settings icon
share icon
سوال

نصیحت/حوصلہ افزائی کی نعمت کیا ہے ؟

جواب


نصیحت یا حوصلہ افزائی کی نعمت رومیوں 12باب7-8آیات کے اندر پولس رسول کے بیان میں پائی جاتی ہے۔ جس لفظ کا ترجمہ "نصیحت " یا "حوصلہ افزائی" کیا گیا ہے وہ یونانی لفظparaklésis ہے، جس کا تعلق یونانی لفظ paraclete کے ساتھ ہے، جس کے معنی ہیں "کسی کا ساتھ دینا" ، "کسی کے پہلو میں کھڑے ہونا۔"

Paraklésis کا مطلب کسی کو "نصیحت کرنے"، ترغیب دینے"، "حوصلہ افزائی کرنے"، "خوشی دینے" یا پھر "تسلی دینے" کے لیے اُس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ یہ تمام کے تمام اعمال نصیحت یا حوصلہ افزائی کرنے کی نعمت کا حصہ ہیں۔ مثال کے طور پر پولس اکثر اپنے قارئین پر زور دیتا اور اُنہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کچھ اُس نے اُنہیں لکھا ہے وہ اُس پر عمل کریں۔ اِس کی ایک اچھی مثال رومیوں 12باب1-2آیات ہے جہاں پر پولس رسول روم کے مسیحیوں کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ اپنے بدن خُدا کے حضور زندہ قربانی کے طور پر پیش کریں۔ ایسا کرنے کے وسیلے وہ خُدا کی مرضی کو جان پائیں گے۔

یہ دلچسپ بات ہے کہ گرفتار ہونے سے پہلے جب یسوع نے اپنے شاگردوں کے ساتھ بات چیت کی تو اُس نے رُوح القدس کے "مددگار" ہونے کے بارے میں بات کی (یوحنا 14باب16، 26آیات؛ 15باب26آیت)، یہی وجہ ہے کہ اکثر رُوح القدس کو "پیراکلیٹ "کہا جاتا ہے جو ہمیں نصیحت کرنے اور ہماری حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ہمارے پاس آتا ہے۔

ہر ایک ایسا شخص جس کے پاس رُوح کی نصیحت کرنے کی نعمت ہوتی ہے وہ اُسے عوام الناس میں بھی استعمال کر سکتا ہے اور شخصی طور پر بھی۔ نصیحت کی نعمت صلاح کاری، شاگردیت، رہنمائی اور تعلیم دینے کی خدمات میں استعمال ہوتی ہے۔ نصیحت کی نعمت رکھنے والے لوگوں کی خدمت کے صلے میں مسیح کا بدن ایمان میں بڑھتا ہے۔

حوصلہ افزائی یا نصیحت کی نعمت تعلیم دینے کی نعمت سے مختلف ہے جس کے مطابق لوگوں کو بائبل کی تعلیمات کا اطلاق کرنے کی نصیحت کی جاتی ہے۔ اب جبکہ تعلیم دینے کی نعمت کے استعمال کے دوران لوگ کلام کے معنی اور اُس کے اصل مطلب پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ نصیحت کی نعمت کے حامل لوگ کلام کے عملی اطلاق پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ایسا کوئی بھی شخص افہام و تفہیم ، ہمدردی اور مثبت رہنمائی کے ذریعےکسی اکیلے شخص یا لوگوں کے کسی گروہ کے ساتھ اپنےآپ کو منسلک کر سکتا ہے۔ تعلیم کہتی ہے کہ ،"یہ وہ راستہ ہے جس پر تمہیں چلنا چاہیے۔"؛ نصیحت کہتی ہے کہ "اِس راہ پر چلنے کے لیے مَیں تمہاری مدد کرونگی۔"نصیحت کرنے کی نعمت کا مالک شخص کسی بھی شخص کی مکمل مایوسی کی حالت سے اُمید کی طرف بڑھنے میں مدد کر سکتا ہے۔

بائبل میں سے نصیحت کی نعمت کی غالباً سب سے بہترین مثال برنباس کی دی جا سکتی ہے۔ اُس کا اصل نام یوسف تھا، لیکن رسول اُسے "برنباس" کہہ کر بلاتے تھے جس کے معنی ہیں "حوصلہ افزائی کا بیٹا" (اعمال 4باب36آیت)۔ ہم اعمال 9باب27آیت کے اندر دیکھتے ہیں کہ برنباس اُس پولس کو لیکر کلیسیا کے پاس آتا اور متعارف کرواتا ہے جس کی زندگی ابھی نئی نئی تبدیل ہوئی ہوتی ہے۔ اعمال 13باب43آیت کے اندر وہ ایمانداروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ خُدا کے فضل پر قائم رہیں۔ اعمال 15باب36-41آیات کے اندر برنباس یوحنا مرقس کو اپنے مشنری ساتھی کے طور پر چنتا ہے حالانکہ پچھلے مشنری سفر کے دوران یوحنا مرقس نے اُن کا پورا ساتھ نہیں دیا تھا اور بیچ سفر سے لوٹ آیا تھا۔ دوسرے الفاظ میں برنباس نے یوحنا مرقس کو ایک دوسرا موقع دیا۔ برنباس کی ساری خدمت کے دوران دیکھا جا سکتا ہے کہ اُس نے نصیحت اور حوصلہ افزائی کی نعمت کا استعمال کیا اور لوگوں کو مدد، تسلی اور حوصلہ افزائی کے لیے اپنے پاس بلایا تاکہ وہ مسیح کی خدمت کے لیے اور زیادہ موثر بن سکیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

نصیحت/حوصلہ افزائی کی نعمت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries