عام مکاشفہ اور خاص مکاشفہ کیا ہے؟


سوال: عام مکاشفہ اور خاص مکاشفہ کیا ہے؟

جواب:
خُدا نے اپنے آپ کو انسان پر ظاہر کرنے کے لئے دو طریقوں کا استعمال کیا جنہیں عام مکاشفہ اور خاص مکاشفہ کہا جاتا ہے۔ عام مکاشفہ عام سچائیوں کو پیش کرتا ہے جو فطرت کے ذریعے سے خُدا کے بارے میں معلوم ہو سکتی ہیں۔ خاص مکاشفہ کو خاص حقائق سے منسوب کیا جاتا ہے جو مافوق الفطرت طریقے سے خُدا کے بارے میں معلوم ہو سکتے ہیں۔

عام مکاشفہ کے بارے میں، زبور 19:1-4 بیان کرتی ہے، "آسمان خُدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اُسکی دستکاری دِکھاتی ہے۔ دن سے دن بات کرتا ہے اور رات کو رات حکمت سکھاتی ہے۔ نہ بولنا ہے اور نہ کلام۔ نہ اُنکی آواز سُنائی دیتی ہے۔ اُنکا سُر ساری زمین پر اور اُنکا کلام دُنیا کی اِنتہا تک پہنچا ہے۔ اُس نے آفتاب کے لئے اُن میں خیمہ لگایا ہے"۔ اِس حوالے کے مطابق، کائنات کا مشاہدہ کرتے ہوئے خُدا کا وجود اور اُس کی قدرت واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ تخلیق کی ترتیب، پیچیدگی، اور حیرت انگیزی ایک قادر مطلق اور شاندار خالق کے وجود کی بات کرتی ہے۔

عام مکاشفہ رومیوں 1:20 میں بھی سکھایا گیا ہے، "کیونکہ اُسکی اَن دیکھی صِفتین یعنی اُس کی ازلی قُدرت اور الُوہیت دُنیا کی پیدایش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ اُنکو کچھ عُذر باقی نہیں"۔ زبور 19کی طرح رومیوں 1:20 سکھاتی ہے کہ خُدا کی ازلی قدرت اور الہٰی فطرت بنائی گئی چیزوں سے "واضح طور پر دیکھی " اور "سمجھی" جا سکتی ہے، اور اِن حقائق کو مسترد کرنے کا کوئی عُذر باقی نہیں ہے۔ اِن حوالوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے شاید عام مکاشفہ کی کارآمد تعریف ہو گی، "تمام لوگوں کے لئے، ہر وقت، اور تمام مقامات پر خُدا کا مکاشفہ ثابت کرتا ہے کہ خُدا موجود ہے، اور وہ ذہین ، قادرِ مطلق، اور اعلیٰ وارفع ذات ہے"۔

خاص مکاشفہ سے مراد ہے کہ خُدا نے معجزانہ ذرائع کے وسیلہ سے اپنے آپ کیسے ظاہر کیا۔ خاص مکاشفہ میں خُدا کے ظہورات، خواب، رویا، خُدا کا تحریری کلام، اور سب سے اہم یسوع مسیح شامل ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ خُدا بہت دفعہ جسمانی شکل میں ظاہر ہوا (پیدائش 3:8، 18:1؛ خروج 3:1-4، 34:5-7)۔ بائبل یہ بھی بیان کرتی ہے کہ خُدا خوابوں (پیدائش 28:12، 37:5؛ 1سلاطین 3:5؛ دانی ایل 2) اور رویا (پیدائش 15:1؛ حزقی ایل 8:3-4؛ دانی ایل 7؛ 2 کرنتھیوں 12:1-7) کے ذریعے انسانوں کے ساتھ ہم کلام ہوا۔

خُدا کے اظہار میں بنیادی اہمیت اُس کے کلام بائبل کی ہے جو خاص مکاشفہ کی ایک شکل بھی ہے۔ خُدا نے معجزانہ طور پر بائبل کے مصنفین کی رہنمائی کی تاکہ وہ اپنے اندازِ تحریر اور شخصیات کو استعمال کرتے ہوئے خُدا کے کلام کو انسانوں کے لئے درُستگی کے ساتھ قلمبند کر سکیں۔ خُدا کا کلام زندہ اور موثر ہے (عبرانیوں 4:12)۔ خُدا کا کلام الہامی، فائدہ مند، اور کافی ہے (2 کرنتھیوں 3:16-17)۔ خُدا نے اپنے بارے میں جِس سچائی کا اِرادہ کیا اُسے لکھوایا کیونکہ وہ زُبانی روایات کی غلطیوں اور ناقابلِ اعتمادی سے واقف تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ انسانوں کے خوابوں اور رویات کو بھی غلط سمجھا جا سکتا ہے۔ خُدا نے اپنے بارے میں ہر اُس بات کو ظاہر کرنے کا اِرادہ کیا جس کے جاننے کی انسان کو ضرورت تھی ، اور جس کی وہ توقع کرتا ہے، وہ سب خُدا نے بائبل میں ظاہر کر دی ہیں۔

خاص مکاشفہ کی حتمی شکل یسوع مسیح کی شخصیت ہے۔ خُدا انسان بن گیا (یوحنا 1:1، 14)۔ عبرانیوں 1:1-3 اِس کا بہترین خلاصہ کرتی ہے، "اگلے زمانہ میں خُدا نے باپ دادا سے حصّہ بہ حصّہ اور طرح بہ طرح نبیوں کی معرفت کلام کر کے۔ اِس زمانہ کے آخر میں ہم سے بیٹے کی معرفت کلام کیا جِسے اُس نے سب چیزوں کا وارث ٹھہرایا اور جِس کے وسیلہ سے اُس نے عالم بھی پیدا کئے۔ وہ اُس کے جلال کا پرتَو اور اُس کی ذات کا نقش ہو کر سب چیزوں کو اپنی قُدرت کے کلام سے سنبھالتا ہے۔ وہ گناہوں کو دھو کر عالمِ بالا پر کِبریا کی دہنی طرف جا بیٹھا"۔ خُدا ہمارے مشابہہ ہونے، ہمارے لئے ایک نمونہ بننے، اور خاص طور پر اپنے آپ کو پست کرتے ہوئے صلیبی موت کے وسیلہ ہمارے لئے نجات فراہم کرنے کے لئے یسوع مسیح کی شخصیت میں انسان بن گیا (فلِپیوں 2:6-8)۔ یسوع مسیح خُدا کی طرف سے آخری "خاص مکاشفہ" ہے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
عام مکاشفہ اور خاص مکاشفہ کیا ہے؟