settings icon
share icon
سوال

مَیں خُدا کیساتھ درست تعلق کیسے استوار کروں؟

جواب


خدا کے ساتھ "درست تعلق "رکھنے کے لئے سب سے پہلے ہم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ "غلط " کیا ہے۔ اِس بات کا جواب ہے گناہ۔ "کوئی نیکوکار نہیں، ایک بھی نہیں (14زبور 3آیت) جب ہم نے خُدا کے احکام کے خلاف بغاوت کی تو " ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے" (یسعیاہ 53باب6آیت)۔

اب بُری خبر یہ ہے کہ گناہ کی مزدوری موت ہے۔ "جو جان گناہ کرتی ہے وہی مرے گی" (حزقی ایل 18باب4آیت)۔لیکن ساتھ ہی اچھی خبریہ ہے کہ ایک محبت کرنے والے خُدا نے ہمیں نجات دینے کے لیے خود ڈھونڈ نکالا ہے۔ خُداوند یسوع نےاپنے اِس دُنیا میں آنے کے مقصد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ابن آدم کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے" (لوقا 19باب10آیت)۔ اور جب اُس نے صلیب پر جان دی تو اُس نے اپنے مقصد کی تکمیل کا اعلان اِن الفاظ میں کیا "تمام ہوا" (یوحنا 19باب 30آیت)۔

خُدا کے ساتھ درست تعلق استوار کرنے کا آغاز اِس حقیقت کو تسلیم کرنے سے ہوتا ہے کہ ہم سب گناہگار ہیں۔ اور پھر اگلا مرحلہ اپنے خُدا کی پاک حضوری میں اپنے گناہوں کا اقرار کرنا ہے (یسعیاہ 57باب 15آیت)۔ "کیونکہ راستبازی کے لئےایمان لانا دل سے ہو تاہے اور نجات کے لئے اقرار منہ سے کیا جاتا ہے" (رومیوں 10باب 10آیت)۔

آپ کی یہ توبہ ایمان کے ساتھ جڑی ہونی چاہیے – بالخصوص اِس ایمان کے ساتھ کہ آپکے گناہوں کے لیے خُداوند یسوع مسیح کی صلیبی قربانی، موت اور اُس کا معجزانہ طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنا ثابت کرتا ہے کہ وہ آپکا نجات دہندہ بن سکتا ہے۔ "اگر تُو اپنی زبان سے یسوع کے خداوند ہونےکا اقرار کرےاور اپنے دل سے ایمان لائے کہ خدا نے اُسے مُردوں میں سے جلایا تو نجات پائے گا" (رومیوں 10باب9آیت)۔ بائبل مُقدس میں مزید کئی ایک ایسے حوالہ جات ہیں جو ایمان کی ضرورت پر زور دیتے ہیں جیسے کہ یوحنا 20باب 27آیت؛ اعمال 16باب31آیت؛ گلتیوں 2باب 16آیت ، 3باب11، 26آیات؛ اور افسیوں 2باب8آیت ۔

خُدا کے ساتھ درست تعلق استوار کرنے کا دارومدار اِس بات پر ہے کہ جو کچھ خُدا نے آپکی نجات کے لیے کیا ہے اُس کے جواب میں آپ کیا کیا ردِ عمل ہے۔ اُس نے نجات دہندہ کو بھیجا، اُس نے وہ قربانی مہیا کی جس کی بدولت آپ کے گناہ اُٹھا لئے گئے(یوحنا 1باب 29آیت )اور اُس نے ایک خوبصورت وعدے کی صورت میں ایک بہت اہم پیشکش بھی کی کہ"جو بھی خدا وند کا نام لیگا نجات پائے گا" (اعمال 2باب 21آیت)۔

توبہ کرکے معافی حاصل کرنے کی ایک خوبصورت مثال ہمیں مصرف بیٹے کی کہانی میں ملتی ہے (لوقا 15باب11-32آیات)۔ اِس کہانی میں چھوٹے بیٹے نے باپ کی طرف سے ملنے والی جائیداد کو جو کہ اُس کے لیے کسی بہت بڑے انعام سے کم نہ تھی شرمناک گناہوں میں برباد کر ڈالا (آیت 13) جب اُسے اپنے بُرے کاموں کا احساس ہوا تو اس نے واپس گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ (آیت 18)۔ اُس نے اپنے تصورات میں یہ بات فرض کر لی تھی کہ ابھی اُسے اپنے باپ کا بیٹا کہلانے کا حق حاصل نہیں ہے(آیت19) ۔ مگر وہ غلط تھا۔ باپ نے لوٹ کر آنے والے باغی بیٹے کو پہلے سے زیادہ پیار کیا (آیت 20)۔ اُس کی ساری خطائیں معاف کردی گئیں اور اُس کے لوٹنے کی خوشی میں ایک جشن منایا گیا (آیت 24)۔ خدا اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا خُدا ہے جن میں ہمیں معاف کر دینے کا وعدہ بھی شامل ہے۔"خداوند شکستہ دلوں کے نزدیک ہے اور خستہ جانوں کو بچاتا ہے۔ (34زبور18آیت)۔

اگر آپ خُدا کے ساتھ درست تعلق استوار کرناچاہتے ہیں تو یہاں پر دُعاکا ایک نمونہ پیش کیا گیاہے۔ یاد رکھیں کہ یہ دُعا یا کوئی بھی دوسری دُعا آپ کو بچا نہیں سکتی۔ صرف مسیح خُداوند پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لانے کے ذریعہ سے ہی آپ اپنے گناہوں کی سزا سے بچ سکتے ہیں۔ یہ دُعا محض ایک ذریعہ ہے اور اِس بات کا اقرار ہے کہ آپ خدا پر اپنے ایمان کا اقرار کرتے ہیں اور اُس کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اِس نے آپ کے لئے نجات کا انتظام کیا۔

"اَے خداباپ! مَیں جانتا /جانتی ہوں کہ مَیں نے تیرے خلاف گناہ کیا ہے اور مَیں سزا کا/کی مستحق ہوں۔ مُجھے تیرے کلام کی روشنی میں یہ بھی معلوم ہے کہ خُداوند یسوع مسیح نے میری سزا کو اپنے اوپر لے لیا۔ تاکہ اُس پر اِیمان لا کر مَیں نجات پاؤں۔ مَیں نجات کے لئے اپنا بھروسہ تجھ پر رکھتا /رکھتی ہوں۔ تیری اِس عجیب بخشش اور فضل کے لیے اور ہمیشہ کی زندگی کے اِس انعام کے لئے تیرا شکرہو۔ آمین۔

جو کچھ آپ نے یہاں پر پڑھا ہے کیا اُس کی روشنی میں آپ نے خُداوند یسوع کی پیروی میں چلنے کا فیصلہ کیا ہے؟اگر ایسا ہے تو براہِ مہربانی نیچے دئیے ہوئے اُس بٹن پر کلک کیجئےجس پر لکھا ہوا ہے کہ "آج مَیں نے مسیح کو قبول کرلیا ہے۔"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں خُدا کیساتھ درست تعلق کیسے استوار کروں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries