settings icon
share icon
سوال

بنیاد پرستی کیا ہے؟

جواب


بنیاد پرستی کی اصطلاح کسی بھی مذہب کے اندر اُس رویے کے طور پر بیان کی جا سکتی ہے جس کے تحت اُس مذہب کے پیروکار مذہب کے بنیادی اصولوں پر سختی کیساتھ کاربند ہونا چاہتے ہوں۔ اِس مضمون میں بنیاد پرستی پر جو بات کی گئی ہے وہ دراصل کلیسیا کے اندر اُس تحریک کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مسیحی ایمان کے بنیادی یا مرکزی عقائد پر سختی کیساتھ کاربند رہنے کا تقاضا کرتی ہے۔ موجودہ دور میں لفظ بنیاد پرست کو اکثر توہین آمیز انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔

بنیاد پرست تحریک کی جڑیں پرنسٹن تھیولوجیکل سیمنری میں پیوست ہیں کیونکہ اس ادارے سے فارغ التحصیل افراد کے ساتھ اس کا گہراتعلق ہے۔ چرچ کے دو دولت مند عام لوگوں نے مغربی دنیا کے 97 قدامت پسند کلیسیائی رہنماؤں کو مسیحی عقائد کے بنیادی اصولوں پر 12 جلدیں لکھنے کا کام دیا۔ اس کے بعد انہوں نے ان تحریروں کو شائع کیا اورکلیسیائی قیادت میں شامل خُدام اور دیگر افراد میں تین لاکھ سے زائد جلدیں مفت تقسیم کیں۔ ان کتابوں کا عنوان The Fundamentals تھا اور وہ آج بھی دو جلدوں کے سیٹ کے طور پر کتابی شکل میں موجود ہیں۔

بنیاد پرستی کی تحریک یا نظریے کو انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں قدامت پسند مسیحیوں یعنی جان نیلسن ڈاربی، ڈیوائٹ ایل۔ موڈی، بی۔بی۔ وارفیلڈ، بلی سنڈے اور دیگر لوگوں نے باضابطہ تشکیل دیا، جو کہ اس بات کی بدولت فکر مند تھے کہ جدیدیت کی وجہ سے اخلاقی اقدار ختم ہو رہی ہیں-جدیدیت کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ انسان (نہ کہ خُدا ) اپنے ماحول کو تخلیق کرتے، بہتر بناتے اور اُس کو نئی شکل دیتے ہیں اور اِس کے لیے وہ سائنسی علوم ، ٹیکنالوجی اور عملی تجربات کا سہارا لیتے ہیں۔ جدیدیت کے اثر و رسوخ سے لڑنے کے علاوہ کلیسیا جرمن کی اعلیٰ تنقیدی تحریک سے بھی نبرد آزما تھی جس نے کلامِ مُقدس کی لاخطائیت سے انکار کر دیا تھا۔

بنیاد پرستی مسیحی عقیدے کے پانچ بنیادی اصولوں پر مشتمل ہے، اگرچہ اِس تحریک کی پیروی کرنے کے لیے اِس کے اندر اور بہت کچھ پایا جاتا ہے۔

‌أ. بائبل لغوی لحاظ سے خُدا کا سچا کلام ہے۔ اِس اصول کے ساتھ یہ بات جُڑی ہوئی ہے کہ بائبل لاخطا کلام ہے، اِس میں کسی طرح کی کوئی غلطی نہیں ہے اور اِس کے اندر کسی طرح کا تضاد بھی نہیں پایا جاتا۔

‌ب. مسیح کی کنواری سے پیدایش اور اُس کی الوہیت۔ بنیاد پرست یہ ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع مسیح کی پیدایش کنواری مریم سے ہوئی تھی اور وہ رُوح القدس کی قدرت سے حاملہ ہوئی تھی، پس اِس وجہ سے یسوع مسیح خُدا کا بیٹا تھا اور ہے اور وہ کامل انسان اور کامل خُدا ہے۔

‌ج. مسیح کا گناہگار انسانوں کے لیے صلیب پر کفارہ۔ بنیاد پرست یہ تعلیم دیتے ہیں کہ نجات صرف اور صرف خُدا کے فضل کے وسیلہ سے حاصل کی جا سکتی ہے اور اِس کے لیے ہر انسان کا اِس بات پر ایمان رکھنا ضروری ہے کہ یسوع نے تمام انسانوں کے گناہوں کے لیے صلیب پر اپنی جان دی تھی۔

‌د. مسیح کا جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنا۔ مصلوب ہونے کے تیسرے دن یسوع اپنی قبر میں سے جی اُٹھا تھا اور اِس وقت وہ خُدا باپ کی دہنی طرف بیٹھا ہوا ہے ۔

‌ه. کلامِ مُقدس میں بیان کردہ یسوع مسیح کی طرف سے کئے جانے والے معجزات حقیقی تھے، اور یسوع اپنی ہزار سالہ بادشاہی سے پہلے اِس زمین پر واپس آئے گا۔

بنیاد پرستوں کے نظریے کے دیگر نکات یہ ہیں کہ موسیٰ نے بائبل کی پہلی پانچ کتابیں تحریر کی تھیں اور یہ کہ کلیسیا اخیر زمانے میں آنے والی مصیبت سے پہلے اُٹھا لی جائے گی ۔ زیادہ تر بنیاد پرست ادواریت کے نظریے کو ماننے والے ہیں۔

بنیاد پرست تحریک نے اکثر سچائی کے لئے ایک مخصوص عسکریت پسندی کو قبول کیا ہے اور اس کی وجہ سے کچھ لڑائیاں بھی ہوئیں۔ بہت سے نئے فرقے اور رفاقتی گروہ ظاہر ہوئے کیونکہ بہت سارے لوگوں نے عقائدی طور پر درست ہونےکے لیے اور عقائد کے تحفظ کی خاطر اپنی اپنی کلیسیاؤں کو خیرباد کہہ دیا۔ بنیاد پرستی کی تحریک کی ایک واضح خصوصیت یہ رہی ہے کہ اِس کے حامی اپنے آپ کو سچائی کے سرپرست کے طور پر دیکھتے ہیں اور عام طور پر دوسروں کی طرف سے پیش کردہ بائبلی تشریحات کو بھی نہیں مانتے۔ جس وقت بنیاد پرستی کاآغاز ہوا اُس وقت دنیا لبرل ازم، جدیدیت اور ڈاروّن ازم کو اپنا رہی تھی اور کلیسیا پر مختلف جھوٹے اُستادوں کی طرف سے حملوں کی بھرمار تھی۔ بنیاد پرستی بائبلی تعلیم کے نقصان کے خلاف ایک رَدعمل تھا۔

اس تحریک کو 1925 میں لیجنڈری اسکوپس کے مقدمے کی لبرل پریس کوریج نے شدید دھچکا لگایا تھا۔ اگرچہ بنیاد پرستوں نے یہ مقدمہ جیت لیا تھا لیکن عوامی سطح پر اِن کا مذاق اڑایا گیا۔ اس کے بعد بنیاد پرستی کی اِس تحریک میں پھوٹ پڑنا شروع کر دی اوراُس کے پیروکاروں نے ایک بار پھر متحد ہونے کی کوششیں کرنا شروع کر دیں۔امریکہ میں مسیحیوں کے حقوق کے لیے سب سے نمایاں اوربلند آواز اٹھانے والا گروپ کرسچن رائٹ ہے۔ اِس گروپ میں خود کو بنیاد پرست ظاہر کرنے والے لوگ مذہبی گروہوں کے مقابلے میں سیاسی تحریکوں میں زیادہ ملوث ہیں۔ 1990 کی دہائی تک کرسچن کولیشن اینڈ فیملی ریسرچ کونسل جیسے گروپوں نے سیاسی اور ثقافتی مسائل پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ آج بنیاد پرستی جنوبی بیپٹسٹ کنونشن جیسے مختلف بشارتی گروہوں میں زندہ ہے۔ ان گروہوں نے اجتماعی طور پر دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پیروکاروں کی تعداد 30 ملین افراد سے زائد ہے۔

تمام تحریکوں کی طرح بنیاد پرستی کی اِس تحریک نے بھی بہت ساری کامیابیاں اور ناکامیاں دیکھی ہیں۔ سب سے بڑی ناکامی تو یہ ہو سکتی ہے کہ اُنہوں نے اپنے مخالفین کو یہ اجازت دی کہ وہ اُن کی اِس تحریک کی وضاحت اپنے انداز سے کریں اور بتائیں کہ بنیاد پرست ہونے کا اصل مطلب کیا ہے۔ اس کے نتیجے کے طور پر آج بہت سے لوگ بنیاد پرستوں کو بنیاد پرست، سانپوں سے نمٹنے والے انتہا پسند وں کے طور پر دیکھتے ہیں جو ریاستی مذہب قائم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے عقائد باقی سارے لوگوں پر تھوپنا چاہتے ہیں۔ یہ بات سچ نہیں ہے بلکہ سچائی سے بہت دور ہے۔ بنیاد پرست کلام کی سچائی کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں اور مسیحی عقیدے کا دفاع کرنا چاہتے ہیں جو "ایک ہی بار مُقدسوں کو سونپا گیا تھا" (یہوداہ 3آیت)۔

کلیسیا آج مابعد جدیدیت ، سیکولر ثقافت کیساتھ جدوجہد کر رہی ہے اور اسے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو مسیح کی خوشخبری کی منادی کرنے سے شرمندہ نہ ہوں۔ سچائی کبھی بھی تبدیل نہیں ہوتی اور بنیادی اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔ یہ اصول وہ بنیاد ہیں جس پرمسیحیت قائم ہے اور جیسا کہ یسوع نے سکھایا ہے کہ جو گھر چٹان پر تعمیر ہوتا ہے وہ ہر طرح کے موسمی حالات کا سامنا کر لے گا (متی 7باب24-25آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بنیاد پرستی کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries