settings icon
share icon
سوال

کیا بائبل ہمیں ہدایت کرتی ہے کہ ہم معاف کریں اور بھول جائیں؟

جواب


یہ فقرہ "معاف کریں اور بھول جائیں" بائبل کے اندر کہیں پر بھی نہیں ملتا۔ بہرحال بائبل کے اندر ایسی کئی ایک آیات ہیں جو ہمیں یہ حکم دیتی ہیں کہ ہم "ایک دوسرے کو معاف کریں" (مثلاً متی 6باب14آیت اور افسیوں 4باب32 آیت)۔ کوئی بھی ایسا مسیحی جو دوسروں کو معاف کرنے کے لیے تیارنہیں ہوتا اُس کی خُدا کے ساتھ رفاقت میں بہت سارے رکاوٹیں آ جاتی ہیں (متی 6باب15آیت) اور پھر وہ تلخی و کڑواہٹ کی فصل کاٹتے ہوئے اپنا اجر بھی کھو دیتا ہے (عبرانیوں 12باب14-15آیات؛ 2 یوحنا 1باب 8 آیت)۔

معاف کرنا اپنی مرضی سے کیا جانے والا ایک فیصلہ ہے۔ اب جبکہ خُدا ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم معاف کریں تو ایسا کرنے کے لیے اور خُدا کا حکم ماننے کے لیے ہمیں ایک شعوری فیصلہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔عین ممکن ہے کہ آپ کے خلاف جرم کرنے والا شخص معافی کا خواہشمند نہ ہو اور وہ تبدیل بھی نہ ہو سکتا ہو، لیکن اِس سے خُدا کی اِس خواہش کی نفی نہیں ہوتی کہ ہم معاف کرنے والی رُوح کے مالک ہیں (متی 5باب44 آیت)۔ اگر تو مجرم صلح و مفاہمت کی کوشش کرے تو یہ بہت ہی مثالی بات ہوگی، لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو بھی وہ شخص جس کے خلاف جرم ہوا ہو معاف کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

یقینی طور پر ہمارے خلاف جو بھی گناہ ہوتے ہیں اُنہیں صحیح معنوں میں بھولنا نا ممکن ہے۔ ہم واقعات کو چُن چُن کر اپنی یادداشت سے "حذف" نہیں کر سکتے۔ بائبل میں بیان کیا گیا ہے کہ خُدا ہمارے گناہوں کو پھر "یاد" نہیں کرے گا(عبرانیوں 8باب12 آیت)۔ لیکن خُدا اب بھی علیم ِ کل ہے، خُدا اِس بات کو جانتا ہے کہ ہم "سب نے گناہ کیا اور اُس کے جلال سے محروم ہیں" (رومیوں 3باب23 آیت)۔ لیکن معاف کئے جانے کے بعد ہم باضابطہ طور پر (عدالتی طور پر بھی) راستباز قرار دئیے جا چکے ہیں۔ آسمان اب ہمارا ہے، اور اُس کے سامنے ہم ایسے ہیں گویا ہم نے کبھی گناہ نہیں کیا تھا۔ اگر ہم مسیح پر ایمان لانے کے ذریعے اُس کے ہو چکے ہیں تو خُدا ہمارے پرانے گناہو ں کی وجہ سے ہمیں رَد نہیں کرتا (رومیوں 8باب1آیت)۔ اُس لحاظ سے خُدا ہمیں معاف کرتا اورہمارے گناہوں کو بھول جاتا ہے۔

اگر "معاف کرو اور بھول جاؤ" سے کسی شخص کا یہ مطلب ہے کہ "مَیں مسیح کی خاطر اپنے خلاف جرم کرنے والے کو معاف کرنے اور اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کرتا ہوں " تو یہ ایک دانشمندانہ اور خُدا پرستانہ لائحہ عمل ہوگا۔ جہاں تک ممکن ہو ہمیں چاہیے کہ "جو چیزیں پیچھے رہ گئِیں اُن کو بھول کر آگے کی چیزوں کی طرف " بڑھیں (فلپیوں 4باب32 آیت)۔ ہمیں ایک دوسرے کو اُسی طرح سے معاف کرنا چاہیے جیسے "مسیح نے ہمیں معاف کیا ہے" (افسیوں 4باب32 آیت)۔ ہمیں اپنے دِلوں کے اندر کسی کڑوی جڑ کو پھوٹنے نہیں دینا چاہیے (عبرانیوں 12باب15آیت)۔

بہرحال اگر "معاف کرنے اور بھول جانے" سے کسی کا یہ مطلب ہے کہ "مَیں اِس طرح سے عمل کرونگا جیسے کہ گناہ کبھی ہوا ہی نہیں تھا اور ایسے جیسے مَیں اُسے یاد نہیں کرتا" تو اُس صورت میں ہم مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر عصمت دری کا نشانہ بننے والا عصمت دری کرنے والے کو معاف کرنے کا انتخاب کر سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں کہ اُسے اِس طرح سے ظاہر کرنا یا عمل کرنا چاہیے کہ جیسے یہ گناہ کبھی ہوا ہی نہیں تھا۔ اِس صورت میں عصمت دری کرنے والے شخص کے ساتھ اُس صورت میں تنہا وقت گزارنا بہتر نہیں جب اُس نے اپنے گناہ سے توبہ نہ کی ہو،بائبل ایسا کوئی عمل کرنے کی تعلیم نہیں دیتی۔ معاف کرنے میں کسی شخص کے خلاف مزید گناہ یا انتقام کو اپنے دِل میں نہ رکھنا شامل ہے، لیکن معافی اعتماد کرنے سے مختلف ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا دانشمندی ہے اور بعض اوقات تعلقات کی حدود میں تبدیلی لانی پڑے گی۔ " ہوشیار بلا کو دیکھ کرچھپ جاتا ہے لیکن نادان بڑھے چلے جاتے اورنُقصان اُٹھاتے ہیں " (امثال 22باب3 آیت)۔ خُداوند یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ وہ "سانپ کی مانند ہوشیار اور کبوتر کی مانند بھولے " بنیں (متی 10باب16 آیت)۔ ایسے لوگوں کے ساتھ صحبت رکھنے کے تناظر میں جنہوں نے توبہ نہیں کی ہوئی ہمیں "معصوم/گناہ سے بچ کر" (معاف کرنے کے لیے تیار) رہنا چاہیے، لیکن اِس کے ساتھ ہی ساتھ "ہوشیار" (محتاط) بھی رہنا چاہیے۔

مثالی بات یہ ہوگی کہ جرم کرنے والا حقیقی معنوں میں اپنے گناہ سے توبہ کرے اور جس کے خلاف جرم کیا گیا ہے وہ معاف کرے اور بھول جائے۔ بائبل ہمیں سچی توبہ کے بارے میں تعلیم دیتی ہے جس کے نتیجے میں اعمال میں تبدیلی آئے گی (لوقا 3باب8-14 آیات؛ اعمال 3باب19آیت) اور یہ کہ محبت بد گمانی نہیں کرتی (1 کرنتھیوں 13باب5 آیت) اور بہت سارے گناہوں کو ڈھانپ لیتی ہے (1 پطرس 4باب8آیت)۔ بہرحال دِلوں کی تبدیلی خُدا کے ہاتھ میں ہے،اِس لیے جب تک کسی جرم کرنے والے کا دِل حقیقی معنوں میں مافوق الفطرت طریقے سے تبدیل نہیں ہو جاتا ، اُس شخص پر اعتماد کی سطح کو ایک مخصوص جگہ تک محدود کر دینا ہی دانشمندی ہے۔ محتاط رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے معاف نہیں کیا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہم خُدا نہیں اور ہم اُس شخص کے دِل کو نہیں پرکھ سکتے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا بائبل ہمیں ہدایت کرتی ہے کہ ہم معاف کریں اور بھول جائیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries