settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


اِس کا مختصر ترین جواب یہ ہے کہ "جلالی بنایا جانا" وہ عمل ہے جس میں خُدا کسی ایماندار کی زندگی سے گناہ کو حتمی طور پر ختم کر دیتا ہے (مثال کے طور پر ہر ایک نجات یافتہ شخص )اپنی ابدی حالت میں چلا جائے گا (رومیوں 8باب18آیت؛ 2 کرنتھیوں 4باب17آیت)۔ یسوع کی آمدِ ثانی کے موقع پر خُدا کا جلال (رومیوں 5باب2آیت) –اُسکی عظمت، بڑھائی، جمال اور پاکیزگی – ہم میں ظاہر ہوگی، اور اُس وقت گناہ سے دبے ہوئے فانی انسان ہونے کے برعکس ہم غیر فانی حالت میں تبدیل ہو جائیں گے اور خُدا کی حضوری میں بلا روک ٹوک رسائی پائیں گے۔ پھر ساری ابدیت ہم خُدا کی رفاقت اور حضوری سے لطف اندوز ہونگے۔ جلالی بنائے جانے پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہماری توجہ یسوع مسیح کی ذات پر ہونی چاہیے کیونکہ وہ ہر ایک مسیحی کی "زندہ اُمید" ہے؛ مزید برآں ہم حتمی طور پر جلالی بنائے جانے کو تقدیس کی تکمیل بھی کہہ سکتے ہیں۔

حتمی طور پر جلالی بنائے جانے کے عمل کو مکمل ہونے کے لیے ہمارے عظیم خُدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کے جلال کے ظہور کے لیے انتظار کرنے کی ضرورت ہے (ططس 2باب13آیت؛ 1 تیمتھیس 6باب14آیت)۔ جب تک وہ واپس نہیں آ جاتا ہم گناہ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور گناہ کی لعنت کی وجہ سے ہماری بصیرت بھی مکمل طور پر صاف نہیں ہے۔ "اب ہم کو آئینہ میں دُھندلا سا دِکھائی دیتا ہے مگر اُس وقت رُوبرُو دیکھیں گے ۔ اِس وقت میرا عِلم ناقص ہے مگر اُس وقت اَیسے پُورے طَور پر پہچانُوں گاجیسے مَیں پہچانا گیا ہُوں " (1 کرنتھیوں 13باب 12آیت)۔ ہر روز ہمیں اپنی ذات کے اندر "جسمانی"(گناہ آلود) چیزوں کو مارنے کے لیے مستعد رہنا چاہیے (رومیوں 8باب13آیت)۔

ہم کب اور کیسے حتمی طور پر جلالی بنائے جائیں گے؟آخری نرسنگے کے پھونکے جانے کے وقت جب یسوع کی آمدِ ثانی ہوگی تو اُس وقت مقدسین ایک بنیادی اور فوری تبدیلی کا تجربہ کریں گے ("ہم سب ایک دم، ایک پل میں بدل جائیں گے" –1 کرنتھیوں 15باب51آیت)۔ اُس وقت "فانی" جسم "بقاء " کا جامہ پہن لے گا (2 کرنتھیوں 3باب18آیت)۔ لیکن 2 کرنتھیوں 3باب18آیت واضح طور پر اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایک بھید کے انداز میں موجودہ طور پر بھی " ہم سب کے بے نِقاب چہروں سے خُداوند کا جلال اِس طرح منعکس ہوتا ہے جس طرح آئینہ میں تو اُس خُداوند کے وسیلہ سے جو رُوح ہے ہم اُسی جلالی صورت میں دَرجہ بَدرجہ بدلتے جاتے ہیں۔ " اور جب کوئی شخص (تقدیس کے عمل کے حصے کے طور پر) خُدا کے جلال کے منعکس ہونے اور تبدیلی پر غور کرتے ہوئے خیال کرتا ہے کہ ایسا صرف خاص مقدسین کی زندگیوں میں ہی ہوتا ہے تو اُس کے تعلق سے کلامِ مُقدس ہمیں مزید معلومات فراہم کرتا ہے: "یہ خُدا کی طرف سے ہوتا ہے جو کہ رُوح ہے۔"دوسرے الفاظ میں یہ ایک ایسی برکت ہے جو ہر ایک ایماندار کو عطا کی جاتی ہے۔ یہ چیز ہمارے حتمی طور پر جلالی بنائے جانے کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ ہماری تقدیس کے ایک پہلوکی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے ذریعے سے رُوح ہمیں ابھی اِس وقت تبدیل کر رہا ہے۔ ہمیں رُوح اور سچائی کے وسیلے سے تبدیل کرنے کے لیے ساری عزت اور جلال اُسی کو ملے (یہوداہ 24-25آیات؛ یوحنا 17باب17آیت؛ 4باب 23آیت)۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ کلام جلال کی نوعیت–خُدا کے بے مثال جلال اور مسیح کی آمد پر اُس میں ہمارے حصے– کے بارے میں کیا سکھاتا ہے۔ خُدا کا جلال صرف اُس نور کی طرف اشارہ نہیں کرتا جس تک رسائی ممکن نہیں (1 تیمتھیس 6باب15-16آیات)، بلکہ اُس کی عظمت (لوقا 2باب13آیت) اور پاکیزگی کے بارے میں بھی۔ 104 زبور 2 آیت کے اندر جس "تُو" کو مخاطب کیا گیا ہے وہ اُسی خُدا کی طرف اشارہ ہے جس کے بارے میں 1 تیمتھیس 6باب15-16آیات بیان کرتی ہیں؛ وہ "حشمت اور جلال سے ملبس" ہے اور " نُور کو پوشاک کی طرح پہنتا ہے "(104 زبور 2 آیت بالموازنہ 93 زبور 1 آیت؛ ایوب 37باب22آیت ؛ 40 باب 10 آیت)۔ جب خُداوند یسوع مسیح اپنے عظیم جلال میں عدالت کرنے کے لیے آئے گا (متی 24باب29-31آیات؛ 25باب31-35آیات)، تو وہ یہ سب کچھ اُس واحد حاکم کے طور پر کرے گے جس اکیلے کے پاس ابدی اختیار ہے (1 تیمتھیس 6باب14-16آیات)۔

مخلوقات میں سے کوئی بھی اُس کے جلال پر نظر کرنے کی جرات نہیں کر سکتا؛ جیسے کہ حزقی ایل (حزقی ایل 1باب4-29آیات) اور شمعون پطرس (لوقا 5باب8آیت)، یسعیاہ پاک خُدا کی حضوری میں خود پر ہی افسوس کرنے لگ پڑا تھا۔ جب سرافیم نے کہا کہ " قُدُّوس قُدُّوس قُدُّوس ربُّ الافواج ہے ۔ ساری زمین اُس کے جلال سے معمور ہے۔ " تو یسعیاہ نے کہا کہ " مجھ پر افسوس! مَیں تو برباد ہُوا! کیونکہ میرے ہونٹ ناپاک ہیں اور نجِس لب لوگوں میں بستا ہُوں کیونکہ میری آنکھوں نے بادشاہ ربُّ الافواج کو دیکھا " (یسعیاہ 6باب4آیت)۔ حتیٰ کہ سرافیم نے بھی اپنے پروں سے اپنے چہروں کو ڈھانپتے ہوئے اِس بات کو ظاہر کیا کہ وہ بھی خُدا کے جلال پر نظر کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

جب خُداوند یسوع مسیح مجسم ہوا تو اُس نے خُدا کی پاکیزگی اور اُس کے جلال اور سچائی کی بھرپوری کو ظاہر کیا تھا ("اور کلام مجسّم ہُؤا اور فضل اور سچّائی سے معمُور ہو کر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُس کا اَیسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اِکلَوتے کا جلال " ] یوحنا 1باب14آیت بالموازنہ 17باب1-5آیات[)۔ خُدا کے جلال کے ماضی میں ہونے والے ظہور عارضی تھے جیسے کہ موسیٰ کے چہرے پر خُدا کے جلال کا اثر جو آہستہ آہست ختم ہو گیا۔ موسیٰ نے اپنے چہرے کو ایک نقاب سے چھپا لیا تاکہ سخت دِل اسرائیلی یہ نہ دیکھ لیں کہ اُس کے چہرے پر جلال کا اثر ختم ہو رہا ہے(1 کرنتھیوں 3باب12آیت)، لیکن ہمارے معاملے میں خُداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے وہ پردہ ہٹا دیا گیا ہے اور ہم خُداوند کے اُس جلال کو منعکس کرتے ہیں اور منتظر ہیں کہ رُوح کے وسیلے اُس کے ہمشکل بنیں۔

اپنی سب سے بڑی کاہنانہ دُعا میں خُداوند یسوع نے خُدا باپ سے درخواست کی تھی کہ وہ ہمیں سچائی کے وسیلے سے پاک کرے (یعنی ہمیں مُقدس بنائے؛یوحنا 17باب17آیت)؛ اگر ہم خُداوند یسوع مسیح کے جلال کو دیکھنا چاہتے ہیں اور اُس کے ساتھ ابدی رفاقت رکھنا چاہتے ہیں تو اُس کے لیے تقدیس بہت ضروری ہے (یوحنا 17باب21-24آیات)۔ " اَے باپ!مَیں چاہتا ہُوں کہ جنہیں تُو نے مجھے دِیا ہے جہاں مَیں ہُوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں تاکہ میرے اُس جلال کو دیکھیں جو تُو نے مجھے دِیا ہے کیونکہ تُونے بِنای ِعالَم سے پیشتر مجھ سے مُحبّت رکھّی "(یوحنا 17باب24آیت)۔ اگر مقدسین کا جلالی بنایا جانا اُسی ترتیب کے ساتھ ہوتا ہے جو کلامِ مُقدس میں ظاہر کی گئی ہے تو اِس پر ہمارا خُدا کے جلال (اُسکی پاکیزگی ) میں شامل ہونا بھی عائد ہوتا ہے۔

فلپیوں 3باب20-21آیات کے مطابق ہماری آسمانی شہریت میں ، اور جب ہمارا نجات دہندہ واپس آتا ہے اُس وقت وہ ہمارے فانی بدنوں کو بدل دے گا تاکہ وہ "اُسکے جلالی بدن" کی مانند ہو جائیں۔ " عزِیزو! ہم اِس وقت خُدا کے فرزند ہیں اور ابھی تک یہ ظاہر نہیں ہُوا کہ ہم کیا کچھ ہوں گے ۔ اِ تنا جانتے ہیں کہ جب وہ ظاہر ہو گا تو ہم بھی اُس کی مانِند ہوں گے کیونکہ اُس کو وَیسا ہی دیکھیں گے جَیسا وہ ہے " (1 یوحنا 3باب2آیت)۔ اُس وقت ہم پورے طور پر اپنے خُداوند یسوع مسیح کی شبیہ میں ڈھل جائیں گے اور اُس کے ہمشکل ہونگے اور ہماری انسانیت گناہ اور اُس کے نتائج سے بالکل آزاد ہوگی۔ چاہیے کہ ہماری مبارک اُمید ہمیں اُس پاکیزگی کی طرف لیکر جائے جو رُوح ہمارے اندر پیدا کرتا ہے۔ " جو کوئی اُس سے یہ اُمّید رکھتا ہے اپنے آپ کو وَیسا ہی پاک کرتا ہے جیسا وہ پاک ہے " (1 یوحنا 3باب3آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries