کیا نوح کا سیلاب تمام دنیا کو مؤثر کرنے والا تھایا مقامی تھا؟



سوال: کیا نوح کا سیلاب تمام دنیا کو مؤثر کرنے والا تھایا مقامی تھا؟

جواب:
نوح کے سیلاب کی بابت کلام پاک کی عبارتیں صاف طور سےبتاتے ہیں کہ یہ تمام دنیا کو مؤثر کرنے والا تھا۔ پیدائش 7:11 بیان کرتاہے کہ "نوح کی عمر کا چھ سواں سال تھاکہ اس کے دوسرے مہینے کی ٹھیک سترہویں تاریخ کو بڑے سمندر کے سب سوتے پھوٹ نکلے اور آسمان کی کھڑکیاں کھل گئیں"۔ پیدائش 7 -6 :1 اور 2:6 ہم سے کہتا ہے کہ سیلاب سے پہلے کا ماحول بالکل ہی فرق تھا جو ہم موجودہ زمانہ میں تجربہ رکھتے ہیں۔ ان حوالہ جات اور دیگر بیانات کی بنیاد پر یہ با سبب قیاس کیا جاتاہےکہ زمین ایک طرح کے پانی کے شامیانہ سے ڈھکی ہوئی تھی۔ یہ پانی کا شامیانہ ہوسکتا کہ بخارات کی شکل رہاہوگایا یہ ہو سکتا ہے کہ چکر دال گولائی میں پانی کے بادل چھائے تھے جیسے کہ سیارہ زحل کے برف کے چھلوں کی مانند۔ یہ زمین کے نیچے پانی کی جو تہہ تھی اس کے متحدہ کارروائی سے ہوا جب اوپر اور نیچے کا پانی خشک زمین پر چھوڑا گیا تھاتب پیدائش 2:6 کے مطابق تمام دنیا کو مؤثر کرنے والا ایک سیلاب کا نتیجہ سامنے آیا ہوگا۔

بالکل سے صاف کلام پاک کی آیتیں جو سیلاب کے پھیلاؤ کی بابت بتاتی ہیں وہ ہے پیدائش 23 – 19 :7 ۔ پانیوں کے بارے جیسے لکھا ہےکہ "اور پانی زمین پربہت ہی زیادہ چڑھا اور سب اونچے پہاڑ جو دنیا میں ہیں چھپ گئے۔ پانی ان سےپندرہ ہاتھ اور اوپر چڑھا اور پہاڑ ڈوب گئے۔ اور سب جانور جو زمین پر چلتے تھے، پرندے اور چوپائے اور جنگلی جانور اور زمین پر کے سب رینگنے والے جاندار اور سب آدمی مر گئے۔ اور خشکی کے سب جاندار جن کے نتھنوں میں زندگی کا دم تھا مر گئے بلکہ ہر جاندار شئے جو روئے زمین پر تھی مر مٹی۔ کیاانسان کیاحیوان، کیا رینگنے والے جاندار کیا ہوا کے پرندے یہ سب کے سب زمین پر سے مر مٹے۔ فقط ایک نوح اور اسکا خاندان جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے"۔

اوپر کی عبارت میں ہم صرف "سب"کے لفظ کو بار بار استعمال ہوتے ہوئے نہیں پاتے ہیں بلکہ یہ بھی پاتے ہیں کہ "آسمان کے نیچے پائے جانے والے دنیا کے سب اونچے پہاڑ سیلاب سے ڈوب گئے"۔ "پانی ان سے بیس فٹ اور اوپر چڑھا اور پہاڑ ڈوب گئے"۔ "اور سب جاندار جو روئے زمین پر تھی مر مٹی"۔ یہ بیانات صاف طور سے بیان کرتی ہیں کہ ایک عالمگیر سیلاب نے ساری زمین کو ڈبو دیا تھا۔ یہ بھی کہ اگر یہ سیلاب مقامی ہوتا تو خدا نے نوح کو ایک بہت بڑا پانی کا جہاڑ بنانے کا کیوں حکم دیا؟ کیا وہ صرف یہ نہیں کہہ سکتا تھاکہ اپنے خآندان کو اس جگہ سے دور لے جاؤ اورجانوروں کو منتقل کردو؟ اور خدا نے نوح سےایسا کیوں کہاکہ ایک بہت بڑی کشتی بناؤ جس میں مختلف قسم کے تمام جانوروں کو جو زمین میں پائے جاتے ہیں انہیں پناہ د سکو۔ اگر سیلاب تمام دنیا کو مؤثر کرنے والا نہ ہوتا تو اس بڑی کشتی کی ضرورت نہ ہوتی۔

پطرس بھی سیلاب کے عالمگیر ہونے کا ذکر کرتاہے 2 پطرس 7-6 :3 جہاں وہ اس طرح بیان کرتا ہے کہ " ان ہی کے ذریعہ سے اس زمانہ کی دنیا ڈوب کر ہلاک ہوئی مگر اس وقت کے آسمان اور زمین اسی کلام کے ذریعہ سے اس لئے رکھے ہیں کہ جلائے جائیں اور وہ بے دین آدمیوں کی عدالت اور ہلاکت کے دن تک محفوظ رہیں گے"۔ ان آیتوں میں پطرس آنے والے اس "عالمگیر" انصاف کے دن کا موازنہ نوح کے زمانہ کے سیلاب سے کرتاہے اور وہ بتاتاہے کہ ایک پرانی دنیا موجود تھی اور انسان کے گناہوں کے سبب سےخدا نے اس کوپانی کے سیلاب سے غرق کر دیا۔ اس کے آگے کلام پاک کے مصنفوں نے عالمگیر سیلاب کے تاریخی ہونےکو قبول کیا ہے۔ (یسعیاہ 54:9 ؛ 1 پطرس 3:20؛ 2 پطرس 2:5؛ عبرانیوں 11:7)۔ آخر میں خداوند یسوع نے اس عالمگیر سیلاب پر اعتقاد کیااور اس کو اپنی دوسری آمد کے لئے موجودہ دنیا کی تباہی کی تمثیل بطورپیش کی (متی 39- 37 :24 ؛ لوقا 27-26 :17)۔

اس کے علاوہ کئی ایک کلام پاک کی ثبوتیں ہیں جو ایک عالمگیر آفت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ جن میں سے ایک نوح کا عالمگیر سیلاب ہے۔ ہر ایک بر اعظم میں کئی ایک پتھر میں بدلے ہوئے قبرستان (کوئي چیز جو زمین کے طبقوں میں دبی ہوئی ملے اور جس سے معلوم ہو کہ یہ کسی اگلے زمانے کے درخت یا جانور وغیرہ کے بقیہ آثار ہیں) اور کوئلے کےانبار پائے جاتے ہیں جس سے کہ روئیدگی کی بڑی مقدار کو بہت جلد ڈھانکنے کی ضرورت پڑے گی۔ سمندر میں پائے جانے والے جانور مرنے کے بعد جو پتھر میں تبدیل ہو چکے تھے وہ بھی دنیا کے کئی ایک پہاڑوں کی اونچائی میں دستیاب ہوئے ہیں جو اس عالمگیر سیلاب کو ثبوت بطور پیش کرتی ہیں۔ دنیا کے تمام حصوں میں تہذیبیں اس عالمگیر سیلاب کی اشیاء کو کسی نہ کسی شکل میں عجائب گھروں میں اپنے پاس محفوظ کر رکھے ہیں۔ یہ تمام حقیقتیں اور دیگر ثبوتیں عالمگیر سیلاب کی ثبوتیں ہیں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا نوح کا سیلاب تمام دنیا کو مؤثر کرنے والا تھایا مقامی تھا؟