settings icon
share icon
سوال

جب بائبل بیان کرتی ہے کہ "احمق نے اپنے دل میں کہا ہےکہ کوئی خُدا نہیں " تو اِس سے اُسکی کیا مُراد ہے؟

جواب


اگر ہم 14زبور 1آیت اور 53زبور 1آیت دیکھیں تودونوں حوالہ جات میں درج ہے کہ " احمق نے اپنے دِل میں کہا ہے کہ کوئی خُدا نہیں۔" کچھ لوگ اِن آیات سے مراد لیتے ہیں کہ دہریے احمق یعنی عقل سے خالی ہیں ۔ تاہم وہ عبرانی لفظ جس کا ترجمہ " احمق " کیا گیا ہے اُس کا صرف یہی مطلب نہیں ہے ۔ اس متن میں احمق کےلیے عبرانی لفظ نابال(nabal) کا استعمال ہوا ہے جو اکثر اُس بے دین شخص کی نشاندہی کرتا ہے جسے اخلاقی یا مذہبی سچائی کی کچھ سمجھ حاصل نہیں ہے ۔ اس متن کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ " بے عقل لوگ خدا کو نہیں مانتے " ۔ بلکہ متن کا مفہوم یہ ہے کہ "گنہگار لوگ خدا کو نہیں مانتے "۔ دوسرے الفاظ میں خدا کا انکار کرنا ایک بُری بات ہے اور خدا کی ذات کی تردید کرنا اکثر بُری طرزِ زندگی سے منسلک ہوتا ہے ۔ یہ آیت بے دین لوگوں کی چند اور خصوصیات کا ذکر کرتی ہے : " وہ بگڑ گئے۔ اُنہوں نے نفرت انگیز کام کئے ہیں۔ کوئی نیکوکار نہیں۔" 14زبور بنی نوع انسان کی عالمگیر محرومی کا ایک تجزیہ ہے ۔

بیشتر دہریے بہت ذہین ہوتے ہیں ۔ چنانچہ یہ ذہانت یا اس کی کمی نہیں جو انسان کے خدا پر ایمان سے انکا رکرنے کا باعث بنتی ہے ۔ درحقیقت یہ راستبازی کی کمی ہے جو کسی شخص کے خدا پر ایمان سے انکار کرنے کی جانب رہنمائی کرتی ہے ۔ بہت سے لوگ اُس وقت تک کسی خالق کے تصور پر اعتراض نہیں کرتے جب تک وہ خالق اپنے کام سے کام رکھتا اور اُن کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا ۔ لوگ دراصل ایسے خالق کے تصور کو مسترد کرتے ہیں جو اپنی تخلیق سے اخلاقیات کا تقاضا کرتا ہے ۔ ملامت زدہ ضمیر کے خلاف جدوجہد کرنے کی بجائے کچھ لوگ تو کُلی طور پر خدا کے تصور کا انکارکرتے ہیں ۔ 14زبور 1آیت اس قسم کے شخص کو " احمق" قرار دیتی ہے ۔

14زبور 1آیت بیان کرتی ہے کہ خدا کے وجود کا انکار کرنا عام طور پر بُری طرزِ زندگی بسرکرنے کی خواہش پر مبنی ہوتا ہے ۔ متعد د قابلِ ذکر دہریوں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے ۔ مصنف الڈس ہکسلے جیسے کچھ لوگوں نے کھلے عام اعتراف کیا ہے کہ اخلاقی پابندیوں سے بچنے کی خواہش ان کے لیے بے ایمانی کی ایک ترغیب تھی :

"یہ نہ چاہنے کےلیے کہ دنیا کا کوئی مطلب ہو میرےکچھ اپنے خاص مقاصد تھے ؛ چنانچہ مَیں نے یہ فرض کر لیا تھا کہ یہ بے معنی ہی ہے اوربغیر کسی مشکل کے مَیں اس مفروضے کےلیے تسلی بخش دلائل تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔ وہ فلسفی جسے دنیا میں کوئی معنی نہیں ملتا وہ ایک ایسے مسئلے کےلیے خصوصاً فکر مند نہیں ہوتا جو مکمل طور پر رُوحانی ہو۔ اِس کا تعلق اس بات کی تصدیق کرنے سے بھی ہوتا ہے کہ اس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ وہ جوکچھ کرنا چاہتا ہے اُسے ذاتی طور پر وہ کام کیوں نہیں کرنا چاہیے ۔ میرے لیے اور بلاشبہ میرے زیادہ تر دوستوں کےلیے بے معنویت کا فلسفہ بنیادی طور پر اخلاقیات کے ایک مخصوص نظام سے چھٹکارے کا ایک آلہ تھا ۔ ہم نے اخلاقیات پر اعتراض کیا کیونکہ یہ ہماری جنسی آزادی میں مداخلت کرتی تھی۔ اس نظام کے حامی دعویٰ کرتے ہیں کہ اِس دُنیا اور یہاں کی زندگی کے کچھ خاص معنی /مطلب ہیں – اور وہ اِس دُنیا کو مسیحی معنی دیتے تھے۔ اِن لوگوں کو غلط ثابت کرنے اور اپنی شہوانی بغاوت میں خود کو واجب ٹھہرانے کا انتہائی آسان طریقہ یہ تھا : کہ ہم اس بات کی تردید کر دیتے کہ دنیا کا کوئی مطلب ہے۔ " Aldous Huxley, Ends and Means___

ایک الٰہی ذات پر ایمان رکھنے کے ساتھ اس ذات کے سامنے جوابدہی کا احساس بھی جُڑا ہوا ہے ۔ لہذا اُس ضمیر کی ملامت سے بچنے کےلیے جو خدا کی تخلیق ہے کچھ لوگ خدا کے وجود سے ہی انکار کر دیتے ہیں ۔ وہ خود سے کہتے ہیں کہ " دنیا کا کوئی نگہبان نہیں ہے ۔ قیامت کاکوئی دن نہیں ۔ مَیں اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کر سکتا ہوں "۔ چنانچہ اس طرح ضمیر کی آواز کو زیادہ آسانی سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔

اپنے آپ کو یہ سمجھانے کی کوشش کرنا کہ کوئی خدا نہیں ایک بے وقوفانہ کوشش ہے ۔" احمق نے اپنے دِل میں کہا ہے کہ کوئی خُدا نہیں" اس بات کا اہم نقطہ یہ ہے کہ ایک بے دین اور گناہ آلود دل خدا کا انکار کرے گا ۔ کسی ملحد یا دہریے کی طرف سے کیا جانے والا ایسا انکار ایسے بہت سے شواہد کو مسترد کرتا ہے جس میں اُس کے ضمیر کےساتھ یہ کائنات بھی شامل ہے جس میں وہ رہتا ہے ۔

خدا کے وجود کے بارےمیں شواہد کی کمی درحقیقت وہ اصل وجہ نہیں ہے جس کے باعث ملحدین /دہریے خدا پر اایمان لانے سے انکار کرتے ہیں ۔ اُن کے انکار کی وجہ نہ صرف خدا کی طرف سے مطلوبہ اخلاقی پابندیوں سے آزاد زندگی بسر کرنے کی خواہش ہے بلکہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کے نتیجے میں احساس جرم سے بچنے کی خواہش بھی ہے ۔ " کیونکہ خدا کا غضب اُن آدمیوں کی تمام بے دِینی اور ناراستی پر آسمان سے ظاہر ہوتا ہے جو حق کو ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں۔ کیونکہ جو کچھ خُدا کی نسبت معلوم ہو سکتا ہے وہ اُن کےباطن میں ظاہر ہے۔ اِس لئے کہ خُدا نے اُس کو اُن پر ظاہر کر دِیا۔ کیونکہ اُس کی اَن دیکھی صفتیں یعنی اُس کی ازلی قُدرت اور الُوہیت دُنیا کی پیدایش کے وقت سے بنائی ہُوئی چیزوں کے ذرِیعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ اُن کو کچھ عذر باقی نہیں۔ اِس لیے کہ اگرچہ اُنہوں نے خُدا کو جان تو لِیا مگر اُس کی خُدائی کے لائِق اُس کی تمجید اورشکر گذاری نہ کی بلکہ باطل خیالات میں پڑ گئے اور اُن کے بے سمجھ دِلوں پر اندھیرا چھا گیا۔ وہ اپنے آپ کو دانا جتا کر بیوقوف بن گئے۔ اور غیرفانی خُدا کے جلال کو فانی اِنسان اور پرِندوں اور چوپایوں اورکیڑے مکوڑوں کی صورت میں بدل ڈالا۔ اِس واسطے خُدا نے اُن کے دِلوں کی خواہشوں کے مطابق اُنہیں ناپاکی میں چھوڑ دِیا کہ اُن کے بدن آپس میں بے حُرمت کئے جائیں۔ اِس لئے کہ اُنہوں نے خُدا کی سچّائی کو بدل کر جھوٹ بنا ڈالا اور مخلوقات کی زیادہ پرستش اور عبادت کی بہ نسبت اُس خالق کے جو ابد تک محمود ہے۔ آمین" ( رومیوں 1باب 18-25)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

جب بائبل بیان کرتی ہے کہ "احمق نے اپنے دل میں کہا ہےکہ کوئی خُدا نہیں " تو اِس سے اُسکی کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries