settings icon
share icon
سوال

تعلیم دینے کی رُوحانی نعمت کیا ہے ؟

جواب


تعلیم کی نعمت رُوح القدس کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے (رومیوں 12باب 6-8آیات1 کرنتھیوں 12باب 28آیت؛ افسیوں 4باب 1-12آیات)۔ یہ رُوح القدس کی طرف سے بخشی گئی ایک نعمت ہے جو کسی ایماندار کو بائبل کی سچائیوں کو مؤثر طریقے سے دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے قابل بناتی ہے۔ ہمیشہ نہیں،مگراکثر یہ نعمت مقامی کلیسیا کے پسِ منظر میں استعمال ہوتی ہے۔ تعلیم دینے کی نعمت خدا کے کلام کے معنی ، سیاق و سباق اور سُننے والے کی زندگی پر اس کے اطلاق کی وضاحت کرتے ہوئے اِس کے تجزیے اور منادی پر مشتمل ہوتی ہے ۔ اس نعمت کا حامل استاد وہ شخص ہے جس کے پاس خصوصاً بائبل کے عقیدے اور سچائیوں کے بارے میں علم سکھانے اور واضح طور پر نصیحت کرنے کی منفرد صلاحیت ہوتی ہے۔

خُدا نے اپنی کلیسیا کی اصلاح کے لیے رُوحانی نعمتیں بخشی ہیں۔ پولس نے کرنتھس کی کلیسیا کو یہ بتاتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ مسیح کی کلیسیا کی اصلاح اور تعمیر کی کوشش کریں چونکہ وہ رُوحانی نعمتوں کی "آرزو ر" رکھتے ہیں اِس لیے وہ اُنہیں کہتا ہے کہ " اَیسی کوشِش کرو کہ تُمہاری نعمتوں کی افزُونی سے کلیسیا کی ترقّی ہو " (1کرنتھیوں 14باب 12آیت)۔ رُوحانی نعمت (یونانی میں کرسمیٹا/ کرشمہ) ایک مافوق الفطرت خدا داد صلاحیت ہے تاکہ مسیح کے بدن کی ترقی کے لیے خدمتی کام سر انجام دیا جا سکے ۔ یہ کسی طرح سے حاصل نہیں جا سکتی بلکہ خدا کے فضل سے بخشی جاتی ہے ۔ اگرچہ کسی رُوحانی نعمت کو درجہ بدرجہ بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن اِس کے استعمال کے لیے مافوق الفطرت صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیم دیناانہی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔

"تعلیم" کے لیے استعمال ہونے والا یونانی لفظ ڈِیڈسکولس/didaskalos ہے جس کا مطلب "نصیحت کرنا" ہے۔ ہم تمام بائبل میں تعلیم دینے کی مثالیں دیکھتے ہیں۔ یسوع خود عظیم اُستاد تھا اور اُس نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا تھا کہ "تم جا کر سب قَوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کو باپ اور بیٹے اور رُوح القُدس کے نام سے بپتِسمہ دو۔ اور اُن کو یہ تعلِیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جِن کا مَیں نے تم کو حکم دِیا اور دیکھو مَیں دُنیا کے آخِر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہُوں" ( متی 28باب 19-20آیات)۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو حکم دیا کہ وہ نئے شاگردوں کو عقیدے اور پاک زندگی بسر کرنے کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے ہروہ بات سکھائیں جس کا اُس نے حکم دیا ہے ۔ مسیح کے خادمین کو انسا نوں کے احکام یا کسی بھی ایسی بات کی تعلیم نہیں دینی چاہیے جو اُن کی اپنی یا دوسرے انسانوں کی وضع کردہ ہے بلکہ صرف وہی جس کا مسیح نے حکم دیا ہے۔

ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں تعلیم دینے کی نعمت کو استعمال کیا جا سکتا ہےمثلاًسنڈے سکول ، بائبل سکول، کالج،سیمنری اور گھر پر بائبل سٹڈی ۔ اس نعمت کا حامل شخص فرداًفرداً یا اجتماعی طور پر تعلیم دے سکتا ہے۔ تعلیم دینے کی فطری صلاحیت رکھنے والا شخص کسی بھی بات کے بارے میں سکھا سکتا ہے لیکن تعلیم دینے کی رُوحانی نعمت رکھنے والا شخص بائبل میں سے سکھاتا ہے۔ وہ کسی کتاب کے پیغام کو پو ری کتا ب کے طور پر سکھا سکتا یا اُسے الگ الگ پیروں یا آیات میں تقسیم کر سکتا ہے۔ تعلیم دینے کی نعمت کا حامل شخص کوئی نیا مواد پیدا نہیں کرتا بلکہ ایسا استاد صرف بائبل کے متن کے معنی کی وضاحت یا تشریح کرتا ہے۔

تعلیم دینارُوح القدس کی ایک مافوق الفطرت نعمت ہے۔ اس نعمت کے بغیر جب کوئی شخص بائبل کو سنتا یا پڑھتا ہے تو وہ اُسےکسی حد تک سمجھ تو سکتا ہے لیکن وہ بائبل کی وضاحت اُس طور سے نہیں کر سکتا جیسے اِس نعمت کا حامل شخص کر سکتا ہے۔ اگرچہ اسے بہتربنا یاجا سکتا ہے لیکن تعلیم دینے کی نعمت ایک ایسی چیز نہیں ہے جسے سیکھایا کالج کی ڈگری کی طرح حاصل کیا جا سکتا ہو ۔ تعلیم دینے کی نعمت کے بغیر پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حامل شخص بائبل کی اُس شخص کی مانند تشریح کرنے کے قابل نہیں ہو گاجس کے پاس ڈگری نہیں ہے مگر وہ تعلیم دینے کی نعمت کا حامل ہے ۔

افسیوں 4باب 11-12آیات میں پولس مقامی کلیسیا کی ترقی کے لیے بنیادی نعمتوں کی فہرست پیش کرتا ہے۔یہ نعمتیں مسیح کے بدن کی ترقی کے لیے دی گئی ہیں۔ 11 آیت میں استادوں کوپادریوں سے منسلک کیا جا تاہے۔ یہ بات ضروری طور پر ایک نعمت کی طرف اشارہ نہیں کرتی لیکن ایسا لگتا ہے کہ پادری بھی ایک استاد ہی ہے۔ پادری کے لیے یونانی لفظ پوئمین استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب "چرواہا"ہے۔ پادری وہ شخص ہے جو اپنے لوگوں کی بالکل اُسی طرح دیکھ بھال کرتا ہے جس طرح ایک چرواہا اپنی بھیڑوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ جس طرح ایک چرواہا اپنی بھیڑوں کو چراتا ہے اسی طرح ایک پادری کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو خدا کے کلام کی رُوحانی خوراک سے سیر کرے ۔

جب لوگ خدا کے کلام کو سُنتے اور اُس بات پر دھیان دیتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے اور اپنی زندگیوں میں اُنہوں نے اُس کا کیسے اطلاق کرنا ہے تو تعلیم دینے کی نعمت کے استعمال سے کلیسیا ترقی پاتی ہے ۔ خدا نے بہت سے لوگوں کو اس نعمت سے نوازہ ہے تاکہ لوگوں کو اُن کے ایمان میں مضبوط کیا جائے اور انہیں تمام حکمت اور علم میں ترقی کرنے کے قابل بنایا جائے (2پطرس 3باب 18آیت)۔

مسیحی کیسے جان سکتے ہیں کہ آیا اُن کے پاس تعلیم دینے کی نعمت ہے یا نہیں ؟ انہیں خُدا سےیہ درخواست کرنے کے ساتھ ابتدا کرنی چاہیےکہ وہ اُن کو اِس نعمت کے حامل استاد کی اجازت اور رہنمائی میں سنڈے سکول یا بائبل سٹڈی کی کلاس میں سکھانے کے مواقع فراہم کرے ۔ اگر اُنہیں لگتا ہے کہ وہ بائبل کے معنی کی وضاحت کر سکتے ہیں اور دوسرے لوگ مثبت رویہ ظاہر کرتے ہیں تو غالباً اُن کے پاس تعلیم دینےکی نعمت ہے اور انہیں اپنی نعمت کو استعمال کرنے اور ترقی دینے کے مزید مواقع کے لیے خدا سے دعا کرنی چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

تعلیم دینے کی رُوحانی نعمت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries