settings icon
share icon
سوال

حرامکاری اور زنا میں کیا فرق ہے ؟

جواب


اِس مضمون میں ہم دو مختلف انگریزی اصطلاحات کے متعلق سیکھیں گے۔ ایک اصطلاح ہے fornication اور دوسری اصطلاح ہے adultery۔ اُردو زبان میں اِن دونوں ہی کے معنی زنا / حرامکاری لیے جاتے ہیں۔ ہم انگریزی اصطلاحات کی تعریفوں کی روشنی میں اِن کے درمیان فرق کے بارے میں سیکھیں گے۔ جدید لغت فورنیکیشنfornication یعنی حرامکاری کی تعریف کچھ یوں کرتی ہے کہ (غیر شادی شُدہ دو لوگوں کا بغیر ازدواجی رشے کے باہمی رضا مندی سے مباشرت کرنا حرامکاری ہے) اور اِسی طرح زنا یعنی adultery کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ(کسی شادی شُدہ فرد کا کسی دوسر ے شخص کی بیوی یا شوہر کے ساتھ باہمی رضا مندی سے مباشرت کرنا زنا ہے۔) یہ تعریفیں اِن اعمال اور اصطلاحات کے معنی سادہ طور پر بیان کرتی ہیں، لیکن بائبل مُقدس ہمیں اِس حوالے سے گہری بصیرت عطا کرتی ہے کہ خُدا اِن دونوں گناہوں کو کس طرح سے دیکھتا ہے۔ بائبل مُقدس میں اِن دونوں کے بالکل لغوی معنی لیے جاتے ہیں لیکن اِس کے ساتھ ساتھ دونوں ہی کے مجازی معنی بطورِ بُت پرستی بھی لیے جاتے ہیں۔

پرانے عہد نامے میں ہر طرح کے جنسی گناہ کی موسوی شریعت اور یہودیوں کی روایت کے مطابق مکمل ممانعت تھی۔ بہرحال وہ عبرانی لفظ جس کا ترجمہ "حرامکاری/فورنیکیشن" کیا گیا ہے اِسے پرانے عہد نامے کے اندر بُت پرستی کے سیاق و سباق میں بھی دیکھا جاتا تھا اور اِسے رُوحانی حرامکاری یا زنا کاری کہا گیا ہے ۔ 2 تواریخ 21باب10-14آیات کے اندر خُدا نے یہورام بادشاہ کو مختلف طرح کی آفتوں اور بیماریوں کا نشانہ بنایا کیونکہ اُس نے خُداوند کے لوگوں کو بُت پرستی پر لگایا تھا۔ اُس نے "یہوداہ کے باشندوں کو زنا کار بنایا (11آیت) وہ " اسرائیل کے بادشاہوں کی راہ پر چلا اور یہوداہ اور یروشلیم کے باشندوں کو زناکار بنایا جیسا اخی اب کے خاندان نے کیا تھا۔" (13آیت)۔ اخی اب بادشاہ ایزبل کا شوہر تھا جو کہ شہوت انگیز ی اور نفس پرستی کی طرف لے کر جانے والے دیوتا بعل کی پجارن تھی ۔ اُس نے اسرائیل قوم کو بہت بڑے پیمانے پر بُتوں کی پرستش کی طرف لگا دیا تھا۔ حزقی ایل 16باب میں حزقی ایل نبی تفصیل کے ساتھ خُدا کے لوگوں کی تاریخ کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ کیسے وہ خُدا سے پھر گئے اور اُنہو ں نے دوسرے دیوتاؤں کے ساتھ بدکاری کی۔ کلامِ مُقدس میں لفظ فورنیکیشن /حرامکاری/زنا کاری بہت زیادہ دفعہ بُت پرستی کے لیے بھی استعمال ہوا ہے اور اِس باب کے اندر ہم کئی دفعہ اِس کا استعمال ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ جونہی اسرائیلی اپنے ارد گرد کی اقوام کے اندر اپنی حکمت، دولت اور طاقت کی وجہ سے مشہور ہوئے، یہ سب چیزیں اُن کے لیے ایک پھندے جیسی تھیں بالکل ویسے جیسے کسی عورت کی خوبصورتی اُس کے اپنے لیے ایک پھندے کی مانند ہوتی ہے۔ اردگرد کی قوموں نے اسرائیل کی بڑھائی کرنی شروع کر دی، اُن کے ساتھ ملنا جلنا شروع کر دیا اور پھر وہ اِس طرح سے باہمی طور پر مل گئے کہ اسرائیلیوں نے اپنے ہمسایوں کی بُت پرست سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ لفظ زنا کاری یا حرامکاری کا بہت دفعہ استعمال غیر اقوام کی "پرستش" کے معنی میں کیا گیا ہے کیونکہ بہت ساری غیر اقوام کی عبادت اور پرستش میں اجتماعی حرامکاری جیسی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہوتی تھیں۔ بعل اور دیگر جھوٹے دیوتاؤں کی پرستش میں بڑے پیمانے پر مندروں میں پائی جانے والی فاحشائیں بہت عام تھیں۔ اِن مذاہب کی پرستش و عبادت کے دوران ہر طرح کے جنسی گناہ کی نہ صرف اجازت تھی بلکہ ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی تاکہ پرستش کرنے والے دیوتاؤں سے برکات بالخصوص اپنے گلّوں اور فصلوں کی پیداوار میں بڑھوتری حاصل کر سکیں۔

نئے عہد نامے میں استعمال ہونے والا لفظ "فورنیکیشن /حرامکاری" یونانی کے لفظ Porneia سے ماخوذ ہے جس کے معنی زنا/حرامکاری اور زنائے محرم (خونی رشتے داری کے ساتھ زنا کرنا) ہے۔ یونانی لفظ Porneia ایک اور یونانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں ناجائز شہوت، جس میں ہم جنس پرستی بھی شامل ہے۔ اناجیل اور خطوط کے اندر اِس لفظ کا استعمال ہمیشہ ہی جنسی گناہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، بہرحال مکاشفہ کی کتاب میں اِس لفظ کا استعمال بُت پرستی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ خُداوند یسوع مسیح ایشیائے کوچک کی دو کلیسیاؤں کو اِسی وجہ سے تنبیہ کرتا ہے کہ وہ بُت پرستی کی حرامکاری میں مبتلا تھیں (مکاشفہ 2باب14، 20آیات)۔ مزید برآں وہ بُت پرستی پر منبی جھوٹے مذہب کو "بڑی کسبی" کا نام دیتا ہے جس کے ساتھ زمین کے بادشاہوں نے حرام کاری کی تھی اور زمین کے رہنے والے اُس کی حرامکاری کی مَے سے متوالے ہو گئے تھے (مکاشفہ 17باب 1-2آیات)۔

زنا دوسری طرف ہمیشہ ہی شادی شُدہ لوگوں کی طرف سے اپنے جیون ساتھی کے علاوہ کسی اور کے ساتھ مباشرت کرنے کی صورت میں جنسی گناہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور اِس لفظ کا استعمال پرانے عہد نامے میں لغوی معنوں میں بھی ہوا ہے اور مجازی معنوں میں بھی۔ جس عبرانی لفظ کا ترجمہ زنا یا حرامکاری ہوا ہے اُس کے لغوی معنی ہیں "شادی کے وعدے کو توڑنا"۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ خُدا اپنے لوگوں کی طرف سے کی جانے والی بیوفائی کو اور دیگر دیوتاؤں کی پرستش کو حرامکاری سے تشبیہ دیتا ہے۔یہودی لوگوں کو خُدا کی دلہن خیال کیا جاتا تھا، پس جب وہ دیگر اقوام کے بُتوں کی طرف راغب ہو گئے تو اُنہیں ایک زناکار بیوی سے تشبیہ دی گئی ۔ پرانا عہد نامہ اکثر بُت پرستی کرنے والی اسرائیل قوم کو ایک آوارہ عورت سے تشبیہ دیتا ہے جو دیگر دیوتاؤں کے ساتھ بدکاری کرنے کے لیے چلی گئی تھی (خروج 34باب15-16آیات؛ احبار 17 باب 7آیت؛ حزقی ایل 6باب9آیت)۔ مزید برآں ہوسیع کی کتاب اسرائیل اور خُدا کے باہمی رشتے کو ہوسیع نبی اور اُس کی بیوفا اور بدکار بیوی جمر کے باہمی تعلق کیساتھ تشبیہ دیتی ہے۔ اُن کی شادی اسرائیل کے گناہ اور بیوفائی کی تصویر تھی جس نے مختلف اوقات میں اپنے سچے خاوند (خُدا) کو چھوڑ دیا اور دوسری اقوام کے دیوتاؤں کے ساتھ رُوحانی حرامکاری کی مرتکب ہوئی۔

نئے عہد نامے کےاندر زنا اور حرامکاری کے لیے دو یونانی لفظوں کا استعمال کیا گیا ہے اور دونوں ہی غالباً ہمیشہ اپنے سیاق و سباق میں شادی شُدہ لوگوں کی زندگی میں جنسی گناہ اور حرامکاری کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ اِس سب میں صرف ایک حوالہ مستثنیٰ ہے جہاں پر تھواتیرہ کی کلیسیا کو اپنے اندر "ایزبل نامی ایک عورت کو رکھنے کے لیے ملامت کی جاتی ہے جو خود کو ایک نبّیہ کہتی ہے"۔ (مکاشفہ 2باب20آیت)۔ یہ عورت اُس کلیسیا کو بے راہ روی اور بُت پرستی جیسی سرگرمیوں کی طرف لے گئی اور ہر وہ انسان جس نے اُس کی جھوٹی تعلیمات کو قبول کر لیا تھا اُس کے حوالے سے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اُس نے اُس عورت کے ساتھ رُوحانی طور پر حرامکاری کی تھی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

حرامکاری اور زنا میں کیا فرق ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries