settings icon
share icon
سوال

کیا جہنم واقعی ایسی جگہ ہے جہاں پر آگ اور گندھک ہے؟

جواب


سدوم اور عمورہ کے شہروں پر آگ اور گندھک برسانے کے بعد خُدا نے نہ صرف اِس بات کا مظاہر ہ کیا کہ گناہ کے بارے میں اُس کے کیا احساسات ہیں، بلکہ اُس نے ایک پائیدار استعارے کو بھی متعارف کروایا۔ پیدایش 19باب24 آیت میں محض آگ، گندھک، سدوم اورعمورہ کا ذکر پڑھ لینے سے ہی قاری کے ذہن میں فوراً ہی خُدا کی طرف سے عدالت کا منظر آ جاتا ہے۔ تاہم جذباتی لحاظ سے ایسی طاقتور علامت اپنی ہی کششِ ثقل میں پھنس کر رہ جاتی ہے۔ ایسا آتشین منظر اِس علامت کے پیش کئے جانے کے مقصد کو آگے بڑھانے کی بجائے اُس مقصد کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ کسی علامت کو دو غیر مماثل چیزوں کے درمیان پائی جانے والی مماثلت کو ظاہر کرنا چاہیے۔ آگ اور گندھک کسی حد تک اِس بات کو بیان کرتے ہیں کہ جہنم کیسی ہے -لیکن یہ اِس چیز کو نہیں بیان کرتے کہ جہنم اصل میں ہے کیا۔

بائبل آگ سے دہکتی ہوئی جہنم کو بیان کرنے کے لیے جس لفظ کا استعمال کرتی ہے وہ -Gehenna- ہے جو ایک حقیقی طور پر آگ سے دہکتی ہوئی جگہ گیہینا کی وادی سے ماخوذ ہےجو یروشلیم شہر کے جنوب میں اُس کے ساتھ ہی تھی۔ گیہینا ایک ارامی لفظ ہے جس کی نقلِ حرفی یونانی میں اور پھر انگریزی زبان میں کی گئی۔ اور یہ ارامی لفظ "بن ہنوم کی وادی"سے لیا گیا ہے۔ اپنی بڑی ترین برگشتیوں میں سے ایک کے دوران (خاص طور پر آخزاور منسی بادشاہ کے دور حکومت میں )اُس وادی کے اندر مولک دیوتا کے سامنے قربانی گزارنتے ہوئے اپنے بچّوں کو اِسی وادی میں آگ کے اوپر چلوایا تھا (2 سلاطین 16باب3 آیت؛ 2 تواریخ 33باب6 آیت؛ یرمیاہ 32باب35 آیت)۔ پھر بالآخر یہودیوں نے اُس مقام کو رسمی طور پر ناپاک قرار دے دیا (2 سلاطین 23باب10 آیت)، اور اُنہوں نے مجرموں کی لاشوں کو اِن آگ سے سلگتے ڈھیڑوں پر پھینک پھینک کر اِسے مزید ناپاک کر دیا۔ خُداوند یسوع کے دور میں بھی یہ آگ سے سلگتے ڈھیر کی جگہ تھی ، لیکن اِس سے بھی بڑھکر یہ فضلات کاڈھیر تھا ، یعنی ‏انسانوں کی طرف سے رَد کی جانے والی سبھی چیزوں کا آخری ٹھکانا تھا۔ جس وقت یسوع نے گیہینا کی بات کی تو وہ اپنی بات سے شہر سے باہر آگ سے سلگتے ڈھیر کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ جی ہاں، آگ اِس کا حصہ تھی، لیکن با مقصد طور پر وہاں پر فضلات کا پھینکا جانا -علیحدگی، نقصان -بھی اِس کا حصہ تھا۔

مرقس 9باب43 آیت میں خُداوند یسوع نے جہنم کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے ایک اور طاقتور تصویر کشی کی ہے۔ " اور اگر تیرا ہاتھ تجھے ٹھوکر کِھلائے تو اُسے کاٹ ڈال ۔ ٹُنڈا ہو کر زِندگی میں داخِل ہونا تیرے لئے اِس سے بہتر ہے کہ دو ہاتھ ہوتے جہنّم کے بیچ اُس آگ میں جائے جو کبھی بجھنے کی نہیں۔ "زیادہ تر قارئین کے لیے یہ تصویر اپنی کششِ ثقل کے دائرے سے نکل جاتی ہے باوجود اِس پیغام کے بہت سخت ہونے کے۔ بہت کم لوگوں کا خیال ہے کہ خُداوند یسوع یہ چاہتا تھا کہ ہم حقیقت میں اپنا ہاتھ کاٹ دیں۔ لیکن یہاں پر استعمال ہونے والی زبان کا اصل مقصد یہ موازنہ پیش کرنا ہےاور اِس کی بدولت خُداوند یسوع چاہتا ہے ہم جہنم سے بچنے کے لیے جو بھی ضروری ہو وہ کریں۔ چونکہ عبارت کا پہلا حصہ تشبیہات کا استعمال کرتا ہے،دوسرا حصہ بھی ایسا ہی کرتا ہےاِس لیے یہاں پر بیان کردہ معلومات کو جہنم کے بارے میں انسائیکوپیڈیا جیسی معلومات نہیں خیال کیا جانا چاہیے۔

نئے عہد نامے میں آگ کے علاوہ جہنم کو اتھاہ گڑھا (مکاشفہ 20باب3 آیت)، ایک جھیل (مکاشفہ 20باب 14 آیت)، تاریکی (متی 25باب30 آیت، موت (مکاشفہ 2باب11 آیت)، ابدی ہلاکت(2 تھسلنیکیوں 1باب9 آیت)، ہمیشہ کا عذاب((مکاشفہ 20باب10 آیت) ، رونے اور دانت پیسنے کی جگہ (متی 25باب30 آیت) اور ابدلآباد عذاب کی جگہ کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ اب چونکہ جہنم کے بارے میں ملنے والے بیانات کے اندر اِس کی تشریح بہت سے مختلف چیزوں کی مثالوں کے ساتھ کی گئی ہے اِس لیے ہم کسی ایک ہی چیز کا اطلاق کر کے جہنم کو بیان نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پرجہنم کی آگ حقیقت میں روشنی خارج نہیں کر سکتی کیونکہ جہنم میں حقیقی تاریکی ہوگی۔ اِس کی آگ اپنے ایندھن(انسانوں) کو حقیقت میں جلا کر راکھ نہیں کرتی ہوگی، کیونکہ اُن کا عذاب کبھی ختم نہیں ہوتا۔ مزید برآں جہنم کے اندر سزاؤں کی درجہ بندی بھی لغویت کو ختم کرتی ہے۔ کیا جہنم کی آگ ہٹلر کو ایک دیانتدار غیرنجات یافتہ شخص سے زیادہ سختی کے ساتھ جلائے گی؟کیا ہٹلر اپنے سے بہتر انسان کے مقابلے میں زیادہ دفعہ اُس عذاب میں گرے گا؟کیا وہاں ہٹلر کے لیے زیادہ تاریکی ہے؟کیا ہٹلر کے لیے اُس گڑھےکی گہرائی زیادہ ہے؟کیا وہ دوسروں سے زیادہ زور سے روتا اور زیادہ زور سے اپنے دانت پیستا ہے؟اتنی زیادہ مختلف چیزیں اور جہنم کی تشبیہی نوعیت جہنم کو اُس کی اصل حالت سے کم نہیں کرتی، بلکہ اِس کے برعکس کچھ ہونا زیادہ سچائی کے قریب ہو سکتا ہے۔ اِن سب چیزوں کو جب اکٹھا کیا جائے تو اِن کا مرکبی اثر جہنم کو موت سے بدتر، تاریکی سے زیادہ تاریک تر، گہرائی سے زیادہ اتھاہ /گہرا بنا دیتا ہے۔ جہنم کی جو تصویر کشی کی گئی ہے اُس کے مطابق وہ حد سے زیادہ رونے اور دانت پیسنے کا مقام ہے۔ جہنم کے علامتی بیانات ہمیں ایک ایسی جگہ پر لے جاتے ہیں جسے ہماری زبان کی حدود و قیود میں بیان کرنا نا ممکن ہے -ایک ایسی بد ترین جگہ جس کا ہم کبھی مکمل طور پر تصور بھی نہیں کر سکتے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا جہنم واقعی ایسی جگہ ہے جہاں پر آگ اور گندھک ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries