settings icon
share icon
سوال

عالمِ اَرواح/جہنم کے دروازے کیا ہیں؟

جواب


جہنم کے دروازوں کا اُردو ترجمہ "عالمِ اَرواح کے دروازے" کیا گیا ہے۔ "عالمِ اَرواح کے دروازوں" یا "جہنم کے دروازوں کا ذکر پوری بائبل میں صرف ایک بار متی 16باب18 آیت کے اندر کیا گیا ہے۔ اِس حوالے میں خُداوند یسوع کلیسیا کی تعمیر کی بات کر رہا ہے:"اور مَیں بھی تجھ سے کہتا ہُوں کہ تُو پطر س ہے اور مَیں اِس پتّھرپر اپنی کلیسیا بناؤں گا اور عالَمِ ارواح کے دَروازے اُس پر غالِب نہ آئیں گے " (متی 16باب18 آیت)۔

اُس وقت تک خُداوند یسوع نے ابھی اپنی کلیسیا کو قائم نہیں کیا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نئے عہد نامے کے اندر یہ لفظ کلیسیا کا پہلا ذکر ملتا ہے۔ کلیسیا لفظ جیسا کہ خُداوند یسوع نے استعمال کیا یونانی لفظ ایکلیزیا ہے جس کے معنی ہیں "بلائے ہوئے" یا "جماعت" ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ کلیسیا جس کا حوالہ خُداوند یسوع اپنی کلیسیا کے طور پر دے رہا ہے لوگوں کی ایک جماعت ہے جسے مسیح کی خوشخبری کے وسیلے سے دُنیا کے اندر سے بلایا گیا ہے۔

بائبلی علماء اِن الفاظ "اور عالمِ اَرواح کے دروازے اُس پر غالب نہ آئیں گے" کے اصل معنی پر بحث کرتے ہیں۔ اِن الفاظ کے مفہوم کی ایک بہتر تشریح درجِ ذیل ہے۔ قدیم دور میں شہروں کو فصیل دار بنایا جاتا تھا اور لڑائیوں اور جنگوں کے دوران اُن شہروں کے دروازے ہی وہ پہلی جگہ ہوتے تھے جہاں سے دشمن اُن شہروں پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ شہر کی حفاظت کا تعین اُس کے دروازوں کی مضبوطی یا طاقت سے کیا جاتا تھا۔

چنانچہ "عالمِ ارواح کے دروازوں" یا "جہنم کے دروازوں" سے مُراد جہنم یا عالمِ ارواح کی طاقت ہے۔ عالمِ ارواح کے لیے استعمال کیا جانے والا لفظ Hades دراصل ایک دیوتا کا نام تھا جواُس دور کی غیر قوموں کے عقیدے کے مطابق مُردوں کےعالم جسے "مُردوں کا گھر" کہا جاتا تھا کی صدارت کرتا تھا۔ اُس نے اِس جگہ کو مقرر کیا تھا کہ ہر شخص جس کی زندگی ختم ہوتی تھی چاہے وہ کسی بھی طرح کے اخلاقی کردار سے تعلق رکھتا ہو، وہ وہاں جاتا تھا۔ نئے عہد نامے کے دور میں Hades کو مر جانے والے لوگوں کے عالم کے طور پر جانا جاتا ہےاور اِس آیت میں جہنم یا عالمِ ارواح کو ایک زبردست شہر کے طور پر پیش کیاگیا ہے جس کے دروازے اُس کی طاقت کا اظہار کرتے ہیں۔

خُداوند یسوع یہاں پر اپنی آنے والی موت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگرچہ اُسے مصلوب کر کے دفن کیا جاتا ہے لیکن وہ مُردو ں میں سے زندہ ہوکر اپنی کلیسیا کو تعمیر کرتا ہے۔ خُداوند یسوع اِس حقیقت پر زور دے رہا ہے کہ موت کی طاقت اُسے اپنے ماتحت نہیں رکھ سکتی۔ نہ صرف عالمِ ارواح یا جہنم کی طاقت کے باوجود کلیسیا تعمیر کی جائے گی بلکہ اِن طاقتوں کےباوجود کلیسیا پروان بھی چڑھے گی۔ کلیسیا کبھی ناکام نہیں ہوگی۔ اگرچہ نسل در نسل انسان موت کی طاقت کے سامنے جھک جائیں گے لیکن پھر بھی اگلی نسلیں کلیسیا کو دوام بخشنے کے لیے پیدا ہونگی۔ اور یہ سلسلہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک وہ اِس زمین پر اپنے مشن اور مقصد کو پورا نہ کر لے جیسا کہ خُداوند یسوع نےارشادِ اعظم میں فرمایا ہے:" آسمان اور زمین کا کُل اِختیار مجھے دِیا گیا ہے۔پس تم جا کر سب قَوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کوباپ اور بیٹے اور رُوحُ القدس کے نام سے بپتسمہ دو۔اور اُن کو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا مَیں نے تم کو حکم دِیا اور دیکھو مَیں دُنیا کے آخِر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں" (متی 28باب18-20 آیات)۔

یہ بات بالکل واضح ہے کہ خُداوند یسوع یہ اعلان کر رہا تھا کہ موت کے پاس خُدا کے لوگوں کو اپنا اسیر بنا کر رکھنے کی کوئی طاقت نہیں ہے۔ اِس کےدروازے اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ وہ غالب آ سکیں اور کلیسیا کو قید کر سکیں۔ خُداوند نے موت کو فتح کر لیا ہے (رومیوں 8باب2 آیت؛ اعمال 2باب24 آیت)۔ اور چونکہ " مَوت کا پھر اُس پر اِختیار نہیں ہونے کا " (رومیوں 6باب9 آیت)، اِس لیے موت کا اُن پر بھی اختیار نہیں ہونے کا جو اُس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔

شیطان موت کی طاقت رکھتا ہے، اور وہ ہمیشہ ہی خُداوند یسوع مسیح کی کلیسیا کو تباہ کرنے کے لیے اُس طاقت کو استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن ہمارے پاس خُداوند یسوع کا یہ وعد ہے کہ کلیسیا یعنی "بلائے ہوئے"غالب آئیں گے: " تھوڑی دیر باقی ہے کہ دُنیا مجھے پھر نہ دیکھے گی مگر تم مجھے دیکھتے رہو گے ۔ چونکہ مَیں جیتا ہُوں تم بھی جیتے رہو گے " (یوحنا 14باب19 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

عالمِ اَرواح/جہنم کے دروازے کیا ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries