settings icon
share icon
سوال

مَیں مسیح پر اپنی توجہ کیسے مرکوز کر سکتا ہوں ؟

جواب


ہماری توجہ کو اپنی طرف کھینچنے والی انتہائی تیز رفتار دُنیا کی روزانہ کے طور پر پیسنے والی چکی کے اندر پھنسنا، بھٹکنااور زندگی میں اپنے حقیقی مقصد یعنی خُدا کی عبادت اور محبت سے محروم ہونا بہت زیادہ آسان ہے (دیکھیں متی 22باب37 آیت)۔ لیکن پھر بھی ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم اپنی توجہ یسوع مسیح کی ذات پر مرکوز کئے ہوئے اپنی دوڑ دوڑتے جائیں: " پس جب کہ گواہوں کا اَیسا بڑا بادل ہمیں گھیرے ہُوئے ہے تو آؤ ہم بھی ہر ایک بوجھ اور اُس گُناہ کو جو ہمیں آسانی سے اُلجھا لیتا ہے دُور کر کے اُس دَوڑ میں صبرسے دَوڑیں جو ہمیں دَرپیش ہے۔اور اِیمان کے بانی اور کامِل کرنے والے یِسُوع کو تکتے رہیں جس نے اُس خُوشی کے لئے جو اُس کی نظروں کے سامنے تھی شرمندگی کی پروا ہ نہ کر کے صلیب کا دُکھ سہا اور خُدا کے تخت کی د ہنی طرف جا بیٹھا" (عبرانیوں 12باب1-2 آیات)۔ ہم دُنیا کے لالچ کا مقابلہ کیسے کر یں اور اپنی توجہ اُس جگہ پر کیسے مرتکز رکھیں جہاں پر اِسے ہونا چاہیے، یعنی مسیح کی ذات پر؟

توجہ مرکوز کرنے کا مطلب اپنے دھیان کو کسی خاص چیز پر لگانا یا کسی چیز پر غور کرنا ہے۔ اگر ہم اپنی توجہ کو یسوع کی ذات پر مرکوز کرتے ہیں تو اُس صورت میں وہ ہماری توجہ کا مرکز ہے۔ ایسے میں ہم اُسکی ذات اور اُس کے کلام پر اپنی توجہ مرکوز کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ہمارے ذہنوں میں سب سے اوّلین درجہ رکھتا ہے۔ خُداوند یسوع کی ذات کے لیے اِس طرح کی توجہ بالکل موزوں ہے کیونکہ " وُہی بدن یعنی کلیسیا کا سر ہے ۔ وُہی ابتدا ہے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا تاکہ سب باتوں میں اُس کا اَوّل درجہ ہو " (کلسیوں 1باب18 آیت)۔ حقوق کے لحاظ سے اُسے ہی ہماری ساری توجہ کا مرکز ہونا چاہیے۔

‏کلسیوں 4باب1-4 آیات کے اندر بہت کچھ ہے جو ہمیں مسیح پر توجہ مرکوز رکھنے میں مدد دے سکتا ہے: "پس جب تم مسیح کے ساتھ جِلائے گئے تو عالَمِ بالا کی چیزوں کی تلاش میں رہو جہاں مسیح مَوجُود ہے اور خُدا کی د ہنی طرف بیٹھا ہے۔عالَمِ بالا کی چیزوں کے خیال میں رہو نہ کہ زمین پر کی چیزوں کے۔ کیونکہ تم مَر گئے اور تمہاری زِندگی مسیح کے ساتھ خُدا میں پَوشیدہ ہے۔ جب مسیح جو ہماری زِندگی ہے ظاہر کِیا جائے گا تو تم بھی اُس کے ساتھ جلال میں ظاہر کئے جاؤ گے۔ "ہمیں یہ یاد رکھتے ہوئے کہ مسیح طاقت اور جلال کے مقام پر بیٹھا ہے "عالمِ بالا کی چیزوں" کے خیال میں رہنا چاہیے (1 آیت)۔ اِس حکم کی وجہ کو بھی بیان کیا گیا ہے : کیونکہ ہم مسیح کے ساتھ نئی زندگی میں جِلائے گئے ہیں۔ عالمِ بالا کی چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ہمیں شعوری طور پر "زمینی چیزوں" سے اپنی توجہ کو ہٹانا ہوگا (2 آیت) اور اِس کی وجہ یہ دی گئی ہے کہ :ہم اپنی ذات (گناہ) کے اعتبار سے مر گئے تھے اور اب مسیح ہماری زندگی ہے (3 آیت)۔ مسیح پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھنے کے لیے بطورِ یادہانی ہمیں بتایا گیا ہے کہ خُداوند یسوع دوبارہ آ رہا ہےاور جب ہم اُسے دیکھیں گے تو اُس کے جلال کے بارے میں جانیں گے (4 آیت)۔

عبرانیوں 2باب میں اُن چیزوں کی فہرست دی گئی ہے جو مسیح نے ہمارے لیے کی ہیں اور مسلسل طور پر کر رہا ہے: اُس نے ہماری انسانیت کو اپنایا (14 آیت)، وہ شیطان کی طاقت کو تباہ کرتا ہے (14 آیت)، وہ ہمیں آزاد کرتا ہے (15 آیت)، وہ ہمارا"رحمدل اور دیانتدار سردار کاہن" ہے (17 آیت)، اُس نے ہماری خاطر دُکھ اُٹھایا ( 18 آیت)۔ اِس سب کی وجہ سے عبرانیوں 3باب1 آیت میں مرقوم ہے کہ "پس اَے پاک بھائیو ! تم جو آسمانی بُلاوے میں شرِیک ہو ۔ اُس رسُول اور سردار کاہن یسو ع پر غَور کرو جس کا ہم اِقرار کرتے ہیں۔ "

نئی پیدایش کا تجربہ کرنے والے ایک مسیحی ایماندار کے لیے مسیح پر اپنی توجہ مرکوز رکھنے کے کچھ عملی طریقے ذیل میں درج ہیں:

بائبل مُقدس کا مطالعہ کرنے کا عہد کریں ۔ ایک ایماندار جو مستقل طور پر کلامِ مُقدس کا مطالعہ کرتا ہے اُس کے لیے بار بار اپنی توجہ کو مسیح کی ذات پر مرکوز نہ کر پانا ناممکن ہے۔ خُداوند یسوع نے کہا ہے کہ "یہ (کتابِ مُقدس) وہ ہے جو میری گواہی دیتی ہے"(یوحنا 5باب39 آیت؛ مزید دیکھئےلوقا 24باب44 آیت اور عبرانیوں 10باب7آیت)۔ خُدا کے کلام پر توجہ مرکوز کرنا ایسے ہی ہے جیسے خُدا کے بیٹے کو اپنی توجہ کا مرکز بنانا۔

اپنی دُعائیہ زندگی کو ترقی دیں۔ اگر آپ دُعا کرنا سیکھنا چاہتے ہیں تو لوقا 11باب1-13 آیات کے اندر خُداوند یسوع مسیح کی طر ف سے اُس کے شاگردوں کو کی گئی ہدایات کا مطالعہ کیجئے۔ جب آپ اپنے سارے دِن کے دوران خُدا کے ساتھ بات کریں گے تو آپ فطری طور پر یسوع مسیح کی ذات پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے۔ چھوٹی یا بڑی، ہم اپنےخُداوند کے سامنے اپنی ہر طرح کی پریشانیوں کو لیکر آ سکتے ہیں۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ "بلا ناغہ دُعا کرو" (1 تھسلنیکیوں 5باب17 آیت)، اِس کا مطلب ہے کہ ہر وقت دُعائیہ رویہ رکھنا اور دُعائیہ ماحول میں رہنا۔

خُداوند پر اپنے واحد محافظ کے طور پر بھروسہ کریں: " میری آنکھیں ہمیشہ خُداوند کی طرف لگی رہتی ہیں کیونکہ وُہی میرا پاؤں دام سے چُھڑائے گا " (25زبور 15 آیت)۔ ایک بار جب ہمیں اُس رُوحانی خطرے کے بارے میں معلوم ہو جائے جس کا ہمیں ہر روز سامنا ہوتا ہے، تو ہم مسیح پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے جو ہمارا واحد نجات دہندہ ہے، جس اکیلے کے پاس نجات بخش قدرت موجود ہے۔

اپنی ضروریات کے متعلق جانیں اور اِس بات کو تسلیم کر لیں کہ خُدا تمام اچھی چیزوں کا ذریعہ ہے : " دیکھ جس طرح غُلاموں کی آنکھیں اپنے آقا کے ہاتھ کی طرف اور لَونڈی کی آنکھیں اپنی بی بی کے ہاتھ کی طرف لگی رہتی ہیں اُسی طرح ہماری آنکھیں خُداوند اپنے خُدا کی طرف لگی ہیں جب تک وہ ہم پر رحم نہ کرے" (123 زبور 2 آیت)۔دُنیا محبت، خوشی اور سکون کے حصول کے لیے مختلف ذرائع پیش کرتی ہے، لیکن اُن کا مایوس کن ہونا مقرر ہو چکا ہے۔ ایماندار سمجھتا ہے کہ محبت ، خوشی اور سکون (اور بے شمار دیگر نعمتیں )مسیح کے ساتھ اُن کے براہِ راست تعلق کا نتیجہ ہیں (دیکھیں گلتیوں 5باب22-23 آیات)۔

دُنیا کو ویسا ہی دیکھیں جیسی کہ وہ ہے: ایک گناہ سے بھرپور جگہ جس میں شدید کمیاں پائی جاتی ہیں ۔ یہ دُنیا ہمارے سامنے جتنی تاریک ہوگی، مسیح کا نور ہم پر اُسی قدر زیادہ واضح ہوگا۔ ایک اندھیرے کمرے کے اندر روشنی پر توجہ مرکوز کرنا مشکل نہیں ہے۔"اور ہمارے پاس نبیوں کا وہ کلام ہے جو زِیادہ معتبر ٹھہرا اور تم اچھا کرتے ہو جو یہ سمجھ کر اُس پر غور کرتے ہو کہ وہ ایک چراغ ہے جو اندھیری جگہ میں رَوشنی بخشتا ہے جب تک پَو نہ پھٹے اور صُبح کا ستارہ تمہارے دِلوں میں نہ چمکے "(2 پطرس 1باب19 آیت)۔ جو لوگ مسیح پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں وہ دیکھیں گے کہ دُنیا کے بارے میں اُن کا تصور تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے۔ ۔ جیسا کہ ہیلن لیمل اپنے ایک گیت کے اندر کہتی ہے کہ "اپنی نظریں یسوع کی طرف اُٹھائیں، اُس کے حیرت انگیز چہرے کو دیکھیں، تو اُس کے جلال اور فضل کے نور میں، دُنیا کی تمام چیزیں حیرت انگیز طور پر مدھم نظر آنا شروع ہو جائیں گی ۔"

جان بنیان اپنی کتاب The Pilgrim’s Progress کے اندر کہتا ہے کہ مسیحی اور ایک ایمانداربے وقعتی کے میلے میں جاتے ہیں جہاں اُنہیں ہر قسم کی باطل چیزیں پیش کی جاتی ہیں۔ یہ زائرین (ایمان کی راہ کے مسافر) اُن پر شاذونادر ہی نگاہ ڈالتے ہیں –اُنہیں اِن چیزوں کی اتنی پرواہ نہیں کہ وہ اُن پر نظر کریں۔ اگر اُن کے کانوں میں اُن چیزوں کو بیچنے والوں کی پکار پڑتی تو وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالتے اور روتے ہوئے خُدا سے التجا کرتے کہ اِن بے وقعت اور باطل چیزوں کو میری آنکھوں سے دور کر دے، اور پھر وہ اوپر کی طرف دیکھتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کی تجارت اور آمدورفت اوپر آسمان پر ہے (حصہ اوّل ، صفحہ نمبر 86 )۔ کاش کہ ہم بھی باطل چیزوں کے میلے میں اُن زائرین (ایمان کی راہ کے مسافروں )کی طرح آسمان کی طرف اپنی نظریں لگانے کی مشق کریں اور اپنی آنکھیں مسیح، اُسکے جلال اور اُسکی محبت پر مرکوز کریں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں مسیح پر اپنی توجہ کیسے مرکوز کر سکتا ہوں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries