settings icon
share icon
سوال

قیادت کی رُوحانی نعمت کیا ہے ؟

جواب


بائبل کلیسیا ئی منصوبوں کو پورا کرنے، مقامی کلیسیا کو ترقی دینے، رفاقتی ضروریات کو پورا کرنے اور برادری کی سطح پر گواہی قائم کرنے میں مدد کرنے کے طریقوں کے بارے میں بات کرتی ہے۔ بائبل اُن طریقوں کو رُوحانی نعمتوں کے طور پر بیان کرتی ہے جن میں سے ایک قیادت کی نعمت بھی ہے۔ مقامی کلیسیا میں قیادت کی نعمت کا دو حوالہ جات رومیوں 12باب 8آیت؛ اور 1کرنتھیوں 12باب 28آیت میں ذکر آتا ہے ۔ اِن آیات میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ "پیشوا" یا "منتظم" کیا گیا ہے وہ اُس شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے جو دوسروں پر اختیاررکھتا ہے یا جو منظم کرتا یا حکومت کرتا ہے یا جو کسی چیز کی بڑی حفاظت اورفکرمند ی سے دیکھ بھال کرتا ہے۔ 1 تھیسلنیکیوں 5باب 12آیت میں یہ لفظ عام طور پر خادموں کے تعلق سے استعمال ہوا ہے: " اَے بھائِیو! ہم تم سے درخواست کرتے ہیں کہ جو تم میں محنت کرتے اور خُداوند میں تمہارے پیشوا ہیں اور تم کو نصیحت کرتے ہیں اُنہیں مانو۔" یہاں اس آیت میں اُس لفظ کا ترجمہ" تمہارے پیشوا " کیا گیا ہے ۔

ہر جماعت /ادارہ قیادت کی بنیاد پر ترقی کرتا اور زوال پذیر ہوتاہے ۔ قیادت جتنی زیادہ ماہر اور موثر ہوگی تنظیم اتنی ہی بہتر طریقے سے کام کرے گی اور ترقی کے امکانات اتنے ہی بڑھتے جائیں گے ۔ رومیوں 12باب 8آیت میں جس لفظ کا ترجمہ "پیشوا" کیا گیا ہے وہ مقامی کلیسیا کے حوالے سے دیکھ بھال اور جانفشانی کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پیشوا کو اپنا کام مستقل جانفشانی سے سرانجام دینا ہے جس سے مراد گلہ کی نگہبانی کرنا اور ضرورت مند بھیڑوں کی دیکھ بھال کے لیے ذاتی آرام کو قربان کرنے کے لیے تیار رہنا ہے۔

قیادت کی رُوحانی نعمت رکھنے والے لوگ کئی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ سب سے پہلی اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اُن کا مقام خداوند کی طرف سے مقرر کیا گیا ہےاوروہ خُدا کی رہنمائی کےما تحت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ مطلق حکمران نہیں ہیں بلکہ وہ خود بھی اُس کے تابع ہیں جو اُن سب پر حکمران ہے یعنی خداوند یسوع جو کلیسیا کا سرہے۔ مسیح کے بدن کے انتظامی نظام میں اپنے مقام کی پہچان اس نعمت کے حامل رہنماؤں کو غرور یا استحقاق کے احساس سے مغلوب ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ حقیقی طور پر اس نعمت کا حامل مسیحی پیشوا مانتا ہے کہ وہ مسیح کابندہ/ غلام اور اُن سب کا خادم ہے جن کی وہ قیادت کرتا ہے۔ پولس رسول نے خود کو "مسیح یسوع کا بندہ(غلام )" پیش کرتے ہوئے اِس مقام کی پہچان کی تھی (رومیوں 1باب 1آیت)۔ پولس کی طرح اس نعمت کا حامل پیشوا تسلیم کرتا ہے کہ اُس نے خود نہیں بلکہ خدا نے اُسے اِس عہدے پرفائز ہونے کے لیے بلایا ہے(1کرنتھیوں 1باب 1آیت)۔ یسوع کے نمونے کی پیروی کرتے ہوئے اس نعمت کا حامل رہنما بھی لوگوں سے خدمت لینے یا اُن پر حاکم بننے کی بجائے اُن کی خدمت کرنے کے لیے زندگی بسر کرتاہے جن کی وہ قیادت کرتا ہے (متی 20باب 25-28آیات)۔

خُداوند یسوع کے سوتیلے بھائی یعقوب کے پاس اُس وقت پیشوائی کی نعمت تھی جب اُس نے یروشلیم میں کلیسیا کی قیادت کی تھی۔ اُس نے بھی اپنے آپ کو" خُدا کے اور خُداوند یسوع مسیح کے بندہ " ( یعقوب 1باب 1آیت) کے طور پر پیش کیا تھا۔ یعقوب نے رُوحانی قیادت کی ایک اور خوبی –دوسروں کو تمام معاملات میں صحیح ، بائبل اور دین داری کے مطابق سوچنے کے لیے قائل کرنے کی خوبی– کا مظاہرہ کیا تھا ۔یعقوب نے یروشلیم میں بزرگوں کی مجلس میں اس متنازعہ مسئلے کو نمٹا یا کہ یسوع مسیح پر ایمان لانے والی غیر قوموں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے ۔ "جب وہ خاموش ہُوئے تو یعقُوبؔ کہنے لگا کہ اَے بھائِیو میری سُنو! شمعُون نے بیان کِیا ہے کہ خُدا نے پہلے پہل غیر قَوموں پر کس طرح تَوجُّہ کی تاکہ اُن میں سے اپنے نام کی ایک اُمّت بنا لے"(اعمال 15 باب 13-14آیات)۔ اس ابتدائی بیان کے ساتھ یعقوب نے اراکن کی واضح اور بائبل کے مطابق سوچنے کی طرف رہنمائی کی اور انہیں اس مسئلے پر صحیح فیصلہ کرنے کے قابل بنایا (اعمال 15باب 22-29آیات)۔

خدا کے گلہ کے چرواہوں کی حیثیت سے رُوحانی نعمت کے حامل رہنما جانفشانی کے ساتھ قیادت کرتے ہیں اور اصل رُوحانی ضروریات اور "ظاہری" ضروریات کے درمیان پہچان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ دوسروں کی ایمان کی پختگی کی جانب رہنمائی کرتے ہیں۔ مسیحی رہنما دوسرے ایمانداروں کی اِس بات میں امتیاز کرنے میں مدد اور رہنمائی کرتے ہیں کہ کونسی چیز یا بات خُدا کی طرف سے ہے اور کونسی چیز یا بات ثقافتی اور عارضی ہے۔ پولس کے نمونے کی پیروی میں کلیسیا ئی رہنماکے الفاظ انسانی حکمت کے نقطہ نظر سے "عقلمند اور قائل کرنے والے" نہیں بلکہ رُوح القدس کی قوت سے لبریز ہوتے ہیں جو دوسروں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان کو اُس قوت پر قائم رکھیں (1کرنتھیوں 2باب 4-6آیات)۔ اس نعمت کے حامل پیشوا کا مقصد اُن لوگوں کی خبرگیری اور اصلاح کرنا ہے جن کی وہ رہنمائی کرتا ہے "جب تک ہم سب کے سب خُدا کے بیٹے کے اِیمان اور اُس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامِل اِنسان نہ بنیں یعنی مسیح کے پُورے قَد کے اندازہ تک نہ پہنچ جائیں"(افسیوں 4باب 13 آیت)۔

خدا کی طرف سے قیادت کی رُوحانی نعمت اُن مردو خواتین کو بخشی جاتی ہے جو کلیسیا کی اس موجودہ نسل سے آگے تک بڑھنے اور ترقی کرنے میں مدد کریں گے۔ خدا نے قیادت کی نعمت انسانوں کی عزت کےلیے نہیں بلکہ اس لیے بخشی ہے تاکہ جب ایماندار اُس کی دی ہوئی نعمتوں کو اُس کی مرضی پوری کرنے کےلیے استعمال کریں تو اُس کا نام جلال پائے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

قیادت کی رُوحانی نعمت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries