settings icon
share icon
سوال

ایک مسیحی کو جینیاتی انجینئرنگ کے بارے میں کیا نظریہ رکھنا چاہیے؟

جواب


جس دور میں بائبل قلمبندہوئی اُس وقت چونکہ جینیاتی انجینئرنگ کا تصور موجود نہیں تھا لہذا اس موضوع پر فیصلہ کن حوالہ جات پیش کرنا مشکل ہے ۔ جینیاتی انجینئرنگ کے بارے میں مسیحی نظریے کا تعین کرنےکےلیے ہمیں کچھ اُصولوں کی ایک فہرست تیار کرنے کی ضرورت ہےتاکہ جینیاتی انجینئرنگ کو اُن کے پسِ منظر میں دیکھا جائے ۔ کلوننگ(نامیاتی جسم /مادہ جو غیر جنسی طور پر ایک ہی اصل سے پیدا ہوا ہو) کے بارے میں مسیحی نظریے کی تفصیلات لیے براہ مہربانی "انسانی کلوننگ کے بارے میں مسیحی نظریہ کیا ہے؟ " کا مطالعہ کیجئے ۔

جینیاتی انجینئرنگ کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویشناک عنصر یہ ہے کہ انسان کو اپنی اور دیگر مخلوقات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کو سر انجام دینے کے لیے کس حد تک آزادی حاصل ہے۔ اِس میں کچھ شک نہیں بائبل ہمیں اپنی جسمانی صحت کے بارے میں فکرمند ہونے کی تلقین کرتی ہے ۔ امثال کی کتاب کسی شخص کی صحت کو بحال کرنے یا رکھنے سے متعلق مخصوص سرگرمیوں کا ذکر کرتی ہے ( امثال 12باب 18آیت)۔ پولس رسول بتاتا ہے کہ اپنی بدن کی دیکھ بھال کرنا ہماری خاص ذمہ داری ہے ( افسیوں 5باب 29آیت)۔ وہ اپنے ساتھی تیمتھیس کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کےلیے طبّی اقدام کرے ( 1تیمتھیس 5باب 23آیت)۔ ایمانداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بدن کو درست طور پر استعمال کریں کیونکہ یہ رُوح القدس کا مَقدس ہے ( 1کرنتھیوں 6باب 19 ، 20آیات)۔ ہم جسمانی لحاظ سے ضرورت مند وں کی مدد کرنے کے وسیلہ سے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں (یعقوب 2باب 16آیت)۔ لہذا مسیحی ہونے کے ناطے ہمیں اپنی اور دوسروں کی جسمانی تندرستی کے بارے میں فکر مند رہنا چاہیے ۔

تمام مخلوقات کو انسان کے ماتحت کیا گیا تھا ( پیدایش 1باب 28آیت؛ 2باب 15-20آیات) مگر بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارے گناہ کی وجہ سے تمام مخلوقات شدید متاثر ہوئی تھیں ( پیدایش 3باب 17-19آیات؛ رومیوں 8باب 19-21آیات) اور گناہ کے اثرات سے نجات پانے کی اُمید کرتی ہیں ۔ لہذا یہ نتیجہ اخذ کرنا ممکن ہے کہ نگہبانوں کی حیثیت سے انسانوں پر یہ فرض ہے کہ وہ گناہ کی لعنت کے اثرات کو " درست" کرنے کے لیے کسی بھی طرح کے ممکنہ ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے چیزوں کو بہتر حالت میں لانے کی کوشش کریں ۔ اس لیے اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مخلوقات کی بہتری کے لیے کسی بھی طرح کی سائنسی ترقی کو استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ تاہم اس بہتر ی کے حصول کی خاطر جینیاتی انجینئرنگ کے استعمال سے متعلق تشویشناک خدشات موجود ہیں۔

‌أ. ایک خدشہ یہ ہے جو کردارہمیں خُدا کی مخلوقات کے مختار کے طور پر دیا گیا ہے جینیاتی انجینئرنگ اِس مختاری کے عمل میں ایسا کردار ادا کرے گی جو مناسب نہیں ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ تمام چیز یں خدا نے اپنے لیے بنائی ہیں (کلسیوں 1باب 16آیت)۔ خدا نے تمام جانداروں کواُنکی خاص "جنس" کے موافق اپنی نسل بڑھانے کےلیے بنایا تھا ( پیدایش1باب 11-25آیات)۔ جینیات میں ضرورت سے زیادہ چھیڑ چھاڑ ( نسلوں میں تبدیلی) کرنا چیزوں میں ایسی تبدیلی کا باعث ہو سکتا ہے جس کا حق صرف اور صرف اُس نمونہ ساز ( خدا )کے پاس ہے ۔

‌ب. جینیاتی انجینئرنگ کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ مخلوق کی بحالی کے لیے خدا کے منصوبے کو نا کام بناتی ہے ۔ جیسا کہ پہلے ہی بیان کیا گیا ہے کہ مخلوق پیدایش 3باب میں درج واقعات ( خدا کے منصوبے کے خلاف انسان کی بغاوت) سے متاثر ہوئی تھی ۔ اس وجہ سے دنیا میں موت داخل ہو ئی اور انسان اور باقی مخلوق کی جینیاتی تشکیل سازی میں ایسی تبدیلی کا باعث بنی کہ وہ مرنے لگے ۔ کچھ مثالوں میں جینیاتی انجینئرنگ کو گناہ کے اُس نتیجے یعنی " لعنت" کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ۔ خدا نے فرمایا ہے کہ اس لعنت کا علاج یعنی یسوع مسیح کے وسیلہ سے کفارہ اُس کے پاس ہے جس کے بارے میں رومیوں 8باب اور 1کرنتھیوں 15باب بیان کیا گیا ہے ۔ مخلوقات اُس نئے پن کی اُمید کر رہی ہے جو خدا کے اُس وعدے کی تکمیل کےساتھ وابستہ ہے جو اُ س نے چیزوں کو اُن کی اصل سے بھی بہتر حالت میں بحال کرنے کے لیے کیا ہے ۔ اس عمل کے مقابلے میں " حد سے زیادہ آگے نکل جانا" لوگوں کی بحالی کےلیے مسیح پربھروسہ کرنے کی ذمہ داری سے متصادم ہو سکتا ہے ( فلپیوں 3باب 21آیت)۔

‌ج. ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ جینیاتی انجینئرنگ خدا کی طرف سے زندگی کے مقرر کردہ عمل میں مداخلت کر سکتی ہے ۔ کلام ِ مقدس کے عام مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ زندگی کے عمل کےلیے خدا کا ایک خاص منصوبہ ہے ۔ مثال کے طور پر 139زبور میں زبور نویس بیان کرتا ہے کہ اُسکے اور اُسکے خالق کے درمیان باہمی رفاقت اُس کی ماں کے پیٹ سے ہی تھی۔ کیا خدا کے منصوبے کے بغیر زندگی پیدا کرنے کےلیے جینیاتی چھیڑ چھاڑ کا عمل خدا کی ذات کے شعور کی حامل رُوح کی نشوونما کے عمل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے ؟ کیا جسمانی زندگی کے عمل میں دخل اندازی کرنا رُوحانی زندگی کے امکانات کو متاثر کرسکتا ہے ؟ رومیوں 5باب 12 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ چونکہ آدم نے گناہ کیا تھا لہذا تمام انسانیت گناہ آلودہ ہے ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں گناہ آلودہ فطرت کا نسل در نسل منتقلی کا عمل شامل تھا اور اس طرح سب گنہگار ہیں (رومیوں 3باب 23آیت)۔ پولس رسول آدم کی طرف سے ملنے والے موروثی گناہ پر فتح یابی کے وسیلہ سے ابدیت کی اُمید کی وضاحت کرتا ہے ۔ اگرآدم میں موجود سبھی ( اُس کی نسل ہونے کے ناطے ) مرتے ہیں اور مسیح اُن لوگوں کے لیے موا ء جو اس حالت میں تھے تو کیا آدم کی نسل کے علاوہ کوئی اور" نسل " نجات یافتہ ہو سکتی تھی ؟ (1کرنتھیوں 15باب 22، 23آیات)۔

‌د. ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ جینیاتی انجینئرنگ میں ترقی کے لیے بے خوف تحقیق اور کھوج خدا کے خلاف بغاوت سےبھر پور ہوسکتی ہے ۔ پیدایش 11باب 1-9آیات واضح کرتی ہیں کہ جب مخلوق خود کو خالق سے بالا تر ٹھہرانے کی کوشش کرتی ہے تو کیا ہوتا ہے ۔ پیدایش 11باب کے لوگ متحد تھے مگر وہ خدا کے تابع نہیں تھے ۔ اس وجہ سے خدا نے اُن کی ترقی کے عمل کو رو ک دیا تھا ۔ خدا یقیناً جان گیا تھا کہ لوگ جس سمیت میں بڑھے جا رہے ہیں اس میں خطرات شامل ہیں ۔ ایسا ہی انتباہ ہمیں رومیوں 1باب 18-32آیات میں ملتا ہے ۔ خدا یہاں اُن لوگوں کے بارےمیں بیان کرتا ہے جو تخلیق میں اِس قدر محو ہو گئے ( کہ وہ خالق کی بجائے مخلوق کی عبادت کرنے لگے ) اور اِس وجہ سے خود اپنی تباہی کی حد تک چلے گئے۔ خدشہ یہ ہے کہ جینیاتی انجینئرنگ ایسے محرکات اور بالآخر اس طرح کے نتائج کو فروغ دے سکتی ہے ۔

یہ ایسے سوالات اور معاملات ہیں جن کے لیے فی الحا ل ہمارے پاس کوئی جوابات موجود نہیں ہیں مگر یہ حقیقی خدشات ہیں اور جینیاتی انجینئرنگ کے نظریے کو اپنانے کی کوشش کرنے والے مسیحیوں کو اِن کے بارےمیں بڑی احتیاط سے غور و خوص کرنا چاہیے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ایک مسیحی کو جینیاتی انجینئرنگ کے بارے میں کیا نظریہ رکھنا چاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries