settings icon
share icon
سوال

"مسیحیوں کو عالمگیر غربت و افلاس کے جواب میں کیسا رَد عمل ظاہر کرنا چاہیے ؟

جواب


تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں 840 ملین سے زیادہ لوگ مستقل طور پر غذائی قلت کا شکار ہیں ۔ ہر دن 26000 چھوٹے بچّے غربت ، بھوک اور قابل ِ علاج بیماریوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ دنیا کی ایک بڑی آبادی کے ایسی افسوسناک حالت میں ہونے کے پیشِ نظر ایک مسیحی کو کیا کرنا ہے؟ کلیسیا کو کس طرح کا ردّ عمل ظاہر کرنا چاہیے؟

مسیحیوں کو عالمگیر غربت وافلاس کے ردعمل میں ہمدردی کا اظہار کرنا چاہیے ۔ یسوع کی طرف سے دئیے گئے نمونے ( متی 8باب 2آیت) کے مطابق ضرورت مندوں کے لیے حقیقی ہمدردی رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ضرورت سے آگاہ ہیں ،ہم ایسے لوگوں کی فکر کرتے ہیں اور ہم اُن کی خاطر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ ضرورت مند بھائی پر رحم کرنا ہماری زندگیوں میں خدا کی محبت کا ثبوت ہے ( 1یوحنا 3باب 17آیت)۔ جب ہم ضرورت مندوں پر مہربان ہوتے ہیں تو ہم خدا کےنام کو جلال دیتے ہیں ( امثال 14باب 31آیت)۔

مسیحیوں کو عالمگیر غربت و افلاس کے بارے میں عملی طور پر ردّ عمل ظاہرکرنا چاہیے ۔ ضرورت مندوں کے لیے دعا کرنا بے شک ایک ایسا کام ہے جو ہر مسیحی کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمگیرغربت و افلاس کے سبب سےرونما ہونے والی بد حالی کو دور کرنے کے لیے مسیحیوں کو وہ سب کچھ کرنا چاہیے جو وہ کر سکتے ہیں ۔ یسوع نے فرمایا ہے کہ "اپنا مال اسباب بیچ کر خیرات کر دو اور اپنےلئے اَیسے بٹوے بناؤ جو پُرانے نہیں ہوتے یعنی آسمان پر اَیسا خزانہ جو خالی نہیں ہوتا۔ جہاں چور نزدِیک نہیں جاتا اور کیڑا خراب نہیں کرتا۔ کیونکہ جہاں تمہارا خزانہ ہے وہیں تمہارا دِل بھی لگا رہے گا"( لوقا 12باب 33-34 آیات)۔ تبیتا کی طرح ہمیں بھی " نیک کا م اور خیرات"( اعمال 9باب 36آیت) کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے ۔

وہ ایماندار جو بے غرضی سے غریب کو دیتا ہے خدا سے برکت پائے گا۔ "جو مسکینوں پر رحم کرتا ہے خُداوند کو قرض دیتا ہے اور وہ اپنی نیکی کا بدلہ پائے گا" ( امثال 19باب 17آیت)۔ یہ آسمانی برکات مادی چیزوں کی بجائے رُوحانی ہو سکتی ہیں لیکن اس کا اجر یقینی ہے –غریبوں کو دینا ابدیت کے لیے سرمایہ کاری کرناہے ۔

ایسی کئی مسیحی امدادی تنظیمیں ہیں جو نہ صرف عالمگیر غربت و افلاس سے نمٹنے کے لیے کام کرتی ہیں بلکہ یسوع مسیح کی انجیل کا پرچار بھی کرتی ہیں۔ کمیشن انٹرنیشنل جیسے گروہ کسی شخص کی جسمانی اور رُوحانی دونوں طرح کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مسیحیوں کو عالمگیر غربت و افلاس کے بارے میں اُمید کےساتھ ردّ عمل ظاہر کرنا چاہیے ۔ ایماندار غریبوں کی خاطر اس اعتماد کے ساتھ کام کر سکتے ہیں کہ وہ دنیا میں خدا کے کام میں مزید مدد کر رہے ہیں: "مَیں جانتا ہوں کہ خُداوند مصیبت زدہ کے معاملہ کی اور محتاج کے حق کی تائید کرے گا" (140زبور 12آیت) ۔ایماندار اِس امید کے ساتھ کام کرتے ہیں کہ یسوع واپس آئے گا اور "وہ راستی سے مسکینوں کا اِنصاف کرے گا اور عدل سے زمین کے خاکساروں کا فیصلہ کرے گا " ( یسعیاہ 11باب 4آیت)۔

یسوع نے فرمایا ہے کہ اُس حتمی انصاف کے دن تک "غریب غُربا تو ہمیشہ تمہارے(ہمارے ) پاس ہیں " (متی26باب 11آیت)۔ اُس صورت میں ہمارے پاس دوسروں کی مدد کے وسیلہ سے خدا کی خدمت کرنے کے لامحدود مواقع ہیں اور یہ ہماری لازمی ذمہ داری ہے ۔



English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

"مسیحیوں کو عالمگیر غربت و افلاس کے جواب میں کیسا رَد عمل ظاہر کرنا چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries