جائے تو اُن کو عام طور پر سُنا یا سمجھا نہیں جاتا۔ اگر ایسا کیا جائے تو ہمیں صرف بہت زیادہ مبالغہ انگیزی کی کثرت، غیر واضح دعوے، تذبذب اور شور ہی سننے کو ملتا ہے۔ ہمیں ایسا کچھ بھی سنائی نہیں دیتا جیسا ابتدائی کلیسیا کے وقت ہوا تھا، یعنی ہر کوئی رسولوں کی باتوں کو اپنی اپنی بولی میں سن (سمجھ) رہا تھا (اعمال 2 باب 8آیت)۔

اگر ہم سادہ طور پر بات کریں تو گلوسولیلیا جیسے مظہر کی مشق بائبل میں بیان کردہ غیر زبان کی نعمت نہیں ہے۔ پولس اِس بات کو واضح کرتا ہے کہ غیر زبان کا اصل مقصد اُن غیر قوموں کے لیے ایک نشان تھا جو یسوع پر ایمان نہیں رکھتی تھیں تاکہ اُن تک یسوع مسیح کی انجیل کے پیغام کو پھیلایا جا سکے (1 کرنتھیوں 14 باب 19، 22 آیات )۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

گلوسولیلیا سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries