settings icon
share icon
سوال

کیا ارکانِ اسلام/دین اِسلام کے پانچ ستونوں کی پابندی مجھے جنت میں لے جا سکتی ہے؟

جواب


کیونکہ خدا راست ہے اس لیے وہ گناہ کی سزا ضرور دے گا- اس بات کے قطع نظر کہ آپ نےکتنے اچھے طریقے سے ارکانِ اسلام کی پیروی کی ہے ۔ بحیثیت مسلمان مرنے کے بعد آپ جنت میں جانے کے آرزو مند ہیں ۔ لیکن بطور گنہگارانسان آپ خدا کی عدالت سے کیسے بچ پائیں گے ؟ آپ کے دل میں خیال آ سکتا ہے کہ "ممکن ہے کہ ارکانِ اسلام کی پیروی کرنے میں میری وفاداری میرے گناہوں پر غالب آ جائے ۔اُمید ہے کہ جنت میں خدا مجھے قبول کر لے گا "۔

آپ اسلام کے پانچوں ارکان کی پیروی کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔آپ دن میں پانچ مرتبہ مکہ کی طرف رخ کر کے گھٹنے ٹیک کر نماز ادا کرتے ہیں ۔ عقیدہ (توحید ) اکثر آپ کے ہونٹوں پر ہوتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں آپ اپنے منہ میں روٹی کا نوالہ یا پانی کا گُھونٹ تک نہیں ڈالتے ۔ مکہ مکرمہ کی زیارت کےلیےآپ رقم جمع کرتے رہتے ہیں اور غریبوں کو دل کھو ل کر خیرات رہتے ہیں ۔

مگر اِس سب کے باوجود آپ سوال کرتے ہیں کہ" کیا ارکاِن اسلام کی پیروی کرنا کافی ہے ؟"

خدا کی پاکیزگی کے معیار پر پورا اُترنے میں ناکامی کے باعث آپ کا ضمیر آپ کو ملامت کرتا ہے۔مقدس خدا اُس شخص کو کیسے قبو ل کر سکتا ہے جس کی زندگی میں معمولی سا بھی گناہ ہو؟

صرف ایک گناہ پہلے انسان (آدم) کے زوال کا باعث بنا تھا ۔ آدم کا گناہ زنا، قتل یا کُفر کی طرح کا کوئی " بڑا گناہ " نہیں تھا ۔ مگرخدا کی طرف سے منع کردہ پھل کھانے کی وجہ سے آدم اس دنیا میں گناہ اور موت کی لعنت لایا تھا ۔

کیا ہم خدا کی عدالت سے فرار ہو پائیں گے ؟ہم جنہوں نے اپنے والدین کی بے عزتی کی ہے ،اپنے ہمسائیوں کے ساتھ جھوٹ بولا ہے یا اپنے گاہکوں سے دھوکا کیا ہے بچ پائیں گے؟ ہم محبت کرنے والے خدا سے زیادہ اپنے خود غرض مفادات کو ترجیح دینے کے ذریعے ہر روز گناہ کرتے ہیں (متی 22باب 36- 40آیات)۔ ہم بڑے فخر سے اپنے گناہوں کو نظرانداز کر دیتے یا بھول جاتے ہیں ۔ مگر خدا کسی گناہ کو نظرانداز نہیں کرتا یا بھولتا نہیں ۔ وہ ہر سوچ، لفظ اور فعل کا حساب لے گا (واعظ 12باب 14آیت؛ متی 12باب 36آیت؛ مکاشفہ 20باب 12-15آیات)۔

خدا راست منصف ہے ۔ حتیٰ کہ زمین پر موجود منصف کےلیے بھی ضروری ہے کہ مجرموں کو سزا دے ۔ ایک منصف ایک چور کو اس وجہ سے معاف نہیں کر سکتا کہ مجرم ہرجمعے کو مسجدمیں جانے اور رمضان کے دنوں میں روزے رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ اگر گناہ کو بغیر سزا کے چھوڑ دیا جائے تو قوانین کو نظرانداز کر دیا جائے گا اور خدا کے پاک نام کی رسوائی ہو گی ۔

خدا راستی سے انصاف کرنے والا ہے۔ وہ گنہگار کو سزا کے بغیر ہرگز نہ چھوڑے گااس بات کے قطع نظر کہ آپ خدا کے قوانین کی کتنے اچھے طریقے سے پیروی کرتے یا کتنے اچھے کام کرتے ہیں۔ اسلام کے پانچ ارکان کی پیروی کرنا آپ کو جنت میں نہیں پہنچا سکتا۔ کیونکہ خدا کے کلام کے مطابق آپ گنہگار ہیں (رومیوں3باب 23آیت ؛ 1یوحنا 1باب 8آیت )۔

ہمارے گناہوں کی واجب سزا موت یعنی جہنم کی ابدی سزا ہے ۔ ہم اصل میں جہنم کے حقدار ہیں ۔ ہم خدا کے رحم و کرم کے مختاج ہیں ۔ مگر خدا ایک ہی وقت میں رحیم اور راست دونوں کیسے ہو سکتا ہے ؟

بائبل بیان کرتی ہے کہ خدا کا رحم اُس کے انصاف کے تقاضے کو کیسے پورا کرتا ہے :" کیونکہ شریعت کے اعمال سے کوئی بشر اُس کے کے حضُور راستباز نہِیں ٹھہریگا۔ اِس لئے کہ شریعت کے وسیلہ سے تو گُناہ کی پہچان ہوتی ہے۔مگر اَب شریعت کے بغیر خُدا کی ایک راستبازی ظاہر ہُوئی ہے جس کی گواہی شریعت اور نبیوں سے ہوتی ہے۔یعنی خُدا کی وہ راستبازی جو یِسُوع مسیح پر اِیمان لانے سے سب اِیمان لانے والوں کو حاصِل ہوتی ہے کیونکہ کچھ فرق نہیں۔ "(رومیوں3باب 20-22آیات)۔

شریعت کی پیروی ہمیں آسمان پر نہیں لے کر جا سکتی ۔ بلکہ شریعت تو محض ہمارے گناہوں کو عیاں کرتی ہے ۔ خدا کا انصاف گنہگار کےلیے جہنم کی موت کا تقاضا کرتا ہے مگر اُس کا رحم یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہے : " کیونکہ گُناہ کی مزدُوری مَوت ہے مگر خُدا کی بخشش ہمارے خُداوند مسیح یِسُوع میں ہمیشہ کی زِندگی ہے۔" (رومیوں6باب 23آیت)۔

خدا کے ابدی بیٹے کی حیثیت سے یسوع خدا باپ کے ساتھ ایک ہے۔ خدا نے اپنے بیٹے کو زمین پر بھیجا تاکہ وہ انسان بنے لیکن تجسم کی صورت میں بھی یسوع الوہیت سے کبھی خالی نہیں تھا ۔ رُوح القدس کی قدرت سے کنواری مریم کے وسیلہ سے پیدا ہونے کے باعث یسوع کی ذات میں آدم کا موروثی گناہ نہیں تھا ۔ یسوع آدمِ ثانی کہلاتا ہے (1کرنتھیوں15باب 22آیت)۔آدم کی ایک نافرمانی دنیا پر گناہ کی لعنت لا ئی جبکہ یسوع کی کامل زندگی اُن سب کو فردوس کی اُمید بخشتی ہے جواُس پر ایمان لاتے ہیں ۔

یسوع نے گنہگاروں کی خاطر صلیب پر جان دینے کے ذریعے گناہ کی سزا –موت کو اُٹھا لیا ہے ۔ اس کے بعد مُردوں میں سے جی اُٹھنا یسوع کی گناہ اور موت پر فتح مندی کو ظاہر کرتا ہے ۔

اپنے آپ میں گناہ کےلیے فکر مند ہونا چھوڑ دیں ۔حتیٰ کہ اسلام کے پانچوں ارکان(توحید ،نماز، روزہ، حج اور زکواۃ) کی پابندی کے باوجود آپ خدا کے معیار پر پورا نہیں اُترپائیں گے ۔ توبہ کے وسیلہ سے گناہوں سے بازآئیں اور یسوع مسیح پر ایمان لائیں (لوقا 24باب 46-47آیات؛ افسیوں 2باب 8- 9آیات؛ رومیوں3باب 21-31آیات؛ گلتیوں 3باب 6-14آیات)۔ خدا ایمان لانے والے گنہگاروں کومعاف کرتا اور فردوس میں ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہے ۔

ہو سکتا ہے کہ خدا آپ کے دل میں کام کر رہا ہوں تاکہ آپ کے گناہ اور یسو ع مسیح کے وسیلہ سے نجات کی ضرورت کو آپ پر ظاہر کرے ۔ خدا کی طرف سے ابدی زندگی کے تحفے کو قبول کریں!۔ یسوع پر اپنے مصلوب نجات دہندہ کی حیثیت سے ایمان لائیں اور اپنے جی اُٹھے خداوند کے طور پر اُس کی پیروی کریں!

جو کچھ آپ نے یہاں پر پڑھا ہے کیا اُس کی روشنی میں آپ نے خُداوند یسوع کی پیروی میں چلنے کا فیصلہ کیا ہے؟اگر ایسا ہے تو براہِ مہربانی نیچے دئیے ہوئے اُس بٹن پر کلک کیجئےجس پر لکھا ہوا ہے کہ "آج مَیں نے مسیح کو قبول کرلیا ہے۔"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ارکانِ اسلام/دین اِسلام کے پانچ ستونوں کی پابندی مجھے جنت میں لے جا سکتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries