settings icon
share icon
سوال

ہم مسیح میں حقیقی آزادی کا تجربہ کیسے کر سکتے ہیں ؟

جواب


ہرکوئی آزادی چاہتا ہے۔ خاص طور پرمغرب میں آزادی سب سے بڑی قدر یا خصوصیت خیا ل کی جاتی ہے اور اِس کی تلاش اُن تمام لوگوں کی طرف سے کی جاتی ہے جو خود کو مظلوم خیال کرتے ہیں۔ لیکن مسیح میں آزادی کسی طرح کی سیاسی یا معاشی آزادی کے مترادف نہیں ہےدرحقیقت تاریخ کے کچھ سخت ترین مظالم کےشکار لوگوں کو مسیح میں مکمل آزادی حاصل رہی ہے ۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ رُوحانی طور پر بات کی جائے تو کوئی بھی آزاد نہیں ہے۔ رومیوں 6 باب میں پولس رسول بیان کرتا ہے کہ ہم سب غلام ہیں۔ ہم یا تو گناہ کے غلام ہیں یا پھر راستبازی کے غلام ہیں۔ جو گناہ کے غلام ہیں وہ بذاتِ خود اپنے آپ کو اِس غلامی سے آزاد نہیں کر سکتے، لیکن ایک بار جب ہم مسیح کی صلیب کے ذریعے گناہ کی سزا اور طاقت سے آزاد ہو جاتے ہیں تو ہم ایک اور قسم کے غلام بن جاتے ہیں اور اِس غلامی میں ہمیں مکمل طور پر امن اور حقیقی آزادی ملتی ہے۔

اگرچہ لگتا ہے کہ یہ ایک تضاد ہے، مگر مسیح میں حقیقی آزادی واحد اُن لوگوں کو ملتی ہے جو اُس کے غلام ہیں۔ غلامی کا مطلب تنزلی، مشکلات اور عدم مساوات بن چکا ہے۔ لیکن بائبلی نمونے کے اندر مسیح کے غلام کے پاس حقیقی آزادی ہے ۔وہ حقیقی خوشی اور امن کا تجربہ کرتا ہے جو کہ واحد حقیقی آزادی کی پیداوار ہے جسے ہم صرف مسیح کے وسیلے اِس زندگی میں جان سکتے ہیں۔ ‏نئے عہد نامے کے اندر لفظ ڈولوس Doulos کا استعمال قریباً124 دفعہ کیا گیا ہےجس کا مطلب ہے "کوئی ایسا شخص جو کسی دوسرے کی ماتحتی میں ہو" یا پھر" زر خرید غلام" جس کی اپنی کوئی بھی مرضی نہیں ہوتی ، جس کے اپنے ملکیت کے حقوق نہیں ہوتے۔ بد قسمتی سے زیادہ تر جدید بائبلی تراجم بشمول کنگ جیمز ورژن اکثر Doulos لفظ کا ترجمہ "نوکر " یا "پیدایشی نوکر" کے طور پر کرتے ہیں ۔ لیکن ایک نوکر تو وہ ہے جو اُجرت پر کام کرتا ہے اور جس نے اپنے کام کی وجہ سے اپنے مالک سے کچھ نہ کچھ لینا ہوتا ہے کیونکہ وہ اُس مالک کو اپنی سروس/خدمت فراہم کرتا ہے۔ دوسری طرف ایک مسیحی کے پاس مسیح کو اُس معافی کے لیے جو اُس نےاُسے عطا کی ہے ادائیگی کے طور پر پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں اور وہ مکمل طور پر اپنے اُس مالک کا غلام ہے جس نے اُسے اپنے صلیب پر بہائے ہوئے خون کے وسیلے سے خرید لیا ہے۔ مسیحی خون کے وسیلے سے خریدے گئے ہیں اور وہ اپنے مالک خُدا اور اپنے نجات دہندہ خُداوند یسوع مسیح کی ملکیت ہیں۔ اُس نے ہمیں کرائے پر نہیں لیا، بلکہ ہمارا اُس کے ساتھ رشتہ ہے (رومیوں 8باب9 آیت؛ 1 کرنتھیوں 7باب4 آیت)۔ پس "غلام" حقیقت میں ڈولوس/Doulos لفظ کا واحد درست ترجمہ ہے۔

مسیح کے غلام ظلموں کا شکار ہونے کے برعکس حقیقی طو ر پر آزاد ہیں۔ ہم خُدا کے اُس بیٹے کے وسیلے سے آزاد کئے گئے ہیں جس نے کہا ہے کہ " پس اگر بیٹا تمہیں آزاد کرے گا تو تم واقعی آزاد ہو گے " (یوحنا 8باب36 آیت)۔ اب مسیحی حقیقت میں پولس رسول کے ساتھ یہ کہ سکتے ہیں کہ "کیونکہ زِندگی کے رُوح کی شرِیعت نے مسیح یسو ع میں مجھے گُناہ اور مَوت کی شرِیعت سے آزاد کر دِیا" (رومیوں 8باب2 آیت)۔ اب ہم سچائی کو جانتے ہیں اور وہ سچائی ہمیں آزاد کرتی ہے (یوحنا8باب32 آیت)۔ حیران کن طور پر مسیح کے غلام بننے کے وسیلے سے ہم خُدائے بزرگ و برتر کے فرزند اور اُس کی میراث کے وارث بھی بن گئے ہیں (گلتیوں 4باب1-7 آیات)۔ وارث ہونے کے ناطے ہم میراث –ابدی زندگی – کے حصہ دار بن چکے ہیں جو خُدا اپنے تمام بچّوں کو عطا کرتا ہے۔ یہ ہمیں زمینی طور پر ملنے والے کسی بھی بڑے خزانے یا وراثت سے بڑا اعزاز ہے۔ جبکہ گناہ کا غلام رہنے والے اپنی رُوحانی ہلاکت اور جہنم میں ابدیت گزارنے کی وراثت پائیں گے۔

تو پھر آج بھی بہت سارے مسیحی ایسے کیوں رہتے ہیں جسے کہ وہ ابھی بھی غلامی میں ہیں؟ایک تو ہم اکثر اپنے مالک کے خلاف بغاوت کرتے ہیں اور اپنی پرانی زندگیوں کے ساتھ چمٹے رہنے کی وجہ سے اُس کی مکمل تابعداری کرنے کا انکار کرتے ہیں۔ ہم اُن گناہوں کو پکڑتے رہتے ہیں جن گناہوں نے کسی دور میں ہمیں شیطان کا غلام بنایا ہوتا تھا اور ہمیں اُس کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔ کیونکہ ہماری نئی فطرت اب بھی ہماری اُس فطرت کے ساتھ رہتی ہے جو ہمارے بدن کی فطرت ہے، اِس لیے ہم اب بھی گناہ کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ پولس افسیوں کی کلیسیا سے کہتا ہے کہ نئی اِنسانِیّت کو پہنو جو خُدا کے مطابِق سچائی کی راست بازی اور پاکیزگی میں پَیدا کی گئی ہے۔ جھوٹ بولنا چھوڑ کر ہر ایک شخص اپنے پڑوسی سے سچ بولے ۔ چوری کرنے والا پھرچوری نہ کرے بلکہ اچھّا پیشہ اِختیار کر کے ہاتھوں سے محنت کرے ۔ ہر طرح کی تلخ مزاجی اور قہر اور غُصّہ اور شور و غُل اور بدگوئی ہر قسم کی بدخواہی سمیت تم سے دُور کی جائیں۔اور ایک دُوسرے پر مہربان اور نرم دِل ہو ۔ (افسیوں 4باب22-32 آیات) ۔ ہمیں گناہ کی غلامی سے آزاد کر دیا گیا ہے، لیکن ہم اکثر اُن زنجیروں کو دوبارہ پہن لیتے ہیں کیونکہ ہمیں اپنی پرانی فطرت کے ساتھ محبت ہے۔

مزید برآں ہمیں اکثر اِس بات کا احساس نہیں رہتا کہ ہم مسیح کے ساتھ مصلوب ہو چکے ہیں(گلتیوں 2باب20 آیت) اور ہم ایک بالکل نئی مخلوق کے طور پر نئے سرے سے پیدا ہو چکے ہیں (2 کرنتھیوں 5باب17 آیت)۔ مسیحی زندگی جسم کے اعتبار سے مرنا اور "نئی زندگی میں چلنے "کے لیے جِلائے جانا ہے (رومیوں 6باب4 آیت)۔ اور یہ نئی زندگی اُس کے بارے میں خیالات پر مبنی ہے جس نے ہمیں نجات بخشی ہے نہ کہ اُس مُردہ بدن کے بارےمیں خیالات کے متعلق جس کو صلیب پر کھینچ کر مسیح کے ساتھ مصلوب کر دیا گیا ہے۔ جب ہم مسلسل طور پر اپنے بارے میں سوچ میں رہتے ہیں اور اپنے بدن کو اُن گناہوں میں ملوث کرتے ہیں جن سے ہمیں آزاد کیا جا چکا ہے تو ہم دراصل ایک لاش کو اُٹھائے پھر رہے ہوتے ہیں جو سڑن اور موت سے بھری ہوئی ہے۔ اُس مُردہ بدن کو مکمل طور پر دفن کرنے کا واحد طریقہ رُوح القدس کی طاقت ہے جو کہ طاقت کا اصل سرچشمہ ہے۔ ہم مسلسل طور پر کلامِ مُقدس پر نشوو نما پا کر اپنی اُس نئی فطرت کو مضبوط کرتے ہیں اور دُعا کے وسیلے سے ہم وہ قوت حاصل کرتے ہیں جوہمیں بدن کی اُن پرانی خواہشوں کی طرف لوٹ جانے سے بچنے میں مدد کرتی ہے۔ پھر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ مسیح کے غلام کے طور پر ہماری نئی حیثیت ہی وہ واحد حقیقی آزادی ہے ۔ پھر ہم اُسی کی طاقت اور قوت حاصل کرنے کے لیے التجا کریں گے تاکہ "گناہ ہمارے فانی بدن میں بادشاہی نہ کرے کہ ہم اُس کی خواہشوں کے تابع رہیں" (رومیوں 6باب12 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہم مسیح میں حقیقی آزادی کا تجربہ کیسے کر سکتے ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries