گیپ تھیوری کیا ہے؟ کیا پیدائش پہلے باب کی پہلی اور دوسری آیت کے درمیان کوئی واقعہ سرزرد ہوا تھا؟


سوال: گیپ تھیوری کیا ہے؟ کیا پیدائش پہلے باب کی پہلی اور دوسری آیت کے درمیان کوئی واقعہ سرزرد ہوا تھا؟

جواب:
پیدائش پہلے باب کی پہلی اور دوسری آیت بیان کرتی ہے، "خُدا نے اِبتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ اور زمین ویران اور سُنسان تھی اور گہراؤ کے اُوپر اندھیرا تھا اور خُدا کی رُوح پانی کی سطح پر جُنبش کرتی تھی"۔ گیپ تھیوری ایک خیال ہے کہ خُدا نےتمام جانوروں کے ساتھ، جن میں مہیب سُوسمار (ڈایناسور) اور دیگر جاندار شامل ہیں جن کو ہم صرف دقیانُوسی ریکارڈ (فوسل ریکارڈ)سے ہی جانتے ہیں ایک مکمل طور پر تفاعلی(فُلی فنکشنل) زمین کو پیدا کیا تھا۔مزید یہ نظریہ بیان کرتا ہے کہ پھر زمین کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لئے کوئی واقعہ ، زیادہ ممکن ہے کہ شیطان کا زمین پر گرائے جانے کا واقعہ سرزرد ہوا، جِس کے نتیجہ میں زمین ویران اور سُنسان ہو گئی۔ اِس پر، خُدا نے زمین کو اُسکی بہشتی شکل میں دوبارہ تخلیق کرتے ہوئے تخلیق کا سارا کام دوبارہ شروع کیا جِس کی مزید وضاحت پیدائش کی کتاب میں کی گئی ہے۔ گیپ تھیوری کو جو کہ الہیٰ نظریہ ارتقاکے عقیدہ(تھی اِسٹِک ایوالیوشن)، اور ڈے۔ ایج۔تھیوری سے مختلف ہے، نیست سے ہست پرانی زمین کا تخلیقی عقیدہ (اولڈ ۔ارتھ۔کرِی ایشن ازم)، نیست سےہست کا تخلیقی شگاف کا عقیدہ(گیپ۔ کرِی ایشن ازم)، اور کھنڈرات کی تعمیرِ نُو کا عقیدہ (رُون۔ری کنسٹرکشن۔ تھیوری) بھی کہا جاتا ہے۔

نیست سے ہست نو عمر زمین کا تخلیقی نظریہ (ینگ۔ارتھ۔کرِی ایشن ازم) میں، پیدائش پہلے باب کی پہلی آیت کو عبرانی کہانی بیان کرنے کی شکل میں پہلے مکمل باب کے خلاصہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ خُدا نے آسمان وزمین کو پیدا کیا۔ پھر دوسری آیت مرحلہ وار عمل کی تفصیلی ناکامی کو شروع کرتی ہے جِس کا خلاصہ پہلی آیت کرتی ہے۔ تاہم، یہ بیان کہ "زمین ویران اور سُنسان تھی، [اور] گہراؤ کے اُوپر اندھیرا تھا" (پیدائش پہلا باب دوسری آیت) اُلجھن کا باعث ہو سکتا ہے۔ یہ خیال کہ خُدا نے زمین کو ویران اور سُنسان پیدا کیا بعض قدامت پسند مفسرین کے لئے پریشان کُن مسلہ ہے، اور یہ مسلہ اُن کو گیپ تھیوری، یا ایک پُرانی زمین کے نقطہ نظر (اولڈ۔ایج۔پرسپیکٹِو) پر لے آتا ہے۔

گیپ تھیوری کے قدامت پسند حامیوں کے مطابق، پیدائش پہلے باب کی پہلی آیت خُدا کی ہر طرح سے کامل ابتدائی تخلیق کو بیان کرتی ہے۔ پھر پہلی اور دوسری آیات کے درمیان شیطان نے آسمان پر بغاوت کر دی اور اُسے نکال دیا گیا۔شیطان کے گناہ نے ابتدائی تخلیق کو "تباہ" کر دیا، یعنی اُس کی بغاوت زمین کی تباہی اور حتمی موت کا سبب بنی، اور زمین کو "ویران اور سُنسان" کی حالت تک لے آئی ، اور "تعمیرِ نو" کے لئے تیار کر دیا گیا۔ وقت کی لمبائی میں شامل "خلا(گیپ)" کا سائز کو بیان نہیں کیا گیا، لیکن یہ لاکھوں کروڑوں سالوں تک جاری رہا ہو گا۔

یقیناً شیطان آدم کے گناہ میں گرنےسے پہلے زمین پر گرایا گیا ہو گا، ورنہ باغ میں آدم کی آزمائش نہ ہوتی۔ نیست سے ہست نو عمر زمین کے تخلیقی عقیدہ کو ماننے والے (ینگ۔ارتھ۔کرِی ایشن اِسٹ) کہتے ہیں کہ شیطان پیدائش پہلے باب کی آیت 31 کے بعد کسی وقت گرِا یا گیا تھا۔ نیست سے ہست (گیپ) کے تخلیقی عقیدہ کے ماننے والوں (گیپ کرِی ایشن اِسٹ) کا کہنا ہے کہ شیطان کو پیدائش پہلے باب کی پہلی اور دوسری آیت کے درمیان گرایا گیا تھا۔

گیپ تھیوری کی ایک مشکل یہ ہے کہ یہ مطالبہ کرتی ہے کہ آدم کے گناہ میں گرنے سے پہلے تخلیق کو تباہی اور موت کا سامنا کرنا پڑا۔ رومیوں باب 5 آیت 12 فرماتی ہے، "پس جِس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دُنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یُوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِس لئے کہ سب نے گناہ کِیا"۔ گیپ تھیوری دو دُنیاؤں کا اعلان کرتے ہوئے اِس آیت کی مخالفت کرتی ہے۔ شیطان کا گناہ ابتدائی تخلیق کے لئے موت لایا،یہ جیسی بھی تھی، اور آدم کا گناہ دوبارہ تخلیق ہونے والی انسانوں کی دُنیا میں موت لایا۔ آدم کے گناہ کے سبب سے بُرائی ہماری دُنیا میں داخل ہوئی اور انسانوں کا عالم لعنتی ٹھہرا۔ لیکن بغاوت انسانوں کے عالم سے باہر (روحانی عالم میں) پہلے ہی وجود رکھتی تھی، کیونکہ شیطان اور اُسکے فرشتوں کو پہلے ہی گرا دیا گیا تھا (یسعیاہ باب 14 آیات 12 تا14؛ حزقی ایل باب 28 آیات 12 تا 18)۔ گناہ انسانوں کے عالم میں داخل نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ انسان اِس کا انتخاب نہ کرتا۔ اور شیطان نے سانپ کے ذریعے انسان کو اِس کا انتخاب کرنے کے لئے کامیابی سے آزمایا ۔

گیپ تھیوری کے اعتراضات میں یہ خیال شامل ہے کہ اگر پیدائش پہلے باب کی پہلی اور دوسری آیت کے درمیان کوئی اہم واقعہ سرزرد ہوا تھا، تو خُدا ہمیں جہالت میں قیاس آرائی کے لئے چھوڑنے کی بجائے ہمیں اِس کے بارے میں بتا دیتا۔ اِس کے علاوہ، پیدائش پہلے باب کی 31آیت فرماتی ہے کہ خُدا نے اپنی تخلیق کے بارے میں اعلان کیا کہ "بہت اچھا ہے"، یہ ایک ایسا بیان ہے جس کا مقابلہ اِس نظریہ کے ساتھ کرنا مشکل ہے کہ شیطان کے "گیپ" میں گرنے کی وجہ سے بُرائی پہلے سے دُنیا میں موجود تھی۔

لفظی چھ دن کے تخلیقی ہفتہ کو مانتے ہوئے گیپ تھیوری کو ماننا ناممکن ہے، گیپ تھیوری نظریہ ارتقا کے سچ ہونے کا مطالبہ نہیں کرتا، کیونکہ وقفہ (گیپ) پیدائش پہلے باب کی تیسری آیت میں مذکور پہلے دن کے واقعات سے پہلے آتا ہے۔ اور اِس وجہ سے بعض قدامت پسند مفسرین گیپ تھیوری پر یقین رکھتے ہیں، اگرچہ اِس کی قبولیت سی۔آئی۔سکوفیلڈ، اور جے۔ورنن۔مکگی کے دنوں سے کم ہو گئی ہے۔

تاہم،بہت سے لوگ جو گیپ تھیوری کے حامی ہیں پیدائش کی کتاب کے ساتھ پُرانی دُنیا ، ارتقائی نظریات کو ملانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے یہ ایک بناوٹی مصالحت ہے۔ پیدائش پہلے باب کا سادہ مطالعہ پہلی اور دوسری آیت کے درمیان ایک لمبے وقت کا اشارہ بالکل نہیں کرتا۔ پیدائش پہلے باب کی پہلی آیت ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا نے ابتدا میں زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ پیدائش پہلے باب کی دوسری آیت ہمیں بتاتی ہے کہ جب اُس نے پہلی بار زمین کو پیدا کیا، تو یہ ویران اور سُنسان تھی، اور گہراؤ کے اُوپر اندھیرا تھا، یہ ابھی نامکمل اور غیر آباد تھی۔ پیدائش پہلے باب کا بقیہ حصہ بیان کرتا ہے کہ خُدا نے کیسے ویران، سُنسان، اور تاریک زمین کو زندگی، خوبصورتی، اور اچھائی کے ساتھ بھرتے ہوئے مکمل کیا۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
گیپ تھیوری کیا ہے؟ کیا پیدائش پہلے باب کی پہلی اور دوسری آیت کے درمیان کوئی واقعہ سرزرد ہوا تھا؟