settings icon
share icon
سوال

خُدا کو جلال دینے کا کیا مطلب ہے ؟

جواب


خدا کو "جلال دینے" کا مطلب ہے کہ خُدا کی شایانِ شان اُس کی تعریف و تمجید کرنا۔ پرانے عہد نامے میں خُدا کے تعلق سے استعمال ہونے والے لفظ جلال کے ساتھ شان و شوکت اور عظمت جڑی ہوئی ہے۔ نئے عہد نامے میں جس لفظ کا ترجمہ جلال کیا گیا ہے اُس کا مطلب ہے "وقار، عزت، تعریف اور عبادت۔"اِن دونوں کو اکٹھا کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ خُدا کو جلال دینے کا مطلب اُس کی عظمت کو تسلیم کرنا اور اُس کی تعریف اور عبادت کر کے اُ سکو عزت دینا ہے۔ اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صرف اور صرف خُدا ہی ہر طرح کی تعریف، عزت اور عبادت کے لائق ہے۔ خُدا کی شان اُس کی فطرت کا جوہر ہے اور ہم اِس جوہر کو پہچان کر اُس کی تعریف کرتے اوراُسکی شان و شوکت کو بیان کرتے ہیں۔

یہاں پر جو سوال ہمارے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر خُدا کے پاس پہلے ہی سے وہ جلال اور شان و شوکت موجود ہے تو پھر ہم کیسے اُس کو جلال دیتے ہیں؟ہم خُدا کو وہ چیز کیسے دے سکتے ہیں جو پہلے ہی اُس کے پاس ہے۔ اِس کی کلید 1 تواریخ 16باب 28-29 آیات کے اندر پائی جاتی ہے " اَے قوموں کے قبیلو! خُداوندکی، خُداوند ہی کی تمجید و تعظیم کرو۔خُداوند کی اَیسی تمجید کرو جو اُس کے نام کے شایاں ہے۔ ہدیہ لاؤ اور اُس کے حضُور آؤ۔ پاک آرایش کے ساتھ خُداوند کو سجدہ کرو۔ "اِس حوالے میں ہم اپنی طرف سے کئے گئے دو اعمال کو دیکھتے ہیں جو خُدا کو جلال دینے کے لیے کئے جاتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہم خُدا کی تمجید و تعظیم کرتے یعنی اُس کے نام کو جلال دیتے ہیں کیونکہ یہ اُس کی ذات کے تعلق سے واجب ہے۔ ہم خُدا کے نام کو جو جلال دیتے ہیں اُس کا کوئی اور مستحق نہیں ہے۔ یسعیاہ 42باب8 آیت اِس کی تصدیق کرتی ہے۔" یہووا ہ مَیں ہُوں ۔ یہی میرا نام ہے ۔ مَیں اپناجلال کسی دُوسرے کے لئے اور اپنی حمد کھودی ہُوئی مُورتوں کے لئے روا نہ رکُھّوں گا۔ "دوسری بات یہ کہ خُدا کی پرستش اور عبادت کے حصے کے طور پر ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اُس کو نذر چڑھانے کے لیے بھی کچھ نہ کچھ لے کر آئیں ۔ ہم خُدا کو جلال دینے کے لیے کیا نذر چڑھاتے ہیں؟

جب ہم اُس کی پاکیزگی کے جلال و شان و شوکت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُس کی حضور ی میں آتے ہیں ہم اُس کی ذات کی صفات کو یاد کرتے ہوئے ایسی نذر لیکر آتے ہیں جس میں اتفاق، تابعداری، اطاعت اور شکر گزاری شامل ہوتی ہے۔ خُدا کے نام کو جلال دینا اُس کے کلام کی ہر ایک بات سے اتفاق کرنے سے شروع ہوتی ہے، خاص طور پر اپنی ذات کے بارے میں اُس کے کلام کے ساتھ۔ یسعیاہ 42باب5 آیت کے اندر خُدا اعلان کرتا ہے کہ "جس نے آسمان کو پَیدا کِیا اور تان دِیا ۔ جس نے زمین کو اور اُن کو جو اُس میں سے نکلتے ہیں پھیلایا۔ جو اُس کے باشندوں کو سانس اور اُس پر چلنے والوں کورُوح عِنایت کرتا ہے یعنی خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے۔ " کیونکہ جو کچھ خُدا کی اپنی ذات ہے، یعنی پاک اور کامل اور سچی، اِس وجہ سے اُس کے دعوے اور اُس کی صفات بھی پاک اور کامل اور سچی ہیں (19 زبور 7 آیت)، اور ہم اُس کی بات کو سن کر اور اُس کے ساتھ اتفاق کرکے اُس کے نام کو جلال دیتے ہیں۔ بائبل مُقد س ہمارے لیے خُدا کا کلام ہے اور یہی سب کچھ ہے جو ہمیں اِس زندگی میں درکار ہے۔ محض اُس کے کلام کو سننا اور اُس کے ساتھ اتفاق کرنا ہی اُس وقت تک اُس کے نام کو جلال دینا نہیں ہے جب تک ہم خود بھی اُس کے تابعدار نہ ہو جائیں اور اُس کے کلام میں شامل احکامات پر عمل نہ کریں۔ "لیکن خُداوند کی شفقت اُس سے ڈرنے والوں پر ازل سے ابد تک اور اُس کی صداقت نسل در نسل ہے۔یعنی اُن پر جو اُ س کے عہد پر قائم رہتے ہیں اور اُس کے قوانین پر عمل کرنا یاد رکھتے ہیں " (103 زبور 17-18 آیات)۔ خُداوند یسوع نے یوحنا 14باب15 آیت میں اِس خیال کا اعادہ کیا ہے کہ خُدا کے نام کو جلال دینا اور خُدا سے پیار کرنا ایک ہی چیز ہے" اگر تم مجھ سے مُحبّت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔ "

ہم خُدا کی صفات اور اُس کے کاموں کا بیان کر کے بھی اُس کے نام کو جلال دیتے ہیں۔ ستفنس اپنے ایمان کی وجہ سے شہیدہونے سے پہلے اپنے آخری پیغام میں اسرائیل کے ساتھ خُدا کے معاملات کی کہانی کا آغاز ابرہام کے اپنا ملک چھوڑ کر آنے سے کرتا ہے اور اُس "راستباز " مسیح تک لے کر آتا ہےجسے اسرائیل نے دھوکا دیا اور پھر قتل کر دیا۔ جب ہم اپنی زندگی میں ہونے والے خُدا کے کام کے بارے بیان کرتے ہیں کہ کس طرح سے اُس نے ہمیں گناہوں سے بچایا ہے اور ہر روز اُس کے اُن حیرت انگیز کاموں پر حیرت اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں جو وہ ہمارے دِل و دماغ میں کرتا ہے تو اُس صورت میں ہم دوسروں کے سامنے اُس کے نام کو جلا ل دیتے ہیں۔ اگرچہ دوسرے ہماری طرف سے خُدا کے نام کو دئیے جانے والے جلال کو نہیں سننا چاہتے ، لیکن خُدا اِس سب سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے ۔ جو ہجوم ستفنس کے اُس پیغام کو سُن رہا تھا وہ اُس کی باتیں سُن کر طیش میں آ گیا اور اپنے کانوں کو ڈھانپ لیا اور اُسے سنگسار کرنے کے لیے اُس کی طرف دوڑا۔ " مگر اُس نے رُوحُ القُدس سے معمُور ہو کر آسمان کی طرف غور سے نظر کی اور خُدا کا جلال اور یِسُو ع کو خُدا کی دہنی طرف کھڑا " دیکھا" (اعمال 7باب55 آیت)۔

خُدا کے نام کو جلال دینا دراصل اُس کی صفات جیسے کہ تقدس، وفاداری، رحمت، فضل، محبت، عظمت، حاکمیت، قدرت اور حاضر و ناظر ہونے کی تعریف کرنا ہے۔ ہمیں اپنے ذہنوں کے اندر بار بار اِن کو یاد کرنا ہے اور دوسروں کو نجات کی واحد نوعیت کے بارے میں بتانا ہے جو صرف اور صرف خُدا کی طرف سے عطا کی جاتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا کو جلال دینے کا کیا مطلب ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries