"خُدا کا خوف رکھنے کا کیا مطلب ہے؟



سوال: "خُدا کا خوف رکھنے کا کیا مطلب ہے؟

جواب:
غیر ایماندار کے لیے خُدا کا خوف ابدی ہلاکت اور خُدا کی عدالت کا خوف ہے جو کہ خُدا سے ابدی جُدائی ہے (لوقا۵:۱۲؛عبرانیوں۳۱:۱۰)۔ ایماندار کے لیے خُدا کا خوف کچھ مختلف ہے۔ خُدا کی عزت و احترام ایماندار کے لیے اُس کا خوف ہے۔ عبرانیوں ۲۸:۱۲۔۲۹ اِس کی اچھی وضاحت ہے: "پس ہم وہ بادشاہی پا کر جو ہلنے کی نہیں اُس فضل کو ہاتھ سے نہ دیں جس کے سبب سے پسندیدہ طور پر خُدا کی عبادت خُدا ترسی اور خوف کے ساتھ کریں۔کیونکہ ہمارا خُدا بھسم کرنے والی آگ ہے"۔حقیقت میں مسیحیوں کے نذدیک یہ خُدا ترسی اور خوف ہی خُدا کا ڈر ہے۔ کائنات کے خالق کو تسلیم کرنے کے لیے یہ ایک ترغیبی عنصر ہے۔

امثال ۷:۱ میں مرقوم ہے "خُدا کا خوف علم کا شروع ہے"۔ جب تک ہم یہ نہیں سمجھتے کہ خُدا کون ہے اور ہم اُس کے تعظیمی خوف کو فروغ نہیں دیتے، ہم حقیقی حکمت نہیں پا سکتے۔ حقیقی حکمت صرف اِس بات کو سمجھنے میں آتی ہے کہ خُدا کون ہے اور وہ پاک ، راست،اور نیک ہے۔ اِستثنا ۱۲:۱۰؛۲۰۔۲۱ میں قلمبند ہے "پس اے اِسرائیل! خُداوند تیرا خُدا تُجھ سے اِس کے سوا اور کیا چاہتا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کا خوف مانے اور اُس کی سب راہوں پر چلےاور اُس سے محبت رکھےاور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے خُداوند اپنے خُدا کی بندگی کرے۔ تُو خُداوند اپنے خُدا کا خوف ماننا۔ اُس کی بندگی کرنا اور اُس سے لپٹے رہنا اور اُسی کے نام کی قسم کھانا۔ وہی تیری حمد ہے اور وہی تیرا خُدا ہے جِس نے تیرے لیے وہ بڑے اور ہولناک کام کِئے جن کو تُو نے اپنی آنکھوں سے دیکھا"۔ خُدا کا خوف ہی خُدا کے راستوں پر چلنے، اُس کی بندگی کرنے اور ہاں اُس سے محبت کرنے کی بنیاد ہے۔

کچھ لوگ ایمانداروں کے لیے خُدا کے خوف کی وضاحت "خُدا کےاحترام" کے معنوں میں کرتے ہیں۔ اگرچہ عزت و احترام واضح طور پر خُدا کے خوف کے میں شامل ہے۔ لیکن حقیقت میں خُدا کا خوف اِس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ بائبل کے مطابق ایمانداروں کے لیے خُدا کا خوف اِس دانشمندی پر مشتمل ہے کہ خُدا گناہ سے عداوت رکھتا ہے اور گناہ کی وجہ سے خُدا کی عدالت کا خوف یہاں تک کہ ایمانداروں کی زندگی میں بھی موجود رہتا ہے۔ عبرانیوں۵:۱۲۔۱۱ میں مرقوم ہے کہ خُدا ایمانداروں کی تربیت کرتا ہے۔ اگرچہ یہ تربیت محبت میں کی جاتی ہے (عبرانیوں۶:۱۲) پھر بھی یہ خوفناک بات ہے۔ بچوں کے طور پر، اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے والدین کا خوف ہمیں کچھ غلط کاموں سے روکتا ہے۔ یہی چیز خُدا کے ساتھ رشتہ میں ہونی چاہیے۔ہمیں اُس کی تربیت کا خوف ہونا چاہیے، اور اس لیے ہماری زندگیاں ایسے راستے کی تلاش کریں جس میں اُس کی خوشنودی ہو۔

ایماندار خُدا سے ڈر کر نہیں بھاگتے۔ اُس سے ڈر کر بھاگنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہمارے پاس اُس کا وعدہ ہے کہ ہمیں کوئی چیز اُس کی محبت سے جُدا نہیں کر سکتی (رومیوں۳۸:۸۔۳۹)۔ ہمارے پاس اُس کا وعدہ ہے کہ وہ ہم سے کبھی دست بردار نہیں ہو گا اور نہ ہمیں کبھی چھوڑے گا (عبرانیوں۵:۱۳)۔ خُدا سے ڈرنے کا مطلب اُس کے لیے عزت و احترام رکھنا ہے جس کا اثر ہماری زندگیوں اور چال چلن پر ہوتا ہے ۔ خُدا کا خوف اُس کی عزت و تکریم کرنا ، فرمانبرداری کرنا، اُس کی تربیت کو تسلیم کرنا، اور خوف کے ساتھ اُس کی پرستش کرنا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



"خُدا کا خوف رکھنے کا کیا مطلب ہے؟