settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


ایک طرح سے انجیل کا پیغام بہت سادہ ہے اور اُسے آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے:" یسوع نے اپنی جان دی اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا تاکہ ہم نجات پا سکیں۔" انجیل کے بنیادی حقائق کو سمجھنا بالکل آسان ہے۔ لیکن ایک اور حوالے سے انجیل کا پیغام گہری ترین الٰہی سچائیوں میں سے ایک ہے جسے انسانوں پر ظاہر کیا گیا ہے: یسوع نے اپنی جان دی اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا تاکہ ہم نجات پا سکیں۔ اُن حقائق کے مضمرات اور اُن کے اندر خُدا کی ذات کے بارے میں علمِ الٰہیات اِس قدر گہرا ہے کہ کسی بھی عالمِ الٰہیات کو اُسے سمجھنے کے لیے ساری عمر غور و خوص کرنے کی ضرورت ہے۔ پس جب نجات کی بات آتی ہے توہمیں کیسا گہرا ادراک درکار ہے جسے رکھنے کی بدولت ایمان حقیقت میں "سچا ایمان" کہلا سکتا ہے؟

اِس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نجات بخش ایمان کو ایک خاص حد تک سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ادراک انجیل کے پیغام کی منادی کے وسیلے سے ممکن ہوتا ہے(متی 28باب18-20آیات) جس کے ساتھ کسی بھی شخص کے دِل کے اندر رُوح القدس کا کام کرنا شامل ہوتا ہے (اعمال 16باب 14 آیت)۔ پولس اُس عمل کو بیان کرتا ہے جو انجیل کے پیغام کو پورے طور پر سمجھنے کی طرف ہماری رہنمائی کرتا ہے : منادی سننے کی طرف رہنمائی کرتی ہے، سُننا ایمان لانے کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ایمان لانا خُدا سے دُعا کرنے کی طرف رہنمائی کرتا ہے(رومیوں 10باب14آیت)۔ سُننا سمجھ کو پیدا کرتا ہے، اگر منادی کی سمجھ نہیں آئی تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ سُنی ہی نہیں گئی۔

منادی کا وہ حصہ جسے سمجھنا ضروری ہے وہ انجیل ہے۔ کلیسیا کی ابتدا ہی سے رسولوں کے پیغام میں سب سے زیادہ زور یسوع کی موت اور اُس کے جی اُٹھنے پر دیا گیا ہے (اعمال 2باب23-24آیات)۔ یہ پیغام سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ "مسیح کِتابِ مُقدّس کے مطابِق ہمارےگناہوں کےلئے مُؤا۔اور دفن ہُوا اور تیسرے دِن کِتابِ مُقدّس کے مُطابِق جی اُٹھا۔اور کیفا کو اور اُس کے بعد اُن بارہ کو دِکھائی دِیا " (1 کرنتھیوں 15باب3-4 آیات)۔ اِس پیغام کے اندر انجیل کے بنیادی ترین عناصر پائے جاتے ہیں جن کا مرکز یسوع مسیح کی ذات اور اُس کا کام ہے: یسوع نے ہمارے گناہوں کی خاطر اپنی جان دی، اور پھر وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ کوئی بھی شخص اِس سچائی کی سمجھ حاصل کئے اور پھر اِس پر بھروسہ کئے بغیر نجات نہیں پا سکتا۔

انجیل کے پیغام کا ہر ایک پہلو ہی اہم ہے۔ اگر آپ کو انجیل کے عناصر کی پوری سمجھ نہیں ہے تو پھر آپ کا ایمان کمزور ہوتا ہے: اگر ہم یہ ہی نہیں سمجھتے کہ یسوع خُدا کا کامل بیٹا ہے تو پھر نجات کے تعلق سے اُس کی موت کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ اگرہم یسوع کی موت اور اُس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے تو پھر منطقی طور پر ہم اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کو بھی نہیں سمجھ سکیں گے۔ اگر ہم اُس کی موت کی وجہ (ہمارے گناہوں ) کو ہی نہیں سمجھتے تو پھر ہم خود کو بے قصور خیال کریں گے اور اُس صورت میں ہمیں ایک نجات دہندہ کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ اگر ہم یہ نہیں سمجھتے کہ یسوع مُردوں میں سے جی اٹھا تھا تو پھر زندہ نجات دہندہ کی حقیقت کو نہیں جان پائیں گے اور اُس صورت میں ہمارا ایمان مُردہ ہوگا (1 کرنتھیوں 15باب17آیت)

بائبل ایسے لوگوں کی مثالیں دیتی ہے جنہوں نے ایک خاص حد تک رُوحانی علم حاصل کیا تھا لیکن اِس کے باوجود وہ غیر نجات یافتہ ہی تھے۔ پھر جب اُنہیں انجیل کے پیغام کی اصل سمجھ آئی تو وہ یسوع پر ایمان لائے اور نئے سرے سے پیدا ہوئے۔ حبشی خوجہ (اعمال 8باب26-39آیات)، کرنیلیس (اعمال 10باب)، اپلوس (اعمال 18باب24-28آیات ) اور افسس کے اندر دس آدمی (اعمال 19باب1-7آیات)۔ اِن سب کا ایک مذہبی پسِ منظر تھا لیکن اُن کی زندگی میں نجات کا لمحہ اُس وقت آیا جب وہ یسوع پر ایمان لائے –اور اِس کے لیے پہلے اُنہیں انجیل کے پیغام کو سننے اور سمجھنے کی ضرورت تھی۔

بہرحال، نجات حاصل کرنے کے لیے انجیل کی ہر ایک تفصیل کو مکمل طور پر جاننا ضروری نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جلالی حالت میں پہنچنے سے پہلے انجیل کے ہر ایک پہلو کی ساری تفصیلات کو جاننا ممکن ہی نہیں ہے۔ ہم "اُس محبت کو جو جاننے سے باہر ہے " سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں(افسیوں 3 باب 19 آیت)۔ لیکن ہم کبھی بھی اُس کے فضل کے خزانوں کو پورے طور پر نہیں جا سکیں گے : " واہ! خُدا کی دَولت اور حِکمت اور عِلم کیا ہی عمیق ہے! اُس کے فیصلے کس قدر اِدراک سے پرے اوراُس کی راہیں کیا ہی بے نِشان ہیں! " (رومیوں 11باب33آیت)۔

مثال کے طور پر ہمیں نجات پانے کے لیے یسوع کی بشریت اور الوہیت کے درمیان اتحاد کو مکمل طور پر سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نجات یافتہ ہونے کے لیے کفارے کی تعریف اور مفہوم کو پورے طور پر بیان کرنے کے قابل ہونا ضروری نہیں ہے۔ اور نہ ہی آسمان پر جانے کے لیے راستباز ٹھہرائے جانے، نجات پانے اور مسلسل تقدیس کے عمل کی ساری تفصیلات کو پورے طور پر جاننا ضروری ہے۔ اِن چیزوں کے بارےمیں علم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور کلامِ مُقدس کےمطالعے کی بدولت حاصل ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ نجات پاتے وقت اِن سبھی باتوں کی پوری سمجھ حاصل ہو جائے۔ اِس بارے میں کوئی بھی شخص وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ جب صلیب پر لٹکے ہوئے ڈاکو نے یسوع سے کہا کہ " اَے یسُو ع جب تُو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے یاد کرنا۔ " (لوقا 23باب42آیت) تو اُس وقت وہ علم النجات کے بار ےمیں پوری طرح ہر بات کی سمجھ رکھتا تھا۔

انجیل کا پیغام ایک طرف تو اِس قدر سادہ ہے کہ ایک بچّہ بھی اُسے سمجھ سکتا ہے۔ ایک وقت پر یسوع نے جب یہ کہا کہ نجات چھوٹے بچّوں کے لیے بھی دستیاب ہے تو اُس نے اِس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا کہ بچّے بھی انجیل کے پیغام کو سمجھ سکتے ہیں " بچّوں کو میرے پاس آنے دو ۔ اُن کو منع نہ کرو کیونکہ خُدا کی بادشاہی اَیسوں ہی کی ہے " (لوقا 10باب14آیت)۔ خُداوند کا شکر ہو کہ یسوع مسیح کی انجیل کو چھوٹے بچّے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ مزید برآں وہ لوگ جو ذہنی طور پر انجیل کے پیغام کو نہیں سمجھ سکتے اُن کے حوالے سے ہمارا ایمان ہے کہ خُدا اُن کی طرف اپنا خاص فضل بڑھاتا ہے۔

پس آسمان پر جانے کے لیے ضروری ہے کہ "ہم یسوع مسیح پر ایمان لائیں" (اعمال 16باب31آیت)۔ اور ایمان یہ ہے کہ ہم خُدا کے ممسوح پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے ہمارے گناہوں کی خاطر ہماری جگہ پر اپنی جان دی اور پھر تیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ وہ سبھی جو یسوع کے نام پر ایمان لاتے ہیں اُنہیں خُدا "اپنے فرزند ہونے کا حق بخشتا ہے " (یوحنا 1باب12آیت)۔ انجیل کا پیغام ایسا ہی سادہ – اور ایسا ہی عمیق ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries