settings icon
share icon
سوال

نوؔح کےدَورمیں آنے والا طوفان کیونکر واجب تھا ؟

جواب


نوؔح کے زمانے میں آنے والا عالمگیر طوفان خُدا کی طرف سے براہِ راست عدالت تھی۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ اُس طوفان کی وجہ سے " ہر جان دار شے جو رُویِ زمین پر تھی مَر مِٹی ۔ کیا اِنسان کیا حَیوان ۔ کیا رینگنے والا جان دار کیا ہوا کا پرِندہ یہ سب کے سب زمین پر سے مَر مِٹے " (پیدایش 7باب23 آیت)۔ آجکل کے دور میں کچھ لوگ اِس طوفان کی کہانی کی وجہ سے ناراض ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ عمل خُدا کی نا انصافی، من مانی یا خُدا کی طرف سے کئے گئے ایک گھٹیا عمل کا ثبوت ہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ بائبل ایک بہت ہی غصیلے اور بد مزاج خُدا کے بارے میں تعلیم دیتی ہے جو اندھا دُھند فیصلے کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اپنی غنڈہ گردی کی وجہ سے ایک ہی پل میں سب بچّوں اور تمام معصوم جاندار وں کو ڈبو دے گا۔

خُدا کے کردار پر ایسے حملے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب سے اِس دُنیا کے اندر گناہگار موجود ہیں ایسے الزامات لگتے ہی چلے آ رہے ہیں کہ خدا ظالم ہے۔ آدم کی طرف سے حوّا اور ایک طرح سے خُدا کی ذات پر الزام لگانے پر ذرا غور کریں۔ جب آدم سے ممنوع پھل کھانے کے حوالے سے پوچھا گیا تو اُس نے کہا کہ " جس عَورت کو تُو نے میرے ساتھ کِیا ہے اُس نے مُجھے اُس درخت کا پھل دِیا اور مَیں نے کھایا۔ " (پیدایش 3باب12 آیت)۔ یعنی اُس کی طرف سے پھل کھانے میں اصل قصور اُس عورت کا اور پھر خُدا کا تھا کیونکہ خُدا نے اُس عورت کو بنایا تھا۔ لیکن خُدا پر الزام لگانے سے آدم کا گناہ کسی طور پرکم نہیں ہوا تھا۔ اور خُدا کو اِس زمین پر گناہ کی بدولت طوفان بھیجنے پر ہماری طرف سے اُسے ظالم کہنے سے ہمارے گناہ بھی کم نہیں ہوتے۔

انسانی تاریخ کے اندر نوح کے طوفان جیسے اور بہت سارے واقعات موجود ہیں۔ خُدا نے اِس حکم کے ساتھ کنعان کے لوگوں کی عدالت کی کہ اُن کا مکمل طور پر صفایا کر دیا جائے (اِستثنا 20باب16-18 آیات)۔ اُس نے بالکل اِسی طرح سے سدوم، عمورہ، نینوہ (ناحوم 1باب 14 ) اور صور کی عدالت کی تھی (حزقی ایل 26باب4 آیت)۔ اور عظیم سفید تخت کے سامنے حتمی عدالت میں ہر ایک دور کے سبھی ناراستوں کو آگ کی جھیل کے اندر پھینکا جائےگا (مکاشفہ 20باب11-15 آیات)۔ بائبل کا بالکل سادہ ترین پیغام یہ ہے کہ خُدا گناہ کی عدالت کرتا ہے، وہ ایسا چاہے کسی حملہ آور فوج، آگ اور گندھک کے ذریعے سے کرے یا پھر کسی عالمگیر طوفان کے ذریعے سے کرے۔

طوفانِ نوح بالکل واجب تھا کیونکہ خُدا نے اُس کا حکم دیا تھا (اور خُدا منصف ہے)۔ " صداقت اور عدل تیرے تخت کی بُنیاد ہیں۔ شفقت اور وفاداری تیرے آگے آگے چلتی ہیں" (89 زبور 14 آیت)۔ خُدا ہمیشہ وہی کچھ کرتا ہے جو درست ہوتا ہے۔ اُس کے سبھی حکم اور اُس کی ہر طرح کی عدالت ہمیشہ ہی انصاف پر مبنی ہوتی ہے۔ اگر اُس نے یہ حکم دیا کہ تمام دُنیا ایک طوفان کے آنے کی وجہ سے ڈوب کر تباہ ہو جائے تو وہ جو کچھ بھی کرتا ہے وہ بالکل واجب ہے، انسانی تشکیک پرست اِس کے حوالے سے جو مرضی کہتے رہیں۔ اِ س میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہم انصاف کی تعریف صرف اُسی طور پر کرتے ہیں جس سے خود ہمیں ہی فائدہ ہوتا ہو۔

طوفانِ نوح بالکل واجب تھا کیونکہ تمام بنی نوع انسان ناراست تھی۔ " اور خُداوند نے دیکھا کہ زمین پر اِنسان کی بدی بُہت بڑھ گئی اور اُس کے دِل کے تصوُّر اور خیال سدا بُرے ہی ہوتے ہیں " (پیدایش 6باب5 آیت)۔ ہم اُس دور کی بدی کا پورے طور پر اندازہ نہیں لگا سکتے۔ ہم نے ایسا کبھی نہیں دیکھا۔ انسان کی بدی بہت ہی زیادہ تھی اور اُس کے دِل کے خیالات ہمیشہ ہی بُرے تھے۔ دُنیا کے اندر بھلائی نہیں تھی؛ ہر ایک انسان مکمل طور پر گناہ کی بدولت بد اطوار ہو چکا تھا۔ اُن کی ذات میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا جس میں بُرائی نہ پائی جاتی ہو۔ نوح کے دور کے لوگ چھپ چھپ کر گناہ کرنے والے نہیں تھے بلکہ وہ مکمل طور پر گناہ میں لتھڑے ہوئے تھے، اور جو کچھ بھی وہ کرتے تھے وہ کراہیت آمیز اور مکروہ تھی۔

بائبل کا متن ہمیں کسی حد تک اُس دور کی بدی کے بارے میں کچھ اشارے فراہم کرتا ہے۔ ایک مسئلہ تو اُس دور کا بے دریغ ظلم و تشدد تھا : " زمین خُدا کے آگے ناراست ہو گئی تھی اور وہ ظُلم سے بھری تھی " (پیدایش 6باب11 آیت)۔ انسانیت میں ہو گزرنے والے پہلے قاتل قائن کی نسل خون ریزی میں بہت پیش پیش تھی۔ اُس دور کے لوگوں کے درمیان ایک اور بہت ہی بڑی بدی پُراسرار جنسی بے راہ روی تھی۔ پیدایش 6باب1-4 آیات نفلیم " قدِیم زمانہ کے سُورما ؤں" کا ذکر کرتی ہے جو گرائے گئے فرشتوں کے انسانی عورتوں کے ساتھ جنسی ملاپ کا نتیجہ تھے۔ وہ بد اَرواح جنہوں نے اِس گھناؤنے گناہ میں حصہ لیا اُنہیں "جہنم میں بھیج کر تاریک غاروں میں ڈال دیا" گیا"تاکہ عدالت کے دن تک حراست میں رہیں"(2 پطرس 2باب4 آیت)۔ وہ سب لوگ جنہوں نے ایسے گناہ میں حصہ لیا اور نفلیم بھی اُس طوفا ن میں تباہ ہو گئے۔سیلاب سے پہلے کے انسانوں کے بارے میں بائبل بیان کرتی ہےکہ اُن کے دِل بالکل سخت ہو چکے تھےا ور وہ تائب ہونے کے درجے سے گزر چکے تھے۔ اُس وقت زمین کے اوپر حالات اِس قدر خراب تھے کہ " خُداوند زمین پر اِنسان کو پَیدا کرنے سے ملُول ہُوا اور دِل میں غم کِیا " (پیدایش 6باب6 آیت)۔

لیکن اُس طوفان کے اندر ڈوبنے والے بچّوں کے بارے میں کیا ؟ حقیقت یہ ہے کہ گناہ سارے کے سارے معاشرے کو متاثر کرتا ہے نہ کہ صرف اُن لوگوں کو جو جان بوجھ کر بدی میں ملو ث ہوتے ہیں۔ جب کوئی معاشرہ اسقاطِ حمل کو فروغ دیتا ہے تو اُس کے نتیجے میں بہت سارے بچّے مرتے ہیں۔ جب کوئی ماں یا باپ نیند کی یا چُستی پیدا کرنے والی دُوا لینا شروع کرتے ہیں تو اُس کے نتیجےمیں بھی بچّے تکلیف اُٹھاتے ہیں۔ اور نوح کے دور کے لوگوں کے معاملے میں جب کوئی ثقافت یا معاشرہ اپنے آپ کو ظلم و تشدد اور مکروہ قسم کی جنسی بے راہ روی کے حوالے کر دیتا ہے تو اُس معاشرے کے بچّوں کو بھی تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے۔ اُس دور کی انسانیت در اصل خود پر اور اپنے بچّوں پر وہ طوفان لیکر آئی تھی۔

طوفانِ نوح بالکل واجب تھا کیونکہ ہر طرح کا گناہ ایک بڑا جرم ہوتا ہے ۔ "گناہ کی مزدوری موت ہے" (رومیوں 6باب23 آیت)۔ ہمیں اِس بات سے حیران نہیں ہونا چاہیے کہ خُدا نے پانی کے طوفا ن کے ذریعے سے اُس دور کے سبھی انسانوں کا صفایا کر دیا، بلکہ ہمیں اِس بات پر حیران ہونا چاہیے کہ اُس نے ایسا کچھ ہمارے ساتھ نہیں کیا ہے۔ گناہگار گناہ کو معمولی خیال کرتے ہیں ، لیکن ہر طرح کا گناہ موت کی سزا کے لائق ہے۔ ہم خُدا کی رحمت کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیتے اور خیال کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اِس لیے حاصل ہے کیونکہ ہم اِس کے مستحق ہیں۔ لیکن ہم خُدا کے انصاف کے بارے میں اِس طرح سے شکایت کرتے ہیں کہ جیسے وہ بالکل غیر منصفانہ عمل ہے اور جیسے کہ ہم اُس کے ہر گز مستحق نہیں ہیں۔

طوفانِ نوح بالکل واجب تھا کیونکہ خُالق کے پاس یہ حق موجود ہے کہ وہ اپنی مخلوقات کے ساتھ جو چاہے مرضی کرے۔ " آسمان اور زمین میں ۔ سمُندر اور گہراؤ میں خُداوند نے جو کُچھ چاہا وُہی کِیا" (135 زبور 6 آیت)۔

طوفان کی کہانی کا سب سے حیرت انگیز حصہ یہ ہے کہ " مگر نُوح خُداوند کی نظر میں مقبول ہُوا " (پیدایش 6باب8 آیت)۔ خُدا کے فضل نے تباہ حال، گناہ سے داغدار تخلیق کے اندر سرایت کی اور ایک شخص اور اُس کے گھرانے کو محفوظ رکھا۔ ایسا کرتے ہوئے خُدا نے سیت کی خُدا پرست نسل کے وسیلے سے پوری نسلِ انسانی کو محفوظ رکھا۔ اور جانداروں کو کشتی میں سوار کروانے کے وسیلے سے خُدا نے اپنی باقی تخلیق کو بھی محفوظ رکھا۔ پس خُدا کا فیصلہ ہر ایک چیز کو نیست و نابود کر دینا نہیں تھا، بلکہ خُدا کا فیصلہ چیزوں کو ایک نیا آغاز دینا تھا۔

ہمیشہ ہی کی طرح نوح کے دور میں بھی خُدا کی طرف سے کی گئی عدالت کے ساتھ اُس کا فضل بھی شامل تھا۔ " خُداوند خُدا خُدایِ رحیم اور مہربان قہر کرنے میں دِھیما اور شفقت اور وفا میں غنی۔ہزاروں پر فضل کرنے والا ۔ گُناہ اور تقصیر اور خطا کا بخشنے والا ہے " (خروج 34باب6-7 آیات)۔ خُدا تو یہ چاہتا ہے کہ گناہگار توبہ کرے اور جیتا رہے (حزقی ایل 18باب23 آیت)۔ خُدا نے چار سو سالوں تک عموریوں پر اپنی عدالت کو روکے رکھا (پیدایش 16باب16 آیت)۔ اگر سدوم کے اندر 10 راستباز بھی ہوتے تو خُدا اُن کی خاطر سدوم کو اپنی عدالت سے بچانے کے لیے تیار تھا (پیدایش 18باب 32 آیت)۔ لیکن حتمی طور پر اُس کی عدالت کا ہونا لازم ہے۔

نوح کو وہ کشتی بنانے میں سو سال سے زیادہ کا عرصہ لگ گیا تھا۔ ہم فرض کر سکتے ہیں کہ اگر دوسرے لوگ کشتی پر سوار ہو کر بچنا چاہتے تھے تو اُن کے پاس یہ انتخاب موجود تھا، لیکن اِس کے لیے ایمان کی ضرورت تھی۔ ایک بار جب خُدا نے دروازہ بند کر دیا تو تب تک بہت زیادہ دیر ہو چکی تھی۔ اُنہوں نے اپنا موقع کھو دیا تھا (پیدایش 7باب16 آیت)۔ یہاں پر اہم نکتہ یہ ہے کہ خُدا کبھی بھی پہلے لوگوں کو خبردار کئے بغیر اُنکی عدالت نہیں کرتا۔ جیسا کہ مفسرِ بائبل میتھیو ہنری نے کہا ہے کہ "کسی بھی شخص کو خُداکے انصاف کی وجہ سے سزا نہیں ملتی ، صرف اُنہی کو سزا ملتی ہے جو خُدا کے فضل کے وسیلے اپنی اصلاح پذیری سے نفرت کرتے ہیں۔"

نوح کے دور کا طوفان گناہ کی بالکل واجب سزا تھی۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ طوفانِ نوح خُدا کی طرف سے نا انصافی پر مبنی تھا، وہ دراصل خُدا کی عدالت کو سرے سے پسند ہی نہیں کرتے۔ نوح کی کہانی اِس بات کی ایک واضح یا د دہانی ہے کہ آپ پسند کریں یا نہ کریں خُدا کی طرف سے اِس دُنیا کی ایک اور عدالت ہونے والی ہے: "جیسا نُوح کے دِنوں میں ہُؤا وَیسا ہی اِبنِ آدم کے آنے کے وقت ہو گا" (متی 24باب37 آیت)۔ کیا آپ تیار ہیں یا پھر آپ بھی اُس عدالت میں تباہ ہو جائیں گے؟

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

نوؔح کےدَورمیں آنے والا طوفان کیونکر واجب تھا ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries